پیر , 6 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
233526
  • Sindh 96236
  • Islamabad 13494
  • KP 28116
  • Punjab 81963
  • Balochistan 10814
  • GB 1561
  • AJK 1342
  • DEATH 4808

ہم اس جبر کا قصہ تمام چاہتے ہیں‎ | سعدیہ اشرف سلہری 

تحریر : سعدیہ اشرف سلہری

ہم اس کے جبر کا قصہ تمام چاہتے ہیں

اور اس کی تیغ ہمارا زوال چاہتی ہے

غالب ایاز کا یہ شعر پڑھتے بلوچی قید صوبہ یاد آتا میں نہیں سمجھتی بلوچستان آزاد ہے بلکل جیسے دوسرے صوبے آزاد ہیں بلوچستان میں ہمیشہ فوج کی حکومت رہی ہے جن کو اس بات کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کی بات نہ مانی جائے تو گولی مار کے قتل کر کے ریاست دشمن ڈکلیئر کر دیا جائے شہری کو، ایک عام خیال بن چکا معاشرے کا جو بھی فوج کی گولی سے مرے گا وہ غدار ہو گا، جس کو فوج اٹھائے گی وہ غدار ہے بلوچستان میں فوج کی نااہل حکومت ہے جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے تب سے بلوچستان قید ہوا وہاں جب تک منتخب حکومت نہیں آئے گی بلوچستان آزاد نہیں ہوگا.

پہلے بلوچستان کے وکیلوں کو شہید کر دیا گیا اور  اب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ طلباء کو تعلیم اور کتابوں سے دور کیا جا رہا ہے. بلوچ طلباء تعلیمی حقوق کی خاطر احتجاج کیلئے نکلے تو ریاستی ظالم پولیس نے ان پہ تشدد کرکے طالب علموں کو گھسیٹ کے گرفتار کر لیا یہ تمیز بھی نہ رکھی گئی کہ طالب علم لڑکا ہے یا لڑکی، غیرت مند قومیں حقوقِ مانگنے پر بیٹیوں کو زندان میں نہیں ڈالتی ہیں ان طالبات کا کیا مطالبہ تھا کہ آئن لائن کلاسسز کے لیے انٹرنیٹ مانگا تھا انہوں نے اور ریاست نے انٹرنیٹ مانگنے پر لاٹھی چارج کیا گرفتار کر لیا بچیوں کو بلکل ویسے ہی جیسے یہ ریاست اپنی ہی علاقے سوئی کی گیس مانگنے پر غدار قرار دیتی ہے اور پانی مانگنے پر گولی جبکہ آزادی مانگنے پر مسخ شُدہ لاشیں.

اگر آپ بلوچی ہیں تو ان میں سے کسی ایک مطالبے پہ بات کریں اور دیکھیں ریاست آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے تشدد اور ظلم وستم نا انصافی پر ایک قوم کو کتنے عرصے تک زیرِ دست رکھ سکتے ہیں؟ بلوچستان سے فوج کی حکومت ختم کیے بغیر کوئی مسلہ حل نہیں ہوگا چاہے پھر جام کمال طالب علموں کو رہا کریں یا پولیس ملازم کو معطل یا بحال کریں.

جام کمال صاحب اس طرح بلوچوں کا بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک پولیس والے کو عہدے سے ہٹا دیا اور  دوسرے کے خلاف ایکشن لے لیا؟ کیا آپ  انڑنیٹ کا انتظام نہیں کر سکتے بچوں کے لیے صوبے میں جبکہ آپ تو وزیر اعلیٰ ہیں بقول آپ کے بااختیار بھی ہیں آن لائن کلاسز کے لیے جو چیزیں در کار ہے کم از کم وہ تو میسر ہوں بنیادی انسانی حقوق تو بلوچوں کے آپ کی آرمی غضب کر ہی چکی ہے خدارا اب کہ بلوچ نوجوانوں کو علم سے دورنہ  کیا جائے اور ساتھ ساتھ بلوچستان کے طالب علموں کو انٹرنیٹ تک رسائی دیں تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں.

تعلیم کا بجٹ کم کر کے دفاع کا بجٹ بڑھا دیا گیا اور اس کی عملی صورت کل بلوچستان میں دیکھنے کو ملی، جان بج کر نفرتوں کو ہوا دی جارہی ہے  یہ احتجاج آئینی حق ہے یوں تشدد اور ظلم و ستم کر کے آپ نہ تو بلوچوں کو زدوکوب کر  سکتے ہیں نہ ہی پشتونوں کو اور نہ ان نہتی بچیوں کوجن کے پیروں میں معمولی چپل ہیں اور ان کے سامنے لاکھوں روپئے کے ہتھیار رکھے ہوئے ہیں جیسے کہ یہ دہشت گرد ہیں بڑے سے بڑے مجرم کے چہرے پر کپڑا ڈال کر تصویر کھینچی جاتی ہیں, جبکہ ان بچیوں کے چہرے دنیا کو دکھا رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا کہ یہ نہتی بچیاں اور ان کا علم حاصل کرنا اس صوبے پر پر قابض خاکی کمپنی کے لیے کتنا خوفناک خواب ہے پنجاب میں بیٹھ کر میں یہ کہہ سکتی ہوں آج کے عام بلوچی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس ریاست کے سامنے  ہماری کوئی عزت نہیں، آج بلوچی بچیوں کی گرفتاری نے عام بلوچی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور جس مزاحمت کو یہ ریاستی جبر سے ختم کرنا چاہ رہے اب اس کو مذید تقویت ملے گی ریاست کےاس عمل کے بعد عام بلوچی سوچ رہا کہ جیسے بلوچی طلبات کو مار کر گسیٹ کر لے جارہے ہیں انکا قصور یقیناً صرف یہی ہے ایک تو یہ بلوچی ہیں دوسرا بلوچستان کے طالبات علم ہیں۔ پھر پوچھتے ہیں کہ نیشلزم کی جڑیں بلوچوں کےدلوں میں کیسےگہری ہوتی ہیں اتنی،

بلوچستان کو دیکھ لیں آپ وہاں اکانومی تباہ ہے میڈیا نا ہونے کے برابر ہے اختر مینگل صاحب نے حکومت چھوڑی ہے لوگوں کے حقوق کی بات کی ہے تو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہے نوجوانوں کو پہلے ہی اغواء پھر قتل کر دیا جاتا نامعلوم افراد کی طرف سے جنکا ہم سب کو معلوم ہے کہ کون ہیں اور اب بچیوں کی گرفتاری، ریاست آخر چاہتی کیا ہے؟ مُلک توڑ دیا تھا 1971 میں اب بھی توڑنا چاہتے ہیں یہ شاید کیونکہ بلوچی اب نہیں رکنے والے ان کی مزاحمت اب تیز ہوگی میڈیا دکھائے یا نہ دکھائے اور یہ تو معاشرے میں نطر آتا کہ مزاحمت حقوق کی ضامن ہے، مزاحمت آزادی ہے، مزاحمت زندگی ہے۔ اب بلوچی اپنے حقوق کی جنگ پہلے سے زیادہ شدت سے لڑیں گے پھر ملک ٹوٹے یا بلوچستان ان کی کالونی نہ رہے کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

رشید مصباح نہیں مرے | سرفراز انور صفی

تحریر: سرفراز انور صفی “ جنابِ صدر ! رشید مصباح کے بارے آپ میں سے …

ایک تبصرہ

  1. “غیرت مند قومیں حقوقِ مانگنے پر بیٹیوں کو زندان میں نہیں ڈالتی ہیں”

    سو باتوں کی یہ ایک بات ہے !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے