منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

یہ سیاست کا وقت نہیں، یکجہتی سے اس وبا کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے: مراد علی شاہ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگلے 2 ہفتے مزید سخت لاک ڈاؤن کیا جائے گا، یہ سمجھنا غلط ہے کہ ملک میں کورونا کیسز کی شرح دوسرے ملکوں سے کم ہے۔

کراچی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں ٹیسٹنگ کی استعداد 1500 تک لے آئے ہیں، تاہم 10 فیصد کورونا پازیٹو آ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوروناوائرس سے متاثرہ افراد کی شناخت ظاہر کرنا مناسب نہیں، بہت بڑے بڑے ادارے کے لوگ بھی کوروناسے متاثر ملازم کے نام بتا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑا آدمی ہو تو اپنا نام چھپائے، چھوٹے ملازم کا نام بتادے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں اموات کی شرح 2 اعشاریہ 4 ہوگئی ہے، جو بہت تشویشناک ہے، کورونا کے بعض مریضوں کی اسپتال پہنچنے کے 24 گھنٹے میں موت واقع ہوگئی، بعض مریض ایسے بھی آئے کہ انہیں اسپتال مردہ حالت میں پہنچایا گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے ان ہلاک ہوئے افراد کے پھیپھڑے متاثر ہوئے، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کورونا کے ہی کیسز ہیں، 15 کیسز ایسے ہیں جن کی ہم نے تدفین کورونا کے مریضوں کی طرح کروائی ۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی اموات بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہو رہیں، 100 کے قریب اموات ایسی ہیں جن پر کورونا کا شبہ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہی کنسٹرکشن انڈسٹری کھولنے کی کیا ضرورت ہے، کوئی کنسٹرکشن سائٹ کھلی نہیں ہونی چاہیے، بلڈر کو پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی، کوئی ریسٹورنٹ کھولے گا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہو گی تاہم ہوم ڈلیوری پر ایس او پیز کو فالو کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے آٹو موبل انڈسٹری کھولنے جارہے تھے اس پر بھی ہم نے منع کردیا، وفاق کو ہم نے سندھ کےایس او پیز دیئے ہیں، آٹو موبل انڈسٹری پر بات مانی گئی اور پھر سب نے نہ کھولنے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہمارے پاس ٹیسٹنگ کٹس آگئی ہیں تاہم ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھائیں گے، 500 ٹیسٹ کر رہے ہیں تو 50 مریض سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹک فلائٹس مزید ایک ہفتے نہ کھولنے پر اتفاق ہوا ،ملازمین کو فیکٹری تک لانے کیلئے کمپنی اپنی ٹرانسپورٹ چلائےگی، فیکٹری کی گاڑی میں40کی گنجائش ہےتو15سےزائد لوگ نہیں بیٹھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی تو وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے 14دن لاک ڈاؤن بڑھایا ہے، لاک ڈاؤن کھولنے نہیں اسے مزید سخت کرنے کی بات ہوئی ہے لہذا اگلے 14 دن لاک ڈاؤن مزید سخت ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ صبح 8 سے شام 5 بجے تک لاک ڈاؤن کی پالیسی برقرار رہے گی جب کہ ہم نے پلمبر، درزی اور ہیئر ڈریسرز کو دکانیں کھولنے سے منع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلمبر وغیرہ گھرجاکرکام کرسکیں گےاس کی ایس او پیز بنا رہے ہیں، فیکٹریز پر آنیوالے کو سینی ٹائز کیاجائےگا ،سماجی فاصلے کا خیال رکھاجائے گا ، ہر انڈسٹری کے باہر بورڈ پر ایس او پیز لکھے ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 133 افراد صحت یاب ہوئےہیں، جبکہ مزید 6 مریضوں کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا مریض سندھ کے 268 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ تبلیغی جماعت کے 5 ہزار لوگ آئسولیشن میں ہیں، سب کے ٹیسٹ کریں گے اور ٹیسٹ نیگیٹو آنے والوں کو خود گھر پہنچائیں گے۔

بشکریہ جنگ

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سینما پاکستان کا چہرہ | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل وزراعظم عمران خان کی زہر صدارت وزارت ثقافت کا ایک اعلی سطح …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے