ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

ہواؤں کا رُخ | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

حالیہ دنوں میں حالات و واقعات کچھ اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ سیاسی پنڈت بھی کسی قسم کا سیاسی اندازہ یا سیاسی پیشگوئی کرنے میں محتاط نظر آتے ہیں۰ ضمنی انتخابات کے نتائج اور تین مارچ کو منعقد ہونے والے سینٹ کے انتخاب نے سیاسی ماحول کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۰ ضمنی انتخابات کے نتائج جہاں حکومت کے لئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئے ہیں وہیں حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے پی ڈی ایم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۰ پچھلے جمعے والے دن ڈسکہ میں قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے انتخاب کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں اور پھر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران کے اغوا یا لاپتہ ہو جانے کے واقعہ نے صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف کی حکومت کے شفافیت اور ووٹ کے تقدس کے دعوے پر بھی بہت سارے سوال کھڑے کر دئیے ہیں۰

ڈسکہ کی سیٹ پر ہونے والی بے قاعدگیوں اور دھاندلی کے ثابت ہو جانے پر الیکشن کمیشن نے اس انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اٹھارہ مارچ کو دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۰ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے جبکہ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ رینج کو تبدیل کرکے گوجرانوالہ سے باہر بھیجنے کا حکم دیا ہے۰ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، ڈی پی او سیالکوٹ، ڈی ایس پی ڈسکہ اور ڈی ایس پی سمبڑیال کو معطل کرنے اور آئیندہ کسی بھی انتخاب میں ڈیوٹی نہ دینے کا حکم صادر کیا گیا ہے۰

الیکشن کمیشن کا فیصلہ بالکل درست اور قابل تعریف ہے لیکن ڈسکہ میں ہونے والے واقعات کے اصل کردار تک پہنچنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ انتظامیہ ہوا میں تو کام نہیں کر رہی تھی آخر وہ کون طاقتور شخص تھا جس کے حکم پر ان تمام انتظامی افسران نے الیکشن کمیشن کے ساتھ عدم تعاون کا رویہ اپنائے رکھا۰ یقیناً اس کا کھرا وزیراعلی ہاوس اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف جاتا ہے کیونکہ ان اعلی افسروں کو حکم وہیں سے دیا جا سکتا ہے۰ اس لئے جہاں اعلی افسران کی جواب طلبی کی جا رہی ہے وہاں ان افسران کو حکم دینے والی طاقت کو کٹہرے میں لایا جانا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جاسکے۰

سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے سیکرٹ بیلٹ کے بارے موقف کو لے کر اور ڈسکہ کے الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے بہت سے لوگ ہواؤں کے رُخ کا اندازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ان دونوں مواقع پر الیکشن کمیشن کے پاس اس موقف اور فیصلے کے علاوہ شائد کوئی اور چوائس ہو نہیں سکتی تھی۰ جہاں الیکشن کمیشن کا اپنا پولنگ سٹاف ہی اغوا ہو جائے تو وہاں الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ اور کیا فیصلہ کیا جا سکتا تھا۰

پی ڈی ایم کی جانب سے سید یوسف رضا گیلانی کی قومی اسمبلی سے سینٹ کی نشسست کے لئے نامزدگی نے حکومت کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۰ خبریں یہ بھی گرم ہیں کہ حکومت کو سینٹ کے انتخابات کے لئے اس دفعہ وہ والا تعاون بھی میسر نہہں ہے جس کی وہ عادی ہو چکی ہے اور اراکین پارلیمنٹ کو ووٹ کی رہنمائی کے لئے خفیہ فون بھی نہیں آ رہے جس کی وجہ سے حکومت کو خدشہ ہے کہ اس کے بہت سے اراکین پی ڈی ایم کے سید یوسف رضا گیلانی کو ووٹ ڈال کر حکومت کے لئے ایک بڑے سرپرائز کا بندوبست کر سکتے ہیں۰ پی ڈی ایم کی طرف سے تو دعوی کیا جا رہا ہے کہ پچیس کے قریب حکومتی اراکین اسمبلی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں، یہ دعوی کس حد تک درست ہے اس کا پتہ تو تین مارچ کو ہی چلے گا لیکن پی ڈی ایم نے حکومتی امیدوار کی شکست کا جو تاثر پیدا کر دیا ہے اس سے حکومتی صفوں میں بے چینی کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں۰ قومی اسمبلی سے سینٹ کی نشسست پی ڈی ایم اگر ہار بھی جاتی ہے تو یہ صرف ایک ایسی نشسست سے ہار ہو گی جو حکومت کو ہی جیتنی تھی لیکن اگر حکومت یہ نشسست ہار جاتی ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہو گا کہ حکومت اور وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں اور پھر اس کے بعد معاملات حکومت کے ہاتھ سے گیلی ریت کی طرح نکلتے چلے جائیں گے۰

اب اگر سینٹ کی ٹکٹوں کی تقسیم کا جائزہ لیں تو صرف ایک پارٹی ہے جس پر سینٹ کی ٹکٹیں بیچنے کا الزام لگ رہا ہے اور وہ پارٹی ہے تحریک انصاف جو خود سب سے زیادہ شور مچا رہی ہے کہ سینٹ کے انتخاب میں پیسہ استعمال ہو رہا ہے۰ مزے کی بات ہے کہ یہ الزام اس کی مخالف جماعتیں نہیں لگا رہیں بلکہ یہ الزام تحریک انصاف کے اپنے ممبران ہی اپنی قیادت پر لگا رہے۰ بلوچستان، سندھ اور کے پی کے سے تحریک انصاف کے اراکین کھلم کھلا اپنی قیادت پر پیسے لے کر ٹکٹ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۰ اس وقت تحریک انصاف بہت بری طرح انتشار کا شکار ہو چکی ہے، کچھ روز پہلے وزیراعظم کے دورہ پشاور کے موقع پر بیس اراکین اسمبلی دعوت ناموں کے باوجود غیر حاضر پائے گئے۰ پرویز خٹک اور ان کے بھائی لیاقت خٹک کے درمیان اختلافات اور لیاقت خٹک کو وزارت سے ہٹانا تحریک انصاف کے گھر کے پی کے میں سب اچھا کی خبر نہیں دے رہا۰

اس کے علاوہ بلوچستان سے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کھلم کھلا پارٹی قیادت پر ٹکٹ بیچنے اور مشاورت میں شامل نہ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۰ سردار یار محمد رند نے اپنے بیٹے سردار محمد رند کو سینٹ میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا کر رکھا ہے اور اس کے لئے آزاد حیثیت میں ووٹ مانگے جا رہے ہیں۰ سندھ سے آنے والی آوازوں میں لیاقت جتوئی نمایاں ہیں جنہوں نے پارٹی قیادت پر پینتیس کروڑ لے کر ٹیکنوکریٹ کی سیٹ بیچنے کا الزام لگایا ہے۰ اس کے علاوہ تحریک انصاف سندھ کے اراکین کی جانب سے بھی فیصل واوڈا اور سیف ابڑو کو ٹکٹ دئیے جانے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور تحریک انصاف سندھ کے اراکین کی جانب سے گورنر سندھ کو ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۰

ضمنی انتخابات کے نتائج بھی تحریک انصاف میں اس انتشار کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ضمنی انتخابات نے ثابت کر دیا ہے کہ پورے ملک میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک تیزی سے کم ہو رہا ہے اور اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کا ٹکٹ اپنی وقعت کھو چکا ہو گا۰ یہی وجہ ہے کہ پرندوں نے پھڑپھڑانا شروع کر دیا ہے اور اپنے نئے آشیانوں کی تلاش میں رابطے شروع کر دئیے ہیں۰ پرندوں کی اس پھڑپھڑاہٹ کو بھی ہواؤں کے رخ میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۰ سینٹ کے انتخاب میں تحریک انصاف کو سب سے زیادہ خطرہ انہی پرندوں سے ہے۰

سیاست میں اشاروں کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے اور اس وقت اشارے یہ ہیں کہ مقتدرہ کی جانب سے پوری طرح سے موجودہ حکومت کی حمایت سے ہاتھ اگر نہیں بھی کھینچا گیا تو ہاتھ ہولا ضرور کر دیا گیا ہے جس کا ایک ثبوت ضمنی انتخابات میں مقتدرہ کا دخل نہ دینا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پی ڈی ایم چاروں صوبوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حکومت کو شکست دینے میں کامیاب رہی ہے۰ ڈسکہ میں ہونے والے الیکشن میں دھاندلی کے الزام پر مریم نواز اور رانا ثنااللہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ اس الیکشن میں مقتدرہ کی مداخلت نظر نہیں آ رہی اور جو بھی دھاندلی کی گئی ہے اس میں حکومت کے زیراثر ایک ایجنسی کا کردار نظر آرہا ہے۰ اس کے علاوہ سید یوسف رضا گیلانی جیسے محتاط بیان سیاستدان کی جانب سے یہ کہنا کہ بظاہر مقتدرہ سینٹ کے انتخاب میں غیر جانبدار نظر آ رہی ہے اپنے اندر بہت سے معنی چھپائے ہوئے ہے کیونکہ سید یوسف رضا گیلانی کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو کوئی بھی بات کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچتے ہیں اور ان سے کوئی بات نکلوانا اتنا آسان کام نہیں۰ پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری بھی حالیہ دنوں میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۰ ان تمام اشاروں کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ حالیہ گلگت بلتستان الیکشن کے موقع پر بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ مقتدرہ ان انتخابات میں غیر جانبدار رہے گی لیکن نتائج نے ثابت کیا کہ ایسا کچھ نہیں تھا اور تمام تر دھونس دھاندلی سے گلگت بکتستان میں زبردستی تحریک انصاف کی حکومت بنوا دی گئی۰

سیاست بہرحال امکانات کا کھیل ہوتا ہے جس میں صورتحال لمحہ بہ لمحہ بدلتی رہتی ہے اس لئے اگر کہیں یہ سوچ پیدا ہو چکی ہے کہ کب تک ایک نااہل حکومت پر ہونے والی شدید عوامی تنقید میں حصہ داری کی جا سکتی ہے تو پھر شائد اشاروں کو سمجھنا تھوڑا آسان ہو جائے۰ اس کے علاوہ حکومت کی نااہلی اور نالائقی سے جہاں عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے وہاں قومی اداروں کا وقار بھی داوࣿ پر لگ چکا ہے۰ ڈسکہ الیکشن کے دوران رینجرز کی موجودگی میں کچھ نامناسب نعرے لگائے گئے۰ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ بات یہاں تک آن پہنچی ہے۰ ایک نااہل، نالائق اور کنفیوزڈ قسم کی حکومت کے لئے قومی اداروں کا وقار اس حد تک داوࣿ پر لگ جانا یقیناً لمحہ فکریہ ہے۰ یہ کسی بھی محب وطن کے لئے خوشی کی بات نہیں ہو سکتی۰ اس تمام صورتحال کے ذمہ داروں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ نوبت یہاں تک پہنچی کیوں ہے۰ اوپر بیان کئے گئے اشارے شائد یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ کسی جگہ پر اداروں کا وقار بحال کرنے کے بارے سوچنا شروع کیا جا چکا ہے۰

ہواؤں کا رخ تو پتہ نہیں تبدیل ہوا ہے یا نہیں لیکن ضمنی انتخابات اور سینٹ کے انتخاب نے تحریک انصاف کی جو ہوا خراب کر دی ہے اس سے ان کے گمنامی میں جانے کا عمل تیز تر ہو چکا ہے۰ سینٹ انتخاب کا نتیجہ جو بھی نکلے ایک چیز بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اب حکومت کا بقیہ سفر اتنا آسان نہیں ہو گا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا۰

Twitter: @GorayaAftab

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

ایک تبصرہ

  1. خادم علی ہیسبانی

    بہت بہترین بلکہ محتاط انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ جبکہ حالات کافی خراب ہو چکے ہیں۔ دیکھیں ایک ہفتے کے اندر کافی بادل چھٹ جائینگے۔ امید بہتری کی رکھنی چاہیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے