جمعرات , 28 جنوری 2021
ensdur

ہزارہ برادری کا غم | محمد بشیر

تحریر: محمد بشیر

کوئٹہ کی ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے. مختلف لکھاریوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس افسوس ناک واقعے پر تبصرے کئے ہیں. اس ظلم پر جتنا بھی قلم اٹھایا جائے کم ہے. کیونکہ یہ بد نصیب لوگ بڑے عرصے سے دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کر رہے ہیں. اس قتل و غارت کے نتیجے میں ہزارہ برادری کے سینکڑوں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں . پچھلے دنوں ظالموں نے اس برادری سے تعلق رکھنے والے گیارہ افراد کو بڑی بے دردی اور سفاکی سے موت کی نیند سلا دیا تھا. اس سانحے نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے. ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزارہ برادری کے مظلوم افراد سے اظہار یکجہتی کیا.

مقتولین کے بدنصیب ورثاء ایک ہفتے تک اپنے پیاروں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر اس امید پر بیٹھے رہے کہ ریاست کا حکمران آکر ان کے سروں پر ہاتھ رکھے گا. ان کی یہ امید بلاوجہ نہیں تھی کیونکہ وہ ایک اسلامی جمہوری حکومت کے باسی تھے. ان بدقسمت لوگوں کو شائد یہ بھی امید ہوچلی تھی کہ وہ ریاست مدینہ کے شہری ہیں. اور مدینے کی ریاست کا داعی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے ضرور آئے گا. بدقسمتی سے ان کی امید اس وقت دم توڑ گئی. جب حاکم وقت نے ان کی فریاد سننے سے صاف انکار کردیا. اورعلی الاعلان ان کو ٹکا سا جواب دے دیا. محترم وزیراعظم کے اس ردعمل پر پوری قوم ہکا بکا رہ گئی. ریاست کے سربراہ کی یہ منطق کہ ورثاء کی طرف سے عائد کیا جانے والا مطالبہ بلیک میلنگ کے مترادف ہے کو کسی حلقے کی جانب سے اچھی نظروں سے نہیں دیکھا گیا. انہوں نے اپنے چند وزراء اور چیف منسٹر بلوچستان کی کوئٹہ جانے کی درخواست کو بھی رد کردیا. موصوف کی اس بےحسی پر مبنی رویے نے ایک طرف قتل ہونے والوں کے رشتے داروں کی امیدوں پر پانی پھیردیا اور دوسری طرف پوری قوم کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا.

خان صاحب نے کوئٹہ نہ جانے کا جو جواز پیش کیا ہے. وہ بالکل وزن نہیں رکھتا. کیونکہ ہزارہ برادری کا مسئلہ باقی ملک میں پیش آنے والے واقعات سے قطعی طور پر مختلف ہے. یہ بدنصیب لوگ جو کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں. کافی عرصے سے ظلم و بربریت کا نشانہ بن رہے تھے.اور قتل و غارت کا یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. ان کا یہ مطالبہ بڑی حد تک جائز تھا کہ وزیراعظم ان کے پاس آکر ان کو تسلی بھی دیں اور انہیں مستقبل میں تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کراہیں. کیونکہ صوبائی حکومت سے وہ لوگ بڑی حد تک مایوس ہوچکے تھے.

لیکن عمران خان ایک ضدی بچے کی طرح اڑ گئے. اور لاشوں کی تدفین تک بلوچستان جانے سے صاف انکار کردیا. آخر کار مقتولین کے دکھی ورثاء نے ہی شکست تسلیم کرنے میں عافیت سمجھی. اور اپنے معصوم اور بے ضرر مطالبے سے دستبرداری اختیار کرلی.

بعد میں جناب وزیراعظم اپنے لاؤلشکر کے ساتھ شاہانہ انداز میں عازم کوئٹہ ہوئے. ان کی شاہی سواری جب اس بدنصیب شہر سے گزررہی تھی تو کسی پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں تھی. شہر میں نہ کوئی بندہ نظر آرہا تھا نہ بندے کی ذات. اپنے آپ کو ریاست کا چوتھا ستون کہنے اور کہلاوانے والوں کو بھی وزیراعظم کے دورے سے بے خبر رکھا گیا. پی ٹی وی کی کمان سنبھالنے والے جناب نعیم بخاری کی مہربانی سے صرف سرکاری ٹی وی کو اس دورے کی کوریج کرنے کی اجازت دی گئی. وزیراعظم جو آج کل کالے چشمے استعمال کرتے ہیں نے ایک یونیورسٹی کے لان میں چند بدنصیب خواتین کو بلا کر شرف ملاقات بخشا. اور ان کو مطالبات منظور ہونے کی نوید سنائی. یہ علیحدہ بات ہے کہ اس مظلوم برادری کے مطالبات صرف منظوری کی حد تک ہی رہ جانے کا قوی امکان ہے.ان پر عملدرآمد ہوتا بڑا مشکل دکھائی دے رہا ہے. کیونکہ وعدے کرکے مکر جانے میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا ثانی نہیں رکھتی. وزیراعظم کے کوئٹہ کے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں کو کیوں بےخبر رکھا گیا. اس بات کی سمجھ نہیں آئی.

آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں پاکستانی سوشل میڈیا چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکا ہے. ہمارے نوجوان چند سطری ٹویٹ کے ذریعے ایسی گہری بات کہہ ڈالتے ہیں کہ کسی صحافی کا پورا کالم یا بلاگ بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا. وہ ایسے ایسے ٹرینڈ چلاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے. جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے وہ اب اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے. موجودہ حکومت نے اس کے پر جو کاٹ دئے ہیں. زیادہ تر بے روزگار صحافی حضرات نے یوٹیوب چینل بنالئے ہیں. اور اپنی اپنی ڈفلی بجانے میں مصروف ہیں. وہ عوام کو چینل سبسکرائب کرنے اور گھنٹی کا بٹن دبانے کی درخواست کرتے ہیں. تاکہ ان کو سیاسی اور سماجی معاملات سے باخبر رکھا جاسکے.

دراصل صحافی برادری کو پرویزمشرف, آصف علی زرداری اور نوازشریف کی بددعا جو لگ گئی ہے. کیونکہ میڈیا نے ان سابقہ حکمرانوں کا ناطقہ بند کررکھا تھا. ہر روز وہ ان کے درپے رہتے اور ان کے بخئے ادھیڑتے رہتے. نوازشریف اس حوالے سے سب سے زیادہ بدنصیب رہے. کیونکہ ان کے دور میں تحریک انصاف, عوامی تحریک اور ٹی ایل پی کے دھرنوں کی براہ راست اور صرف ایک زاویے سے کوریج کی جاتی رہی. ہر چینل بڑھا چڑھا کر حکومت مخالف ایونٹس کو پیش کرتا رہا. اس بےلگام میڈیا کو اب جیسے سانپ سونگھ گیا ہو. پانامہ کیس کو لے کر چینلز نے بڑا اودھم مچا رکھا تھا. لیکن اب جسٹس قاضی فائز کیس کا ذکر کسی چینل کو کرنے کی ہمت نہیں ہوتی. اب بڑے بڑے نامی گرامی اینکر اور صحافی حضرات سرکار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوکر تائب ہوچکے ہیں. جو اینکر سرکار پر تنقید کرتا ہے وہ اب معتوب ٹھہرتا ہے. اگر میڈیا سابقہ ادوار میں ریٹنگ کے چکر میں نہ پڑتا. اور مادر پدر آزادی نہ دکھاتا. تو آج اسے مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا.

بات کہاں سے کہاں نکل گئی. ہمارا آج کا موضوع ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ تھا. جب بھی یہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو چند دن تک حکومتی اکابرین ان کو تسلیاں دینے کے بعد تنہا چھوڑ دیتے ہیں. صوبائی حکومت کی مگر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو مستقل بنیادوں پر سیکورٹی فراہم کرے. تاکہ ان کو تحفظ کا احساس ہو. ان کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہے. کئی گھرانے اپنے کمانے والوں سے محروم ہوچکے ہیں. ہمارے ملک میں یہ عجیب روایت ہے کہ سیاستدانوں, وزرا اور بڑے لوگوں کو آؤٹ آف وے سیکورٹی مہیا کی جاتی ہے لیکن گلی محلوں اور بازاروں میں جہاں لاقانونیت عروج پر ہوتی ہے کو مجرموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے. بعض علاقوں میں جرائم اور دہشت گردی کے بڑہتے ہوئے واقعات کی وجہ سیکورٹی اداروں کی غفلت اور مناسب گشت کا نہ ہونا بھی ہے. مدینے کی ریاست بنانا تو درکنار حکومت اپنے موجودہ وسائل کو بروئے کار لا کر شہریوں کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے. ہمارے وزیراعظم صرف گفتار کے غازی بن چکے ہیں. وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو کب تک بےوقوف بناتے رہیں گے. لیکن یہ بات ان کو یاد رکھنی چاہئے کہ قدرت کے کاموں میں دیر ضرور ہوتی ہے مگر اندھیر نہیں. ظلم کی سیاہ رات ایک دن ضرور ختم ہوتی ہے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

جنسی ہراسگی۔۔۔! | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ابو بینک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے