منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

ہاں شرجیل میمن نے اپنے حلقے پی ایس 63 میں کام کیا ہے | ضامن حسین کلیری

تحریر: ضامن حسین کلیری

یہ حلقہ بنیادی طور پر تعلقہ حیدرآباد یعنی تقریبن دیہاتی حلقہ ہے اس حلقے میں ایک میونسپل کمیٹی اور 16 یوسیز ہیں، اس حلقے کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ محترمہ شھید بینظیر بھٹو بھی حیدرآباد دیہی سے الیکشن جیت چکی ہیں اس لیئے اس حلقے کو لٹل لاڑکانہ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ یہ حلقہ مخالفین کے لیے ابھی تک ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور قیام پیپلز پارٹی سے لیکر آج تک پاکستان پیپلز پارٹی سے اس حلقے سے کوئی بھی جماعت الیکشن نہیں جیت پائی اس لیئے اس حلقے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے قلعے کے طور پر جانا جاتا ہے اور اب یہ حلقہ سندھ میں ایک ماڈل حلقے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے.

جب ہم نے اس حلقے کا ایک تفصیلی دورہ کیا تو ہمارے چودہ تبق روشن ہو گئے ایک دیہی حلقے میں کیا کچھ نہ تھا یہاں سڑکیں ، اسکول، ہیلتھ سینٹر، ووکیشنل سینٹر، آر او پلانٹس، الٹرا واٹر فلٹریشن پلانٹ، ڈسپنسریاں، اور بہت کچھ دیکھنے کو ملا . جب ہماری بات وہاں کے کچھ رھائیشیوں سے ہوئی تو ان کا کہنا تھا. خوشقسمتی سے ہمارا ایم پی اے شرجیل انعام میمن ہے اگر آپ لوگ اس حلقے پر شرجیل انعام میمن کے آنے سے پہلے یعنی 2013 کے انتخابات سے پہلے نظر ڈالیں گے تو یہ حلقہ آپ کو ایک پسماندہ حلقہ نظر آئیگا، یہاں کے روڈ، یہاں کی ھیلتھ یونٹ، یہاں کے اسکول آپ کو سب زبوں حالی کا شکار نظر آئینگے، صاف پانی کی کوئی سہولت نہ تھی اور عورتوں کے لئے کوئی بھی سھولت یعنی یہاں دستکاری یا عورتوں کو اس قسم کی ٹریننگ دینے کے لیئے کوئی سینٹر تک موجود نا تھا لوگ پریشان تھے کوئی بھی بنیادی سھولت اس حلقے میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس بات کو محسوس کیا اور 2013 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے شرجیل انعام میمن کو الیکشن کانٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی کی محبت اور کارکنان کی محنت اور شرجیل میمن کی عوام میں مقبولیت اس حلقے میں اتنی تیزی سے بڑھی کے 2013 کے الیکشن میں شرجیل میمن بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر عوام سے کیئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیئے میدان عمل میں آ گئے.

اگر ہم ایک سراسری نظر دوڑائیں تو ہمیں ایک بات صاف معلوم ہوگی کے شرجیل میمن نے اس حلقے میں بہت اچھا کام کیا ہے ، جو کام سالوں تک نہ ہو پائے انہوں نے وہ کام چند سالوں میں کر کے دکھائے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ حلقہ نئی سڑکوں سے سجا دیا گیا زبوں حال اسکولوں کی بلڈنگز کو نئے سرے سے تعمیر کیا گیا بدحالی کا شکار ہیلتھ سینٹر میں آپریشن تھیٹر کو فنکشنل کیا گیا عورتوں کو خود کفیل بنانے کے لیے مختلف مقامات پر ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کا آغاز کیا گیا پینے کے صاف پانی کو گھر گھر پنچہانے کے عزم سے حلقے کے ان دیہات میں تقریبن 10 آر او پلانٹس نصب کیے گئے جہاں پینے کا پانی ہی موجود نہ تھا اور لوگ دور دراز علاقوں سے پانی بھر کے لایا کرتے تھے اور ٹنڈو جام کے لیے 60 کروڑ کی لاگت سے بننے والا جدید الٹرا واٹر فلٹریشن پلانٹ منظور کرایا گیا جس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، ٹنڈوجام میں گرلس ڈگری کالج کی منظوری عمل میں لائی گئی، جگہ جگہ سولر اسٹریٹ لائیٹس کو انسٹال کرایا گیا جس سے کئی گائوں روشن کیئے گئے، ھنر مند عورتوں کو خد کفیل بنانے کے لیئے مستحق خواتین میں سلائی مشین مفت تقسیم کی گئی، اس کے علاوہ جو ایک انقلابی قدم اٹھایا گیا وہ تھا ایک فلاحی ادارے کا قیام، اس فلاحی ادارے کی بنیاد “انعام فائونڈیشن” کے نام سے رکھی گئی ،یہ فلاحی ادارہ اس حلقے کی عوام کے لیے ایک مسیحا کی طرح ثابت ہوا انعام فاؤنڈیشن کی جانب سے حلقے میں 20 ایمبولینس فرهام کی گئی جو بلکل مفت کام کرتی ہیں اس ادارے نے دور سے آنے والے اسکول سٹوڈنٹس کے لیے فری اسکول بس سروس کا آغاز کیا جو ایک انقلابی قدم ہے. انعام فائونڈیشن کی جانب سے ہر سال آنکھوں کی بینائی بچانے کے لیئے مفت میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں جن میں یہاں کی غریب عوام کا مفت آپریشن اور علاج کیا جاتا ہے.

شرجیل انعام میمن کی جانب سے انعام فائونڈیشن کا قیام ان کے بھترین اقدام میں سے ایک مانا جاتا ہے ، کرونا جیسی عالمی وبا میں انعام فائونڈیشن کا کردار کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں، آگاھی مہم سے لیکر کرونا کٹس تک انعام فائونڈیشن کی جانب سے مختلف سرکاری لیبارٹریز کو عطیہ کی گئی، یہ سلسلہ بس یہاں تک ہی نہ تھما جب کرونا میں تیزی سے اضافا شروع ہوا تو مجبوراً ملک میں لاک ڈائون لگا دیا گیا جس کی وجہ سے لاکھوں خاندان ایک نوالہ روٹی کے لیئے پریشان تھے تب انعام فائونڈیشن نے حیدرآباد میں “بھوکا نہ سوئے کوئی انسان” کے نام سے راشن تقسیم کا سلسلہ شروع کیا جس سے تقریبن 25000 ھزار مستحق خاندانوں تک راشن کی ترسیل کو ممکن بنایا گیا.

لوگ اکثر کہتے ہیں پیپلز پارٹی سندھ میں کام نہیں کرتی پر جب ہم نے خد یہاں آ کر پورے حلقے کا دورہ کیا اور خد چیزوں کو دیکھا تو واقعی اندازہ ہوا کے “ہاں شرجیل میمن نے اپنے حلقے پی ایس 63 میں کام کیا ہے”

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے