پیر , 6 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
233526
  • Sindh 96236
  • Islamabad 13494
  • KP 28116
  • Punjab 81963
  • Balochistan 10814
  • GB 1561
  • AJK 1342
  • DEATH 4808

“یوتھیوں اور موچیوں میں فرق” | علی عبداللہ ہاشمی

تحریر: علی عبداللہ ہاشمی

بہت سے لوگ یوتھیوں اور موچیوں کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں یہاں تک کہ اکثرئیت دونوں کو ایک جنس جانتے ہوئے ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے جو تحریکِ انصاف کے کارکنان کے ساتھ سخت زیادتی ہے۔ میں تحریکِ انصاف سیالکوٹ چیپٹر کے بنیادی کارکنان کو تب سے جانتا ہوں جب ان میں سے اکثریت کی مسیں بھی نہیں پھوٹی تھیں اور وہ یوتھیئے نہیں انصافی کہلاتے تھے۔ پورے ملک میں کپتان کی ٹیمیں پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل تھیں جو سٹیٹس کو کی سیاست کیخلاف عمران خان کے بیانیئے سے کافی متاثر تھے اور انکے نزدیک شوکت خانم کی بطور خیراتی ادارہ کامیابی انکے عمران بھائی کی ایمانداری کی روشن دلیل تھی جس پر وہ گلی گلی، قصبے قصبے، قریئے قریئے لوگوں کو قائل مائل کرنے کی سعی لا حاصل کرتے نظر آتے تھے۔ ناں وہ بدتمیزی کرتے ناں گالم گلوچ بلکہ کتابی علم اور پُرذور دلائل انکی خاصیت ہوا کرتی تھی۔

ایسا ہی ایک نوجوان شانِ حیدر زیدی میرے چھوٹے بھائی کا دوست اور میرے لیئے بچوں کیطرح تھا۔ انتہائی بچپنے میں یتیمی نے آن لیا تو جس عمر کے لونڈے لپاڑے گرلز کالجوں کے گیڑے لگاتے ہیں، میں نے اس عمر میں اُسکو محنت مزدوری کر کے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بنتے دیکھا جسکی وجہ سے وہ مجھے ہمیشہ عزیز ترین رہا۔ آگے بڑھنے کی لگن ایسی کہ ریگولر پڑھائی کیساتھ وہ نوکری کرتا اور ان سب محرومیوں کے باوجود وہ عمران خان کی اصل ٹیم کا سرگرم کارکن تھا۔ 2006 میں راقم الحروف مقابلے کے امتحان میں چند نمبروں سے رہ گیا تو شانِ حیدر نے ایکدن کسی سے نمبر لیکر مجھ سے رابطہ کیا، اسکے کرائے کے مکان کے سامنے کھڑے ہو کر کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں نے اسے اپنی تیاری کا طریقہ بتلایا اور بھول بھال گیا۔ 2007 بیج کا رزلٹ آیا تو شانِ حیدر CSS کے تحریری امتحانات میں کامیاب قرار پایا۔ اُن دنوں عمران خان کی پہلی ممبرشپ مہم ذوروں پر تھی، مبارکباد کیساتھ میں نے اسے انتہائی سختی سے پابند کیا کہ ڈسٹرکٹ پریزیڈینٹ تحریکِ انصاف یوتھ ونگ سے فوراً استغفا دیکر صرف اپنے کیرئر پر توجہ دے اور اس سے وعدہ لیکر ہی باز آیا۔ کچھ دنوں بعد عمران خان نے کسی دینی مدرسے کے دورے کے دوران اقتدار میں آنے پر امیر معاویہ کا نظام رائج کرنے کی بات کی تو میں نے شانی کو احتجاجی کال کی تو اسکے پیچھے اسپیکر میں ممبر شپ کیلئے اعلانات سن کر میں ساکت رہ گیا۔ میں نے اسے سخت سُست کہا اور اٹھ کر فوراً گھر دفعہ ہونے کا حکم دیا کہ انٹرویو میں ناکامی پر عمران خان نے اسکے چھوٹے بہن بھائیوں کے منہ میں نوالے نہیں ڈالنے تھے۔ اللہ جانے وہ گھر واپس گیا کہ نہیں لیکن انٹرویو میں فیل ضرور ہو گیا۔ ملاقات ہونے پر میں نے عمران کی ناکام سیاست اور اسکی CSS میں ناکامی کو محاورةً جوڑا تو مجھے اسکے چہرے پر کوئی ملال نظر نہ آیا، اُلٹا میں نے اسکی آنکھوں میں روشن پاکستان کا ولولہ انگیز خواب معجزن دیکھا۔ میں حیران تھا کہ اس غلام دیش میں ایک تانگہ پارٹی کا ورکر جو اداروں کی رسہ گیریوں سے بخوبی آگاہ تھا کس برتے پر ایسا پُر اُمید بنا؟ انہی دنوں فیس بک لانچ ہوئی تو شانِ حیدر اور اسکے انصافی دوستوں نے پاکستانی کے لاحقے کیساتھ اپنے اکاونٹس بنائے جو میرے اور بھی حیرانی کا باعث ہوئے۔ ایسے انصافی صرف سیالکوٹ چیپٹر میں نہیں تھے۔ عمران خان ان دنوں پورے ملک میں اپنے کارکنوں کیساتھ فون پر رابطہ رکھتا تھا، وہ انکے ٹریننگ سیشن لیتا اور یہاں تک کہ انکے لیئے نوکریوں تک کا انتظام کرتا, مجھ سمیت ہزاروں دوسرے متحرک سیاسی کارکنوں کو ایک عام ترین انصافی ورکر بھی ڈائریکٹ عمران بھائی سے ملاقات کرانے کا دعویدار ملتا اور عمران خان نے انہیں یہ خاص طاقت دے بھی رکھی تھی کہ بنا کسی عہدے مرتبے کے ہر انصافی کارکن چاہتِ ملاقات رکھنے والوں کو خان تک ڈائریکٹ لیجا سکتا تھا۔

4 جنوری 2011 کے منحوس دن سلمان تاثیر کو شہید کیا گیا تو اسکے بعد پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے پاس پنجاب میں شریف برادران کی الزامات کی سیاست کا جواب دینے والا کوئی نہ بچا۔ ایک بھی ایسا لیڈر نہ تھا جو شریف برادران کے قد برابر آ کر سیاسی بیلنسنگ کر پاتا جو کچھ حلقوں کیمطابق اس کمی کو دور کرنے کا ٹاسک طاقتور ایوانِ صدر نے جنرل پاشا کو دیا جس نے میڈیا کیساتھ ملکر 30 اکتوبر 2011 کو بھاٹی گیٹ جلسہ کامیاب کرایا اور داد کے ڈونگرے سمیٹے۔ عمران خان نے چند دن بعد منٹو پارک میں پنڈال سجایا تو پرانے سیاسی کھلاڑیوں کے کان کھڑے ہو گئے اور یہ وہ مقام تھا جہاں پنجاب بیلنسنگ کی ہوا چل پڑی۔

کچہریاں ہم جیسے معاشروں میں فرسٹ ہینڈ انفارمیشن کا سب سے باوثوق فورم ہوتی ہیں۔ ضلع بھر سے رسہ گیر، جرائم پیشہ نو دولتیئے اور تِتر تیزوں سمیت سیاسی لیڈران وکلاء کے ڈیروں کے اردگرد منڈلاتے پھرتے ہیں جس سے شام تک تازہ ترین سیاسی صورتحال ضلع کے کونے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ تحریکِ انصاف کی ہوا چلی اور ایسی چلی کہ کچھ نہ پوچھیں۔ وہ انصافی کارکن جو علم و دانش کا نمونہ تھے اور خان کی دی ہوئی طاقت کیوجہ سے اس کیساتھ ڈائریکٹ تھے کچھ ہی دنوں میں عام ہونے لگے جس پر ملک بھر میں بنیادی کارکنوں کا زبردست ری ایکشن آیا۔

21 دسمبر 2011 کو جاوید ہاشمی، جو عرصہ دراز سے مسلم لیگ ن کو ‘صرف کشمیریوں کی جماعت’ بنانے کیوجہ سے نواز شریف پر برہم تھے، نے اپنے سیاسی راستے جدا کیئے اور محض چار دن بعد الصبح کراچی ایئر پورٹ سے نکل کر عمران خان کے جلسے کیطرف جاتے دکھائی دیئے۔ جاوید ہاشمی کیساتھ سابق تحصیل ناظم سیالکوٹ کے منجھلے بیٹے اور عثمان ڈار کے بڑے بھائی عمر ڈار بھی مسکراتے ہوئے نکلے جو کچھ ہی دن پہلے تک مونس الہی کی ناک کے بال اور پرویز الہی کے کارِ خاص کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس وقت تک انصافی ڈسپلن کا یہ عالم تھا کہ جاوید ہاشمی اور عمر ڈار سمیت ہوا کے رُخ پر شامل ہونے والے سابق ضلع ناظمین کے وفود تک کو اپنے اپنے ضلعی صدور کے پاس واپس جا کر بنیادی رکنیت حاصل کرنا پڑی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں انصافیوں اور باہر سے آنے والوں میں اختیارات کی جنگ شروع ہوئی۔ یہ لڑائی کھینچا تانی میں تبدیل ہوتی گئی یہاں تک کہ عمران خان نے فروری 2013 میں پارٹی انتخابات کا اعلان کر دیا جو عملاً قابلِ ستائش اقدام جبکہ حقیقتاً کارکن کُش ثابت ہوا۔ اس انتخاب نے اصل انصافیوں کو ہوا کے ذور پر آئے پرانے چاولوں سے بدل دیا اور یوں انصافیوں سے یوتھیاء بننے کا سفر شروع ہوا۔

انتخابات 2013 میں خان نے کے پی میں حکومت بنائی اور دوسری طرف نواز شریف کی مشرف لٹکاو مہم کے باعث تیسری قوت کی سیاست میں باقاعدہ چھلانگ لگ گئی۔ دھرنے کے ڈرامے سے لیکر الیکشنز 2018 کے درمیانی عرصے میں سیلیکٹرز کے تنخواہ دار موچیوں نے اصل تحریکِ انصاف کے گم گشتہ امیج کو تباہ اور حقیقی انصافی روحوں، جو بہتر پاکستان کے خوابوں میں گُندھی تھیں، کو بیشرمی کی حد تک موقع پرست کر دیا یہاں تک کہ انکے پاس فوجی چھتر چھایہ کی واحد دلیل کپتان کی ایمانداری رہ گئی حالانکہ نِجی محافل میں وہ اپنی ذاتی ناکامیوں کی وجہ بنی گالا میں “نشہ آور لوازمات اور عورتوں کا سپلائر بننے سے معذوری” کو گردانتے تھے۔

دوسری طرف موچیوں نے اداروں کے سائے میں جو طوفانِ بدتمیزی بپاء کیا اس نے یوتھیوں کو کم از کم سوشل میڈیاء پر غفلت میں اندھی اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں کانا راجہ بنا دیا۔ انصافی اپنی دانست میں موچی پارٹی کو تحریکِ انصاف کے اقتدار میں لانے کے مقصد کیلئے استعمال کر رہے تھے اور سالوں عمران خان سے قرابت داری کے زعم میں وہ آج بھی پر امید تھے کہ الیکشنز 2018 میں ٹکٹ دیتے ہوئے خان انہیں نہیں بھولے گا جو مصنوعی ہواوں کی زد میں انکا کپتان یکسر بھول گیا۔ انصافیوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور شاپروں کو ٹکٹس دینے کیخلاف آگ بگولہ ہوئے لیکن وہ عشقِ کپتان میں یہ بد عہدی بھی سہہ گئے۔ ڈبہ چوروں نے RTS کا جھُرلو پھیرا اور 25 جولائی کی سیاہ رات کے سائے میں انکا خان وزیراعظم بن گیا۔ سالہا سال سے اسکا ہاتھ بندھا کارکن بظاہر فتح مند ہوا اور اسکے خیال میں 26 جولائی 2018 فلاحی ریاستِ پاکستان کا پہلا جنم دن ٹھہرا۔ 27 جولائی کو جب سیاسی شاپروں کیساتھ آئے ہوئے نسلی لوٹے اور فرحان ورک جیسے دو نمبر موچی، نئی نویلی حکومت سے وصولیوں اور حصوں کیلئے دانت تیز کر رہے تھے، تو اصل انصافی روتی آنکھوں اور شکرانے سے داغدار جبینیں لیکر لمبی جدوجہد کی تھکن کیساتھ اپنے کام کاج پر واپس پہنچ چکے تھے۔ انکے لیئے نیا پاکستان 26 جولائی کو بن گیا تھا۔

وہ بیچارے اپنے بچے پالنے میں جُتے تو سرکاری اداروں پر سیلیکٹرز کے نمائیندے اور وزارتوں پر سیاسی شاپر جبکہ ضلع، تحصیل کی سطح پر ان دونوں کے گماشتوں نے قبضہ کر کے اپنی جیبیں بھرنی شروع کر دیں۔ چند ہی مہینوں میں اپوزیشن جماعتوں کے منہ پھٹ ناقدین کی سچی آوازوں سے زخم کھا کر لاکھوں انصافی ایکٹیوسٹس نے اپنی ٹویٹر اور فیس بک آئی ڈیز بند کر دیں۔ وہ بڑے بڑے سوشل میڈیاء سیلز جو انصافی رضاکاروں کا دوسرا گھر تھے اور جنکی ضرورت انکی نظر میں الیکشن 2018 لُوٹ لینے کے بعد ختم ہو چکی تھی بے آباد ہو گئے۔ اپوزیشن متحرک ہوئی، تنقید بڑھی تو عمران خان کو اپنے کارکن یاد آئے۔ سوشل میڈیاء کیمپینز کے ذریعے آوازیں مار مار کر انصافیوں کو واپس بلایا گیا لیکن وہ ماں باپ جنکے بچوں کی جوانیاں نئے پاکستان کے خواب کی نذر ہوئی تھیں اور جنہوں نے اپنے بچوں کے جذبے کی سچائی کو دیکھتے ہوئے (2011 میں ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ چکے) عمران خان کو ووٹ دیا تھا، انہوں نے اپنے بچوں کو دوبارہ اس سراب میں جھونکنے سے انکار کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دو سال سے اپوزیشن کے سوشل میڈیاء ایکٹیوسٹس کو صرف تنخواہ دار موچیوں کا سامنا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ 2018 سے پہلے انصافی کارکنان نے اختلافِ رائے رکھنے والوں کو گالیاں نہیں دی ہوں گی۔ یقیناً کچی عمر کے لڑکے لڑکیوں نے بھی بہتی گنگا میں دانت تیز کیئے ہوں گے لیکن آج جو ٹرول اکاونٹس صاحب الرائے حضرات کو گندی گالیاں دیتے ہیں وہ خالصتاً موچی اکاونٹس ہیں جنکی طنابیں معلوم ہاتھوں سے حسبِ پالیسی کھینچی یا ڈھیلی چھوڑی جاتی ہیں۔ وہ اکاونٹس جنکی وال پر خان یا اسکے جلسوں کی تصویریں بطور ڈی پی یا بیک گراونڈ پکچر لگی ہوتی تھیں اب وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے اور انکی جگہ مارخور کے سینگھوں یا پھر عجیب و غریب ناموں والے فیک اکاونٹس نے لے لی ہے جو عمران خان کو گالی نکالنے پر مجرمانہ حد تک خاموش رہتے ہیں لیکن جونہی آپ سیلیکٹرز کیخلاف بات کریں، نہ جانے کہاں کہاں سے الٹے سیدھے ناموں کیساتھ حملہ آور ہو کر آپکو کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی لوگ فرق ہیں یوتھیوں اور موچیوں کے بیچ کیونکہ کارکن کسی بھی جماعت کا ہو، اگر وہ تنخواہ دار نہیں تو وہ اپنے لیڈر کی سبکیوں پر چُپ نہیں رہ سکتا کہ یہی پاکستانی مزاج ہے۔

رہ گیا شانِ حیدر زیدی، تو وہ آج بھی ایک پرائیوٹ نوکری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے کیونکہ اسکا عمران بھائی کب کا اُسکو اور اُس جیسوں کو تیاگ چکا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

رشید مصباح نہیں مرے | سرفراز انور صفی

تحریر: سرفراز انور صفی “ جنابِ صدر ! رشید مصباح کے بارے آپ میں سے …

ایک تبصرہ

  1. بہت ہی عمدہ تحریر سماچار پے روز کی بنیاد پر دو چار آرٹیکلز پڑھتا ہوں
    معلومات میں اضافے بھی ہوتا ہے اور کافی حد تک محزوز بھی ہوتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے