منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

ہمارا تعلیمی نظام | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

کسی بھی ملک اور قوم کے لئے اس کا تعلیمی نظام نہایت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے.
دنیا میں قوموں نے ترقی ہی تعلیم کی وجہ سے کی امریکہ، جاپان، چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف اور صرف تعلیم کی بنیاد پر ترقی کی
آج ان ممالک کے تعلیمی ادارے رینکنگ کے لحاظ سے بہترین تعلیمی ادارے ہیں. طلباء ان تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنا فخر سمجھتے ہیں. اب ذرا پاکستان کے تعلیمی نظام پر ایک نظر ڈالتے ہیں.
1947 سے لے کر 2020 تک  حکومتیں آئیں اور گئیں مگر کسی نے بھی تعلیم پر توجہ نہیں دی. تعلیم کا بجٹ دیکھ لیں سب سے کم ہوتا ہے. تعلیم اس وقت ایک قومی ضرورت ہے مگر پاکستان میں یہ بزنس  ہے. اور کوئی ذریعہ معاش نظر نہ آیا گلی کے کونے میں سکول کھول لیا. نہ اساتذہ کا علم، نہ تجربہ اور نہ سلیبس کا کوئی اندازہ. بس بزنس کرنا تھا سو کر لیا.میرے ملک میں تعلیمی اداروں کی کمی نہیں ہے مگر افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں نااہل اساتذہ کا راج ہوتاہے، پرانا سلیبس، کرپشن عام ہوتی ہے نااہل لوگ  بھرتی ہوتے ہیں.کم بجٹ، نااہل اساتذہ، سیاسی مداخلت، غیر یکساں نظام تعلیم، کرپشن، نااہل تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد، پرانا سلیبس اور دیگر وجوہات نے آج پاکستان کے نظام تعلیم کو عروج سے زوال تک پہنچا دیا ہے.. ہمیں ایسی تعلیم دی جاتی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف ڈگری لینا ہوتا ہے گریڈ
ہی آنا چاہیے اس سے کم نہیں بس ڈگری مل جائے اور کیا A چاہیے. بہت سے لوگ میں نے آپ نے ہم سب نے دیکھے ہیں جو پڑھے لکھے جاہل ہوتے ہیں کیوں؟ اس کا جواب بہت ہی آسان ہے تعلیم ہی ایسی دی جاتی ہے جو ہمیں انسان نہیں بناتی صرف ایسے لگتا ہے گدھے پر کتابیں لادی گءی ہوں.دینی مدارس اور دنیاوی تعلیمی اداروں کے بچوں کے درمیان اس غیر یکساں سلیبس نے فاصلہ بڑھا دیا ہے. کسی مدرسے کے بچے سے انگریزی میں ایک لفظ پوچھ لیں اسے ایسے لگے گا کہ وہ ایک الگ سیارے میں آگیا ہے یا کسی آپ کا تعلق کسی اور سیارے سے ہے.

یہ فاصلہ بھی سب سے زیادہ نظام تعلیم کو فرسودہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.
تعلیم کا انسانی نفسیات کا گہرا اثر ہوتا ہے مگر یہاں 1947 سے 2020 تک ایک ہی طرح کا سلیبس پڑھا رہے ہیں دنیا آگے جا رہی ہے اور ہم بدستور پیچھے ہو رہے ہیں. استاد روحانی تربیت کرتا ہے مگر مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کا استاد صرف کتابوں سے پڑھاتا ہے اور روحانی تربیت نہیں کرتا ابھی کچھ دن پہلےہی  لاہور گرامر سکول کا واقعہ سب کے سامنے ہے ایک روحانی استاد نے روح تک کو چھلنی کردیا اساتذہ کا مقصد پڑھانا نہیں ہے صرف گریڈ دینا ہو جاگیا ہے اور اس کی وجہ سے طلبہ صرف اور صرف گریڈز کی حد تک تعلیم حاصل کرتے ہیں. فرسودہ امتحانی نظام جہاں رشوت اور کرپشن عام ہے پاکستان امتحانی نظام صرف طلبہ کی ذہنی صلاحیتوں یاداشت کو پرکھتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے اس کے بعد گریڈز کے چکر میں جو رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے سفارش کرکے گریڈز تبدیل کروانے کا رجحان طلبہ میں عام ہو چکا ہے مگر کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے کیونکہ ایک استاد کو صرف گریڈز چاہیے طلبہ کی صلاحیت سے اسے کیا لینا دینا. پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں کی اپنی اپنی دنیا ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھاری  فیسیں غریب والدین کی پہنچ سے کوسوں دور اور سرکاری تعلیمی اداروں کا ماحول خوفناک ہوتا ہے اب والدین بیچارے جائیں تو کہاں جائیں؟
کرپشن ایک ایسی بیماری ہے جو اندر اندر سے دیمک کی طرح ادارے کو چاٹ جاتی ہے یہاں تو فنڈز کے نام پر کرپشن ہوتی ہے اور پھر اپنی ہی لیے آئی فون لیے جاتے ہیں تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ کرپشن تمام فساد کی جڑ ہے مگر یہ کیسی تعلیم ہے جو خود ہی تعلیمی ادارے کے سربراہ کو کرپشن کرنے پر مجبور کرتی ہے؟
سیاسی مداخلت نے بھی پاکستان کے تعلیمی نظام کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے یہاں تو وڈیرے کو اپنے ڈیرے کے لیے جگہ نہیں ملتی تو وہ سکول کی عمارت کا سہارہ لیتا ہے اور جانوروں کیلیے جگہ نہ ملنے پر سکول کی عمارت کو ہی جانوروں کا باڑہ بنا دیا جاتا ہے.
ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہے ایک ایسی تعلیم جو ہمیں انسان بنائے جو ہمیں ایک قوم کی طرح ترقی دے ہمیں ڈگری حاصل نہیں کرنی میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے اصلاحات جلد سے جلد لے کر آئیں تاکہ پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہو سکے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے