اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

8 اگست 2016 کا دن | عصمت اللہ شاہ مشوانی

تحریر: عصمت اللہ شاہ مشوانی
اُس دن بھی ایک نارمل دن کی طرح صبح کا آغاز ہوا سب اپنے کام کے طرف جانے کی تیاری کرنے لگیں. کوئی اپنے مزدوری کے لیے گھر سے نکلا تو کوئی آفس کے لیے گھر سے نکلا 8 اگست 2016 کا دن کوئٹہ کے عوام کے لیے اس وجہ سے سیاہ دن قرار دیا جاتا ہے کہ اُس دن کوئٹہ کے عوام نے اپنے بہت سے پیاروں کو آخری بار دیکھا یہاں کے عوام نے قیامت سے پہلے قیامت دیکھا واقعہ کچھ یو تھا کہ جب صدر بلوچستان بار ایسوسیشن بلال انور کاسی گھر سے اپنے آفس کے لیے نکلیں تو راستے پر موجود دہشتگردوں نے کوئٹہ کے مینگل چوک منوجان روڈ پر فائرنگ شروع کی اور صدر بلوچستان بار ایسوسیشن کو شہید کردیا اور دہشتگرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ایمبولینس میں بلال انور کاسی کی لاش کو کوئٹہ کے سول ہسپتال پہنچایا گیا عین اُسی وقت جب لاش ہسپتال پہنچایا گیا تو کوئٹہ کے وکلا کی ایک بہت بڑی تعداد احتجاجن اور لاش دیکھنے کے لیے کوئٹہ کے سول ہسپتال پہنچ گئی. میڈیا کے نمائندے بھی جائے واقعہ پر پہنچ گئے تھے لیکن دوسری جانب ایک دکھ کی بات یہ تھی کی ایک خطرناک دہشتگرد وکلا کے ڈریس میں وکلا کے درمیان موجود تھا اور اُس دہشتگرد نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک زور دار خودکُش حملہ کردیا اس حملے سے ایک ہی جٹکے میں صوبہ بلوچستان کے 50 سے زائد سینئر وکیل اور 20 سے زائد عوام شہید ہوئی واقعہ میں 130 سے زائد وکلا اور لوگ زخمی بھی ہوئے خودکُش حملے میں نجی ٹی وی کے 2 جرنلسٹ بھی شہید ہوئے. حملے کے بعد ہر کوئی اپنی جان بجانے کے لیے دوڑ رہے تھے سکیورٹی فورسز نے جائے واقعہ کو چاروں طرف سے اپنے کنٹرول میں لیں لیا اور بنیادی کاروائی کرکے زخمیوں اور شہیدوں کو اُٹھایا گیا زخمیوں کا علاج کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں جاری کیا. بلال خان کاسی پر فائرنگ کا واقعہ تحریک طالبان پاکستان نے قبول کیا اور سول ہسپتال کا واقعہ کی زمیداری جماعت الحرار نے قبول کی.
بی ڈی ایس سکورڈ نے بتایا کہ خودکُش حملے میں تقریباً 8 سے 9 کلوگرام کا بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا.  وزیراعظم پاکستان نواز شریف ، صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ، وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی ، نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کی. واقعہ کے فوراً بعد چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان جنرل راحیل شریف کوئٹہ کے سول ہسپتال پہنچ گئے زخمیوں کی عیادت کی اور انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کے ہر واقعے کو ناکام بنائینگے اور بہت جلد پاکستان سے دہشتگردی کا خاتما ہوگا. حملے میں شہید ہونے والیے وکلا کے نام درج ذیل ہے
ایڈوکیٹ بلال انور کاسی ،  ایڈوکیٹ باز محمد کاکڑ ، ایڈوکیٹ غنی مشوانی ، ایڈوکیٹ چاکر رند ، ایڈوکیٹ قادر شاہ ، ایڈوکیٹ عدنان کاسی ، ایڈوکیٹ داود کاسی ، ایڈوکیٹ گل زرین کاسی ، ایڈوکیٹ اصغر خان اچکزئی ، ایڈوکیٹ سنگت جمالدینی ، ایڈوکیٹ جمال عبدالنصیر ، ایڈوکیٹ قازی بشیر ، ایڈوکیٹ غلام محمد ، ایڈوکیٹ جمیل الرحمان قازی ، ایڈوکیٹ ملک وزیر کاسی ، ایڈوکیٹ قیصر شیرانی خان ، ایڈوکیٹ محمد عمران شیخ ، ایڈوکیٹ رحمت خروٹی ، ایڈوکیٹ میر محمود احمد لہڑی ، ایڈوکیٹ محمد سلیم بٹ ، ایڈوکیٹ بشیر احمد زہری ، ایڈوکیٹ سید غنی جان آغا ، ایڈوکیٹ نصیر لانگو ، ایڈوکیٹ محب اللہ ، ایڈوکیٹ نور الدین رخشانی ، ایڈوکیٹ منظر صدیق ، ایڈوکیٹ نور اللہ کاکڑ ، ایڈوکیٹ منیر احمد مینگل ، ایڈوکیٹ نقیب اللہ ترین ، ایڈوکیٹ محمد ایوب سدوزئی ، ایڈوکیٹ عطاء اللہ کاکڑ ، ایڈوکیٹ حفیظ اللہ مینگل ، ایڈوکیٹ حفیظ اللہ مندوخیل ، ایڈوکیٹ محمد اشرف سولیری ، ایڈوکیٹ بشیر احمد کاکڑ ، ایڈوکیٹ عین الدین ناصر ، ایڈوکیٹ سید ضیاء الدین ، ایڈوکیٹ غلام حیدر کاکڑ ، ایڈوکیٹ ایمل خان وطن یار ، ایڈوکیٹ عبداللہ اچکزئی ، ایڈوکیٹ محمد علی ساتکزئی ، ایڈوکیٹ سرفراز شیخ ، ایڈوکیٹ عبدالناصر کاکڑ ، ایڈوکیٹ وقاص خان جدون ، ایڈوکیٹ تیمور شاہ کاکڑ ، ایڈوکیٹ آرطور وکٹر ، ایڈوکیٹ شیر گل داوی ، ایڈوکیٹ فیروز خان ، ایڈوکیٹ صابر علی ، ایڈوکیٹ غلام فاروق بادینی ، ایڈوکیٹ امان اللہ لانگو ، ایڈوکیٹ فیض اللہ سرپراہ ، ایڈوکیٹ غوث الدین ، ایڈوکیٹ عبدالرشید شامل تھے.
صوبہ بلوچستان نے ایک ہی دن میں اپنے سینئر وکلا کے جنازے اٹھائے ہے. جنہوں نے اِس صوبے کے لیے اپنی خدمات سرانجام دی تھی. اس مُلک سے دہشتگردی کا خاتما کرنے کیلئے وطن نے اپنے بہت سے پیاروں کی قربانی پیش کی ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے