پیر , 23 نومبر 2020
ensdur

ہمارے ڈرامے | صبحین عماد

تحریر: صبحین عماد

میڈیا کسی بھی ملک کے لیے معاشرے کو بہتر بنانے اور بگاڑنے میں ایک اہم کردا ادا کرتا ہے ،فلموں ڈراموں سے ہی معاشرے کی خوبصورتی اور بدصورتی کو بآسانی لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔

اس بات سے ہرگز اختلاف نہیں کہ بے شک پاکستانی فلم انڈسٹری ابھی اس طرح کامیاب نہین جیسے ہم بالی وڈ یا ہالی وڈ کو دیکھ رہے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ پاکستانی ڈرامے آج سے نہیں بلکہ شروعات سے ہی ملک سمیت دنیا بھر میں بے حد پسند کیے جاتے رہے ہیں۔

پرانے پاکستانی ڈراموں کی کہانیاں جس خوبصورتی سے لکھے اور دکھائی جاتی تھیں کہ آج بھی لوگوں کو یاد ہیں لیکن کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ آج کل کچھ مخصوص اورحساس موضوعات پر ہی کیوں ڈرامے بنائے جارہے ہیں؟

ان موضوعات پر ڈرامے کیوں نہیں بنائے جاتے جو ہمارے معاشرتی ، خاندانی سماجی اوراخلاقی مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل پیش کریں ۔

اس وقت ٹی وی چینلز پر پیش کیے جانے والے ڈرامے ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں،کیونکہ ان کے ذریعے ہماری دینی ، اوراخلاقی قدریں کھورہی ہیں بلکہ ہماری نسلوں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے مگر یہاں کسی خاص ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ایک ہی پیغام کو بیک وقت کئی ڈراموں کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے۔

صرف ڈراموں کے نام اور کردار بدلتے ہیں لیکن موضوع اور اس میں موجود پیغام وہی مخصوص ہوتے ہیں ۔

اس طرح کے ڈراموں کے ذریعے اس سے قوم کی بیٹیوں کوپیغام دیا جارہا ہے کہ گھر ٹوٹنا ،خاوند سے جھگڑ کر طلاق لینا، اپنی مرضی سے دوسرے مردوں سے تعلق رکھنا کوئی عیب نہیں ناجانے کیوں عقل پر تالے ڈالے جارہے ہیں کہ رشتوں کا تقدس پامال کرنا کوئی بری بات ہی نہیں ،بہن کا بہنوئی سے ناجائز رشتہ کرنا ماں باپ کو عزت کے قابل نا سمجھنا ،گھر سے بھاگنا صرف اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانا ایسے ڈراموں سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں یہ ڈرامہ نگار کہ ماڈرن ہونا اسے کہتے ہیں کہ اپنی تہذیب کو بلائے طاق رکھ کر بس بے حیائی کو فروغ دیا جائے ۔

پتہ نہیں پر کیوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے میڈیا اور ڈرامہ انڈسٹری نے قسم کھارکھی ہے کہ کشمیر ، بلوچستان ، سرحدی امور ، مسلح افواج کی قربانیوں ، دہشتگردی کے خلاف جنگ پر یہ کوئی ڈرامہ نہیں بنائیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ صرف 3 4 چیزوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے طلاق دوسری شادی ،ریپ یا پھر جادو ٹونا ۔

آج کل ڈرموں کے نام بھی ایسے رکھے جارہے ہیں کہ کوئی دوسرا دیکھنے سے پہلے ہی حیران ہو کہ یہ کون سے معاشرے میں جی رہے ہیں ۔

ہم جہاں ڈرامے ایسے بھی پیش کئے جارہے ہیں جن کا مرکزی خیال جادو ٹونا،توہم پرستی ،اللہ سے تعلق کو توڑ کر لوگوں میں جادو کے عمل کے ذریعے اپنا ہر کام کرنے کی ترغیب، لڑکیوں کا گھر سے بھاگ کر شادی کرناہےجلن حسد ،بری پھپپو،نند محبوب اپکے قدموں میں ،جیسے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں ایسے ڈراموں کو دیکھنے والے معاشرے سے بہتری کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔

دوسری طرف بھارت ہے جس نے بالی وڈ میں اپنی افواج ،دہشت گردی اور اپنے مشہورشخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہزاروں فلمیں ان کی زندگی پر بنائی ہیں اور اب بھارت نے نیٹ فلیکس پر قبضہ کررکھا ہے ہر دوسرا ڈرامہ سیزن ہمارے خلاف بنارہے ہیں ان کی ہر فلم میں وہ بے ڈھرک پاکستان کے خالاف زہر اگلتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسی نا کوئی فلم بنائی جاتی ہیں نا ہی کوئی ایسے ڈرامے ۔

پرانے ڈراموں کی اگر بات کریں تو ملکی افواج پر بنائے گئے ڈرامے آج بھی قوم کا لہو گرمانے اور آنکھوں میں آنسوں لانے کے لیے کافی ہیں لیکن اب ان جیسی کہانیاں اور جوش آج کل کے ڈراموں میں دور دور تک نظر نہیں آتیں ۔

پرانے ڈرامے دھوپ کنارے ،دھواں ،مہندی ،سونا چاندی ،ایلفا براوو چارلی جیسے مشہور اور خوبصورت ڈراموں کی ایک لمبی فہرست ہے جس کو دیکھتے ہوئے آج بھی ملک سے محبت ،تہذیب ثقافت کے سارے ہی رنگ جھلکتے نظر آتے ہیں ۔

لیکن اب تو لگتا ہے پاکستان کا میڈیا ، صحافی ، ایکٹرز ، پروڈیوسرز ،ڈائیرکٹرز ،چینل مالکان ملک و قوم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے ناآشنا ہیں ۔

جس وقت قوم کو انکی تاریخ ، ملک کے قربانیوں پر مبنی ، معاشرے میں بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے ڈراموں کی ضرورت تھی تب غیر اخلاقی مواد پھیلایا جا رہا اور جب کوئی چینل اسلامی تاریخ پر بنی ڈرامہ دکھانے لگا تو بھی ان کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی یہ تو و ہی بات ہوگئی کہ نا ہم کام کریں گے نا دوسروں کو کرنے دیں گے ۔

اسلامی تاریخ پر مبنی ارتغرل ڈرامے کے ریلیز ہوتے ہی پاکستانی اداکاروں نے ایک ہنگامہ مچا دیا تھا ایک کے بعد ایک بیان سامنے آءے لیکین کبھی انھی اداکاروں کو آج کل چلنے والی کہانیوں پر اعتراض کرتے ہیں دیکھا۔

صد افسوس! ہمارے میڈیا نے عورت کو خود غرض، لالچی، بے رحم اور بدکردار دکھانے کی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے، حالانکہ عورت اپنی فطرت کے اعتبار سے نہ کبھی ایسی تھی اور نہ ہے، مگر ڈراموں کے ذریعے اس کی بھر پور ذہن سازی کر کے رشتوں کے تقدس اور احترام کو پامال کر وایا جارہا ہے۔

میڈیا اگرچاہے تو اصلاحی ڈرامے پیش کرکے نسلوں کی فکری تعمیر اور معاشرے کو سدھارنے میں اہم کردار اداکر سکتا ہے۔ شاید اس میڈیا کواستعمال ہی اس کام کے لیے کیا جاتا ہے کہ ہمارے گھروں تک ایسی آوارگی اور بے حیائی پہنچائے جو ہماری دنیا و آخرت کو جہنم بنا دے لیکن ان کی ٹی آر پی کوئی نقصان نا ہو۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نعیم بخاری کو تین سال کے لیے چیئرمین پی ٹی وی تعینات کر دیا گیا

حکومت نے نعیم بخاری کو تین سال کے لیے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے