جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

Great People To Fly With

تحریر: لاریب مشتاق

قائد اعظم نے 1946 میں اس ایئرلائن کی بنیاد رکھی.
مارچ 1962 میں اس وقت کی امریکی خاتون اول جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے سے لندن سفر کیا تھا. اس وقت پی آئی اے کے کھانے، فلائٹ سروس اور عملے کی پیشہ وارانہ مہارت سے ہو کر انہوں نے پی آئی اے کیلئے
“Great People To Fly With” کا جملہ کہا تھا.
1959-1965 تک پی آئی اے کے ایئر کمانڈر ان چیف نور خان نے پی آئی اے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا. ان کے 6 سالوں میں پی آئی اے کا ایشیاء کی معروف ترین اور دنیا کی پانچویں بہترین ایئر لائنز میں شمار ہونے لگا.
1985 میں امارات کی ہوائی کمپنی کے قیام میں اس ایئرلائن کا اہم کردار تھا یہ  دنیا کی پہلی ایئر لائن تھی جس نے جہازوں کے اندر فلموں کا سلسلہ متعارف کروایا تھا لوگ اس میں سفر کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے پی آئی اے کے جہازوں پر پاکستانی پرچم نے پاکستان کے کلچر کو دنیا بھر میں متعارف کروایا. مجھےسمجھ نہیں آتی کہ اتنی عظیم اور بہترین پی آئی اے کو کس کی نظر لگ گئی؟ پی آئی اے میں سفارشی بھرتیوں کا سلسلہ تو 1990 سے ہی شروع ہو گیا تھا مگر کسی بھی حکمران نے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی اور اگر دی بھی تو ان سفارشوں کو مزید مضبوط کیا  سیاسی مداخلت سے ہی تو پی آئی اے کا آج یہ حال ہے. پی آئی اے کے کل جہازوں کی تعداد 30 سے زائد ہے اور ان 30 جہازوں کے لیے تقریباً 15000 ملازمین کی فوج موجود ہے. ان 30 جہازوں میں بھی کچھ طیارے پرواز کے قابل نہیں ہے اس لیے گراؤنڈ کیے ہوئے ہیں.

سیاسی بھرتیاں عروج پر ہے اور اس کے ساتھ نااہلی. سیاست دانوں کی ڈگریاں جعلی ہیں مگر پائلٹ بھی جعلی ڈگری والے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے خود اقرار کیا کہ چالیس فیصد پاءلٹس کی ڈگریاں جعلی ہے مطلب کے اپنی سیاست چمکانے کے لیے سب نے اپنا کردار ادا کیا.
اگر حادثے کا شکار کوئی ہوا ہے تو ان کا کیا ان کی بلا سے عوام جائے قبر میں ویسے بھی ان کے بقول “سکون صرف قبر میں ہے.”
عوام مرتی ہے تو مرے ان  کا کیا کل ان کی حکومت ختم ہو گی اگلے دن کوئی اور آجائے گا. ابھی کراچی حادثے کی مثال لیں کے پی کے 8303 کے کپتان  سجاد گل تھے جن کی ذہنی صحت پی آئی اے کی جانب سے جہاز اڑانے کیلئے نامناسب قرار دی گئی مگر سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ان کو بطور پائلٹ دوبارہ بحال کیا گیا نتیجہ کیا نکلا ہے. 98 اموات خود کپتان صاحب بھی اس کا شکار ہوئے، مگر افسوس اس بات کا اس کے خلاف کسی نے ایکشن نہیں لیا… اس کے علاوہ بھی اس ایئرلائن کے کارنامے ہیں…
2016 میں پی آئی اے کی ہی ائیرہوسٹس دو کلو گرام سونا لاہور سے ایک نیویارک سمگل کرتے ہوئے گرفتار کی گئی.
2019 میں ایک اور اسمگلنگ کا واقعہ سامنے آیا جب بیس لاکھ مالیت کا سونا ایک ایئرہوسٹس اسلام آباد سے اسمگل  کر رہی تھی.
اس کے علاوہ گندا کھانا عملے کا بدتمیزی کرنا اور چوہوں کا انسانوں کے ساتھ جہاز میں سفر کرنا اس ایئر کمپنی کا خاصہ ہے.
کہاں  وہ دنیا کی پانچویں بہترین ایئرلائن اور کہاں آج کی؟نقصان میں ڈوبی ہوئی پی آئی اے؟
کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے”.
واقعی سیاست ہر فتنہ ہر بیماری اور ہر نقصان کی جڑ ہے جب تک پی آئی اے سے یہ سیاسی کلچر ختم نہیں ہوگا تب تک پی آئی ہے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی نہیں ہو سکے گی.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کہانی۔۔۔۔۔۔ | نواب علی راہو

تحریر: نواب علی راہو بڑھتے جائیں ہم سیلانی، جیسے اک دریا طوفانی یہ 2016ء کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے