جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

65 کی جنگ کے کچھ تلخ حقائق | افضال چوہدری ملیرا 

تحریر: افضال چوہدری ملیرا
اس تحریر کا مقصد پاکستانی فوجی جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے پردہ اٹھانا ہے کہ 65ء کی جنگ کے بیج بھارت نے نہیں بلکہ پاکستان نے بوئے تھے یومِ دفاع پاکستان ہمیں فوجی جوانوں کی شجاعت اور عزم و حوصلے کی لازوال داستان کی یاد دلاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد جنگ میں حصہ لینے والے شاہینوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے 65ء کی جنگ میں صرف فوجی جوانوں نے ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے بشر نے جو کلیدی کردار ادا کیا اس کی نظیر نہیں ملتی میجر جرنل (ر) عنایت نیازی جنہوں نے سیالکوٹ فرنٹ میں بطور لیفٹیننٹ جنگ میں حصہ لیا کہتے ہیں کہ ہم جب اپنی جنگ کی پوزیشن پر جا رہے تھے تو رات کا وقت تھا اور ہم جس گاؤں میں سے بھی گزرتے لوگ سڑک کی دونوں اطراف کھڑے ہو کر نعروں سے ہمارا استقبال کرتے اور کوئی گاؤں ایسا نہیں تھا جس کے لوگ استقبال کے لیے سڑکوں پر موجود نہ ہوں۔
پاکستانی نصاب میں 65ء کی جنگ کے بعد جو بیانیہ شامل کیا گیا اس میں یہ لکھا گیا کہ بھارت نے پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کی تھی جس کے بارے میں پاکستانی آرمی کو علم ہی نہیں تھا اور جب بھارت نے لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کر دیا تو پاکستانی آرمی کو خبر ہوئی اور انہوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر ملک خداداد پاکستان کے رکھوالے ہونے کا عملی ثبوت دیا یہ بات تو درست ہے کہ ملک کے رکھوالوں نے دشمن کا شجاعت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن پاکستانی آرمی کے بڑے افسران کا اس سے بے خبر ہونا حقیقت کی نفی ہے اور جنگ کے بارے میں اس بیانیے کو جاری کرنے والے تاریخ کے قاتل ہیں جنہوں نے اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں چھپانے کے لئے یہ بیانیہ مرتب کیا۔
جب بھی کتابوں میں 65ء کی جنگ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو “آپریشن جبرالٹر” اور “آپریشن گرینڈ سلام” کی تفصیلات کو پسِ پردہ رکھا جاتا ہے اور نا تو کسی سرکاری ٹی وی چینل کو اس کے بارے میں تفصیلات نشر کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی سرکاری ٹی وی چینل پر کام کرنے والے صحافی کو اس کا تذکرہ کرنے کی آزادی حاصل ہے
تاہم کچھ نجی ٹی وی چینلوں نے 2015ء میں کچھ پروگرام کیے جس میں اس بیانیے کو رد کر دیا گیا کہ چھ ستمبر کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے جنگ کی شروعات کی اور واضح طور پر یہ کہا گیا کہ اس جنگ کے آغاز کے بیج پاکستان نے خود بوئے تھے اور اس جنگ کا آغاز ستمبر میں نہیں بلکہ اگست کے مہینے میں “آپریشن جبرالٹر” کی صورت میں ہو چکا تھا۔
آپریشن جبرالٹر میں میجر جنرل اختر ملک کے زیرِ کمان چھ سے آٹھ ہزار کمانڈوز اور مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کیا گیا اور ان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں بھارتی فوج کے ہیڈ کواٹر پر حملہ، مقبوضہ وادی کے اہم پلوں کو اڑانا، بھارتی فوج کے قافلوں پر گھات لگا کر حملے،  اور بھارتی فوج کے اسلحہ کے ڈیپووں کو تباہ کرنا شامل تھا اس آپریشن کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ کمانڈوز اور مجاہدین کو کمک پہنچانے اور سرینگر تک قبضے تک اس آپریشن کو جاری رکھنے کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ماسوائے غزنوی فورس کے جو کہ ميجر منور کی کمان ميں راجوری کے علاقے ميں داخل کی گئی اور راجوری، بدھل، تھانہ منڈی اور مينڈھر کے علاقوں ميں بھارتی فوج کو شکست ديکر قابض ہو گئی اور کوئی بھی فورس اپنا ہدف حاصل کرنے ميں کامياب نہ ہو سکی۔
جہاں تک بات آپریشن جبرالٹر کے بانی کی ہے تو اس بارے میں مختلف سیاسی و عسکری قیادتوں اور صحافیوں کی رائے میں آج تک تضاد ہے کیونکہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہو کر یہ بیانیہ جاری کیا کہ ہم جنگ جیت رہے تھے لیکن ایوب خان نے اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی درخواست مان کر جیتی ہوئی جنگ ہار دی اور پھر تاشقند کے معاہدہ نے اس ہار کو عملی جامہ پہنایا اس بیانیہ کے بعد ایوب خان کی پرستش کرنے والے صحافیوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس جنگ کا آغاز بھارت کے زیرِ انتظام  کشمیر میں گوریلا وار سے ہوا تھا جو کہ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کے کہنے پہ کیا اس کے علاوہ کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران نے بھی اس  کا قصوروار ذوالفقار علی بھٹو کو ٹھہرایا۔
ضیاء الحق کے دور میں وزیر خارجہ میاں ارشد حسین نے جنگ کی طرف لے جانے والے تمام واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بغیر کسی جوڈیشل انکوائری کے بھٹو کو ہی اس کا قصور وار ٹھہرایا جاتا رہا کرنل (ر) سید غفار مہدی نے اپنے مضمون میں یہ بتایا تھا کہ جنرل موسیٰ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جس اجلاس میں آپریشن جبرالٹر کی منظوری ہوئی اس میں کوئی سول آفیشل شریک ہی نہیں تھا بریگیڈیئر سعد احمد کے مطابق یہ چال سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے چلی گئی تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے دو جرنیلوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا جبکہ جنرل شجاع نواز نے اپنی کتاب “دو دھاری تلوار” میں 65ء کی جنگ کو پاکستانی فوجی قیادت کی مہم جوئی قرار دیا۔
مزید برآں میجر جنرل (ر) عنایت نیازی کا کہنا ہے کہ “اللہ نہ کرے کہ ہمیں ایک اور کمانڈنٹ چیف موسیٰ یا ایوب جیسا ملے جو جنرل اختر ملک جو کہ کشمیر میں کامیابی سے اپنا فرض سر انجام دے رہے تھے ان کو ہٹا کر وہ پوزیشن اپنے دوست یحییٰ خان کو دینا چاہتے تھے جو کامیابی حاصل نہیں کر سکا” عنایت نیازی کا مزید کہنا تھا کہ “یہ ہماری انٹیلیجنس کی ناکامی تھی کے بھارت نے جنگ کا اتنا بڑا پلان تیار کیا اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی” لیکن میرے خیال میں انٹیلیجنس نے اس بات کا سراغ لگا لیا تھا لیکن جرنیلوں نے اپنے ساتھی فوجیوں کو یہ بات بتانا مناسب نہیں سمجھا۔
ایئر مارشل اصغر خان نے بھی متعدد بار صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بات عیاں کی ہے کہ صرف 65ء کی جنگ نہیں بلکہ تمام پاک بھارت جنگوں کا آغاز پاکستان کی جانب سے ہوا بہرحال یہ بات تو واضح ہے کہ 65ء کی پاک بھارت جنگ آپریشن جبرالٹر کے بطن سے برآمد ہوئی اور فوجی قیادت کی اس مہم جوئی کا خمیازہ عام سپاہیوں کو بھگتنا پڑا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وزیراعظم عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے