ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

‏پانچ جولائی، سیاہ دور کا اغاز ‏| آفتاب احمد گورائیہ

‏تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

‏پانچ جولائی 1977 کو ایک طالع آزما بدترین آمر نے پاکستان کی پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت پر جو شب خون مارا اس کے نتیجے میں اگلے گیارہ سال تک ملک میں بدترین آمریت کی سیاہ رات مسلط رہی۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، منتخب وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دینا، سیاسی کارکنوں کے لئے قید و بند اور کوڑے، انسانی حقوق کی پامالی، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں اور سنسرشپ، قرآن کریم کی آیات پڑھ پڑھ کر جھوٹ بولنا اس دور آمریت کی سیاہ قلم سے لکھی گئی تاریخ ہے۔ ان گیارہ سالوں میں بدترین اور مکار آمر کی جانب سے کئے گئے اقدامات نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ آمرانہ دور میں شروع ہونے والی دہشت گردی، لسانیت، فرقہ واریت، مذہب کا سیاسی استعمال، کلاشنکوف کلچر، آئین میں کی جانے والی ترامیم سمیت بہت سے ایسے اقدامات ہیں جن کے نتائج آج بھی قوم بھگت رہی ہے اور نہ جانے کب تک بھگتتی رہے گی کیونکہ ان اقدامات کا زہر ملک و قوم کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ایک پوری نسل اس عرصہ کے دوران پیدا ہو کر جوانی سے بڑھاپے میں ڈھل چکی ہے لیکن ضیا آمریت کے اثرات سے قوم آج بھی نہیں نکل سکی۔
‏پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز افغان جنگ سے ہوا جس میں ہمارا کردار کرائے کے ٹٹو کا تھا۔ روسی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے اور روس کو گرم پانیوں تک پہنچنے سے روکنے کے نام پر جنرل ضیا نے امریکی ایما پر افغان مجاہدین کی حمایت کا جو کھیل شروع کیا اس کے ساتھ ہی افغان مہاجرین کی پاکستان آمد شروع ہو گئی اور امریکہ سے ڈالر کی برسات ہونے لگی۔ بڑی بڑی جیبیں بھرنے لگیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہاجرین کے ساتھ ساتھ ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر بھی پاکستان میں پہنچ گیا۔ آج چالیس سال سے اوپر کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ ہو سکا اور نہ ہی افغان مہاجرین کو ملک سے نکالا جا سکا بلکہ اب تو بہت سے افغانی پاکستانی شناختی کارڈ بنوا چکے ہیں اور ملک کے بڑے بڑے شہروں میں اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ افغان جنگ میں حصہ داری کے نتیجے میں شروع ہونے والی دہشت گردی آج بھی مختلف مراحل سے گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہو سکی۔ اس دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
‏ضیا آمریت کا ایک اور ناقابل معافی جرم قوم کو مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا بھی ہے۰ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے جنرل ضیا نے فرقہ پرست اور لسانی جماعتوں کی کھل کر حمایت کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی طور پر حساس قوم میں فرقہ واریت کا جو بیج جنرل ضیا نے بویا تھا آج وہ تنا آور درخت بن چکا ہے اور مذہبی بنیادوں پر نفرت کی خلیج اتنی گہری ہوچکی ہے کہ جس کو پاٹنا بظاہر ناممکن ہوچکا ہے۔ یہی حال لسانی جماعتوں کا ہے جن کی آبیاری بھی ضیا دور میں ہی کئی گئی اب یہ لسانی اور علاقائی جماعتیں بھی اتنی مضبوط اور طاقتور ہو چکی ہیں کہ قومی یکجہتی کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔
‏ضیا آمریت کے دوران آئین میں کی جانے والی مذہبی اور سیاسی ترامیم نے آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور حکومت میں کی جانے والی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آمرانہ دور کی بہت سی سیاسی ترامیم کو تو درست کیا چکا ہے لیکن حدود آرڈینینس اور توہین رسالت جیسے مذہبی قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون سازی کا اگر سوچا بھی جائے تو کفر کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔
‏ضیا آمریت کا ایک اور بدترین کارنامہ غیر سیاسی سوچ کی حامل سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی سرپرستی بھی ہے جس کے نتیجے میں ایسا غیر سیاسی کلچر پروان چڑھ چکا ہے جس میں مخالف سیاسی سوچ یا نظریات کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ یا فکری مباحثے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی۔ اس غیر سیاسی سوچ کا منطقی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے ایسے لوگ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ گئے ہیں جن کی نہ کوئی سیاسی تربیت ہے اور نہ جدوجہد اور نہ ہی ان کو ملک و قوم کو درپیش مسائل کا ادراک ہے۔ سیاسی جدوجہد کے نام پر ان کا واحد کریڈٹ پس پردہ موجود غیر جمہوری قوتوں کی کاسہ لیسی ہے۔ دلیل کا جواب بدتمیزی یا گالی سے دیا جانا بہت بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ جو جتنی بڑی گالی دیتا ہے اس کو اتنے ہی بڑے عہدے سے نوازا جاتا ہے۔
‏اوپر بیان کی گئی ضیاالحقیوں کے نتیجے میں ملک بے شمار مسائل اور خطرات کا شکار ہو چکا ہے۔ ضیا آمریت کا دورانیہ کہنے کو تو گیارہ سال پر محیط تھا لیکن اس دور کے بد اثرات سے قوم شائد ہی کبھی نکل سکے کیونکہ ضیا کی باقیات آج بھی موجود ہیں اور اقتدار کے لئے آج بھی غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔ انتخابات صرف دکھاوے کی ایک کاروائی بن کر رہ چکے ہیں جن کے نتیجے میں عوام کی نمائندہ حکومت کا برسر اقتدار آنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بن چکا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

مغل اعظم اور پانچ اگست | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان اس پانچ اگست کو بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے