منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

ہزارہ برادری کا میتوں کے ہمراہ احتجاج جاری، ورثاء کا تدفین سے انکار

بلوچستان کے علاقے مچھ ميں دہشت گردوں کی فائرنگ سے قتل کیے گئے ہزارہ برادری کے 10 کان کنوں کی میتوں کو بائی پاس روڈ پہنچا دیا گیا ہے، جہاں لواحقین اور ہزارہ برادری کا احتجاج جاری ہے۔

مچھ میں قتل ہونے والے ہزارہ برادری کے 10 کان کنوں کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا، جب کہ بلوچستان کی خون جما دینے والے سخت سردی کے باوجود لواحقین اور ہزارہ برادری کا میتوں کے ہمراہ دھرنا اور احتجاج جاری ہے۔ دھرنے میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مظاہرین کان کنوں کے قتل کے خلاف مغربی بائی پاس پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ مغربی بائی پاس کے دونوں اطراف کو ٹریفک کیلئے مکمل بند کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل نے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد میتوں کو مچھ سے کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن کے ولی العصر امام بارگاہ منتقل کرایا۔ مقتولين کی تدفين آج دوپہر 1 بجے ہزارہ ٹاون قبرستان میں متوقع تھی۔ ہزارہ قومی جرگہ اور مجلس وحدت مسلمین کا کہنا ہے یقین دہانی اور قاتلوں کی گرفتاری تک مغربی بائی پاس پر دھرنا جاری رہے گا۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے واقعہ کے خلاف اسمبلی میں آواز بلند کرنے کا بھی اعلان کيا ہے۔

بلوچستان بار کونسل نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے آج صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان بار کونسل کے وائس چیرمین قاسم علی گاجزئی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سانحہ مچھ میں مزدور محنت کشوں کے قتل اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر آج بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے مچھ میں ہزارہ کان کنوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم سے منسلک اعماق نیوز ایجنسی پر شائع ہونے والے بیان میں 10 کان کنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر کچھی محمد مراد کاسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قتل کیے گئے کان کنوں کے گلے بھی کاٹے گئے تھے۔ ڈی سی محمد مراد کاسی کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیے گئے کان کنوں کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

 

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے