ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

ہارون رشید کی بھٹو صاحب پر تنقید | عماد بزدار

تحریر: عماد بزدار

یہ سکرین شاٹ آج دیکھ کر مجھے ہارون رشید صاحب کی ایک کالم یاد آگئی جو انہوں نے آج سے چار سال پہلے لکھی تھی جس کے جواب میں میں نے درج ذیل پوسٹ لکھی۔ وہ کالم پڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے کس طرح یہ لوگ حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔

ہارون صاحب حسب معمول ایک بار پھر بھٹو صاحب پر برسے بھٹو کے باقی جرائم کے ساتھ ساتھ میکاولی کی The Prince بھی بھٹو کی لائبریری سے برآمد کروالیا جو بقول ہارون صاحب کے بھٹو نے اوریانا کو فخریہ دکھایا۔ کیا لکھتے ہیں آئیے پڑھتے ہیں۔

“بھٹو نے آکسفورڈ اور برکلے میں تعلیم پائی۔ قائد اعظمؒ اور ان کے سوانح نگار ایک ہی ہے‘ سٹینلے والپرٹ Zulfi Bhutto of Pakistan کے عنوان سے اس نے ان کی سوانح لکھی ہے‘ چشم کشا۔ قائدِ اعظمؒ کا ادراک کرنے میں وہ کامیاب رہا مگر بھٹو کو پوری طرح وہ نہ سمجھ سکا۔ چمڑے کی قیمتی جلد میں میکائولی کی The Prince جن کی لائبریری میں رکھی تھی۔ مشہور اطالوی اخبار نویس اوریانا فلاسی Oriana Fallaci کو فخریہ طور پر یہ لائبریری انہوں نے دکھائی تھی‘ امام خمینی سے قذاقی تک کے تہلکہ خیز انٹرویو جس نے Interview with History کے عنوان سے چھاپے -”

اوریانا کی یہ کتاب میرے پاس پڑی ہے ہارون صاحب کا کالم پڑھ کر میں نے بھٹو صاحب کا انٹرویو دوبارہ پڑھا مجھے کہیں بھی میکاولی کا ذکر نظر نہیں آیا البتہ بھٹو کے پڑھنے لکھنے کے حوالے سے بات ہوئی جس کے بھٹو نے میرے خیال میں تسلی بخش جواب دئے۔ آئے پڑھتے ہیں کہ کیا بات ہوئی؟

“اوریانا: صاحب صدر، وہ کہتے ہیں کہ آپ مسولینی، ہٹلر اور نپولین کی کتابوں کے بیحد شائق ہیں؟۔

بھٹو: بالکل ہوں، اور اس کے ساتھDe Gaulle اور چرچل اور سٹالن کی کتابوں کا بھی ہوں۔ کیا تم مجھ سے کہلوانا چاہتی ہو کہ مین ایک نازی ہوں؟ میں نہیں ہوں ۔ایک نازی سب سے پہلے اپنے تمدن کا دشمن ہوتا ہے اور میں ایک عقلی تمدنی قسم کا انسان ہوں۔ایک نازی ہمیشہ دائیں بازو کا آدمی ہوتا ہے جبکہ میں بائیں بازو کی طرف ہوں۔ایک نازی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے جبکہ میں امیر طبقے سے ہوں۔

کسی مصنف کو پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے اپنا ہیرو بنا لیتے ہیں۔میرے بھی کچھ ہیرو ہوا کرتے تھے، ہاں، لیکن جب میں ایک طالبعلم ہوا کرتا تھا۔ہیروز تم جانتی ہو کہ چیونگم کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ انہیں اچھے سے چباتے ہیں، پھینک دیتے ہیں ،بدل لیتے ہیں اور انہیں آپ اس وقت پسند کرتے ہیں جب آپ جوان ہوتے ہیں۔

بہرحال ،اگر تم یہ جاننا چاہتی ہو کہ کسے میں نے زیادہ چبایا تو وہ یہ ہیں : چنگیز خان، الیگزینڈر، ہینی بال، نپولین ۔نپولین کو سب سے زیادہ۔لیکن میں نے کچھ کچھ Mazzini کو بھی چبایا تھوڑا Cavouri کو بھی، اور تھوڑا Garibaldi کو بھی چبایا ہوا ہے، اور روسو کو بھی بہت زیادہ۔تم نے دیکھا کہ مجھ میں کس قدر اختلافات پائے جاتے ہیں؟ ”

میکاولی کی کتاب کا ذکر کر کے ہارون صاحب بھٹو کو میکاولی کا شاگرداور اقتدار کا بھوکا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں تا کہ ان کے ممدوح امیرالمؤمنین جنرل ضیاءالحق کے گناہوں کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔

بھٹو پہ تنقید ضرور کریں وہ انسان ہی تھے گزارش ہارون صاحب سے اتنی ہے کہ حوالے درست دیا کریں اس بات کی ضرورت اس وقت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب بندہ اپنے کالم کی ابتدا اور اختتام قرآن کی آیات اور آحادیث سے کرتا ہو۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے