منگل , 24 نومبر 2020
ensdur

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا طریقہ ہے کہ اس کی فوج کو اس کی عوام کی نظروں میں اتنا بے اعتبار بنا دو کہ وہ خود ہی شکست فاش ہو جائے۔
یہ قول میرے ملک کے سیاستدانوں پر صحیح آتا ہے. پہلے نواز شریف کی تقاریر میں سپہ سالار کو نام لیکر للکارا گیا بعدازاں علم ہوا کہ زبان پھسل گءی، پھر مولانا فضل الرحمن نے اداروں پر تنقید کی علم ہوا کہ زبان پھسل گءی تھی، احمد شاہ نورانی نے بلوچستان آزاد کروانے کی بات کی تو ماصواف کی زبان پھسل گءی تھی. اسی طرح ایاز صادق اور خواجہ آصف نے بھی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا مگر ان کی بھی زبان پھسل گءی تھی. مجھے تو یہ زبان کا پھسلنا نہیں لگتا ان کا دماغ جگہ پر نہیں رہا۔
میں حیران ہوں کہ یہ زبان اس وقت کیوں نہیں پھسلتی جب انہیں اقتدار میں لایا جاتا ہے، تب ان کے چور، کرپٹ لیڈر فوج کے سربراہ کا نام لیکر کیوں نہیں للکارتے، اس وقت ان کو بلوچستان کی آزادی کا خیال کیوں نہیں آتا……. اس وقت ان کو اقتدار کی بو میں سب اچھا لگ رہا ہوتا ہے مگے جیسے ہی یہ کرپشن کے جرم میں نااہل ہوجاتے ہیں اپنی دھرتی سے غداری کرتے ہیں۔

پروین شاکر نے کیا خوب کہا
تہمت لگا کر ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو تو مر جانا چاہیئے

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان کی نااہلی کے پیچھے فوج کا ہاتھ کیسے ہے؟ چوری یہ کریں، کرپشن کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، نااہل یہ ہوں، مفرور یہ ہوں مگر چوری چھپانے کیلئے فوج کو تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں
کبھی یہ لوگ فوج پر ان کا خون پینے کا الزام لگاتے ہیں، کبھی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے تو کبھی یہ کہتے ہیں کہ ابھی نندن کی رہائی کے معاملے پر فوج کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں یا ہمارے وزراء اور عسکری قیادت پسینہ میں شرابور تھی۔
یعنی 27 فروری 2019 کو جو جیت پاکستان کی تھی اسے اتنا متنازعہ بنا دیا ہے ہمارے سیاست دانوں نے کہ بھارتی میڈیا خوشی سے پاگل ہو رہا ہے. اگر ہم واقعی اتنا ڈر رہے تھے تو پائلٹ حسن صدیقی نے کیوں جہاز گرایا؟ اس کی ٹانگیں کیوں نہیں کانپیں اس وقت؟
اگر ہماری عسکری اور سول قیادت پسینہ سے شرابور تھی تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیوں اور کیسے اتنی سخت الفاظ میں پریس کانفرنس کی تھی؟
کیوں ہم نے اتنی بہادری سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کو دکھایا اگر ہمیں اتنا ہی ڈر ہوتا تو ہم ان کا پائلٹ کیوں گرفتار کرتے؟ اور اگر بالفرض گرفتار کر بھی لیا تھا تو اسے دنیا کے سامنے کیوں لایا؟ ہم تو ڈر رہے تھے تو یہ سب کس نے کیا؟
اگر ہماری فوج اتنی ہی ڈرپوک ہے کہ اس کی ٹانگیں کانپتی ہیں تو پھر کس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور اسے کامیابی سے اختتام تک پہنچایا. اگر واقعی دشمن کے خوف سے یہ پسینہ میں شرابور ہو جاتے ہیں تو ایک سپاہی سے لیکر ایک جرنیل تک کیسے ہر دم وطن کی خاطر شہید ہونے کو تیار رہتا ہے؟
ایاز صادق اور خواجہ آصف کو شاید اس وقت حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا اگر جنگ کا آغاز ہوجاتا تو دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس. اس کا انجام کیا ہوتا سوچ بھی نہیں سکتے مگر انہیں کیا یہ تو مفرور ہونے میں ماہر ہیں
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کیا ہے؟
“Any person who abrogates or subverts or suspends or holds in abeyance, or attempts or conspires to abrogate or subvert or suspend or hold in abeyance, the Constitution by use of force or show of force or by any other unconstitutional means shall be guilty of high treason.”
کوئی بھی فرد جو منسوخ کرتا ہے یا سرعام ہوتا ہے یا معطل یا روک تھام کرتا ہے ، یا اس کو منسوخ کرنے یا منسوخ کرنے یا نظرانداز کرنے کی کوشش کرتا ہے یا دستبرداری کرتا ہے ، آئین کو طاقت یا طاقت کے استعمال سے یا کسی اور غیر آئینی ذرائع سے غداری کا مجرم قرار دیا جائے گا۔
ایاز صادق نے پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 63 میں بہت واضح پیغام ہے کہ
“Article 63 stipulates that disqualifications may be made on the basis of a person having been: (i) ‘[convicted] for propagating any opinion, or acting in any manner, prejudicial to the ideology of Pakistan, or the sovereignty, integrity or security of Pakistan…”
اگر ہم آئین کی اس شق سے دیکھیں تو ایاز صادق تو نااہل ہو سکتے ہیں مگر ابھی تک اس بات پر عمل نہیں کیا گیا. معلوم نہیں کہ حکومت مزید کتنے ہی ایاز صادق کے انتظار میں ہے۔
PDM اور PTM  ایک ہی نظریہ پر عمل پیرا ہے اور اس کا نتیجہ ہم نے ملکر دیکھ لیا ہے اگر ایسے ہی رہا تو غداروں سے ملک بچانا ناممکن ہے کیونکہ یہ اپنی فطرت نہیں چھوڑ سکتے. ڈان لیکس، نواز شریف کے متنازعہ انٹرویوز، مریم نواز کیپٹن صفدر کی اداروں پر تنقید اسی سلسلہ کی کڑی ہے. یہ سب ملکی سالمیت کیلیے خطرہ ہیں کیونکہ ان کے ہی کارکنوں کے مطابق ابھی مزید راز بھی ہیں ان کے پاس یہ غدار ہیں اور انسان بیرونی دشمن سے تو نبرد آزما ہو سکتا ہے مگر اندرونی دشمن سے مقابلہ کرنا نا ممکن ہوتا ہے. یہ بھی ہمارے اندرونی دشمن ہیں جس سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا مگر اب ہمت کرنا پڑے گی ورنہ بیرونی دشمن خوشی کے گیت گائے گا اور اس کے علاوہ پاکستان میں الطاف حسین، نواز شریف، اور ایاز صادق کتنے ہی مزید لوگ جنم لیں گے جن کا اولین مقصد اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے ہوگا. صرف معافی نہیں یہاں تو موت کی سزا سنائی جائے تاکہ ہماری افواج کے خلاف بولنے والوں کی ٹانگیں کانپیں اور وہ پسینہ میں شرابور ہو جاءیں اور اگلی مرتبہ زبان کے پھسلنے کا بہانہ نہ بنائیں اور بولنے سے پہلے سو مرتبہ سوچیں۔

اس کے علاوہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی طرز پر آپریشن ردالغدار وطن شروع کیا جائے تاکہ پاکستان میں امن و سکون ہو سکے۔
پاکستان زندہ باد
پاکستان آرمی پائندہ باد
اللہ حمارا حامی و ناصر ہو آمین۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار کا مرد اہلکاروں پر ہراسانی کا الزام

کراچی میں محکمہ اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار نے ادارے کے اکاؤنٹینٹ اور دیگر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے