پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

کیا ہم بدل گئے ؟ | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل

یوں لگتا تھا جیسے وبا کے دوران ساری دنیا کے دکھ سانجھے ہو گئے تھے اور ساری دنیا یکسوئی کے ساتھ وبا کے ساتھ مقابلے میں مصروف ہے، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب دنیا کی ترجیحات یکسر بدل گئی ہیں، حکمرانی کے انداز تبدیل ہو گئے ہیں، ملکی مفادات کے زاویوں کے رخ بنی نوع انسان کی جانب گھوم گئے ہیں، اب سامراجی قوتوں کو بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے سو بار سوچنا پڑے گا، اب بمیں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بنانے کی بحائے ہستپال بنانے ہوں گے ،مگر یہ سب خام خیالی ثابت ہوئی ،جسے ہی دنیا بھر میں وبا کا زور ٹوٹا اور کرونا وائرس کی ویکسین کی تکمیل انسانی آزمائش کے کامیاب تجربے کے بعد تکمیل کے حتمی مرحلے کی طرف گامزن ہوئی، وہی پرانی رنجشیں، نفرتیں ،سازشیں، سامنے انا شروع ہو گئی ہیں، فطرت نے دنیا کو جو چنوتی دی تھی ہم اسکو یکسر فراموش کر کے ایک بار اسی نفرت اور اندھے تصیب کی طرف لوٹ چکے، وہی اقتدار کی خواہشات کی تکمیل کے لیے محلاتی سازشیں کے جال دنیا کو اپنی مرضی کا پابند کرنے کی کوشش اور ذات پات مذہب زبان کے نام پر لسانی شازشیں شروع ہو چکی ہیں۔

ملکی صورت حال سب کے سامنے ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے پہلے دو سالوں میں اب تک ڈلیور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، وزراعظم عمران خان نے عوام کو جو امیدوں کے تاج محل بنا کر دکھائے تھے وہ دھڑام سے زمین بوس ہو چکے ہیں نہ تو وہ مہنگائی پر اب تک قابو پا سکے نہ ہی لوٹی ہوئی دولت واپس لا سکے ،تاہم ایک کریڈٹ اُن کو نہ دینا زیادتی ہو گی وبا کے دروان انکی حکمت عملی کامیاب رہی، اس وقت پاکستان میں وبا کا زور ٹوٹ گیا ہے اور بہت ہی کم تاثر کے ساتھ موجود ہے پوری دنیا پاکستان حکومت کی پالیسی کی تعریف کر رہی ہے عالمی میڈیا اقوام متحدہ اور ڈبلیو ایچ او کی جانب حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا ہے، ہمارے پڑوسی بھارت اور ایران دونوں وبا سے جان چھڑانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

حکومت کے خلاف متحدہ حزب اختلاف میدان میں آچکی ہے ،اب تک گوجرانولہ،کراچی ،کوہٹہ میں جلسے ہو چکے ہیں،اب پشاور،ملتان،اور لاھور میں جلسے ہونے ہیں، بدقسمتی سے اس وقت پی ڈی ایم کی قیادت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ گزشتہ 40 سالوں سے اقتدار میں رہے ہیں مسلم لیگ نون ،عوامی نشنل پارٹی،جمیت علماء اسلام فضل الرحمان،اور پیپلز پارٹی جو اس وقت بھی سندھ کی حکمران جماعت ہے، جب چالیس سالوں سے یہ لوگ ملکی مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تو اب کونسی توپ چلا لیں گے۔

بحرحال چونکہ جمہوریت میں احتجاج کا حق حزب اختلاف کے پاس ہوتا ہے لہٰذا ان سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا مگر خدارا اپنے اقتدار کی خواہشات میں اداروں کو آلودہ نہ کریں، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک میں ہیت مقتدرہ کی چھتر چھایا کے بغیر اقتدار نہیں ملتا ،مگر یہ کیا جب ہیت مقتدرہ آپ کو تین بار وزیر اعظم بنا دے تب ٹھیک ہے اقتدار ملنے کے بعد مسلم لیگ ن کا طرز عمل کچھ اور اقتدار سے الگ ہونے کے بعد کچھ اور ہو جاتا ہے ابھی تو نون لیگ نے اس بات کا بھی جواب نہیں دیا کہ چند ماہ پہلے سپہ سالار کی ملازمت میں توسیع کے لیے کیوں ووٹ دیا تھا، مولانا فضل الرحمان 30 سال سے کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہیں اسلام آباد میں سرکاری گھر تھا مشرف دور میں خبیر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومت انکے پاس تھی اور خود قائد حزب اختلاف تھے تب ہی پیت مقتدرہ ٹھیک تھی، اب آپ کو لفٹ ملنی بند ہو گئی ہے تو یہ خراب ہو گئے ہیں ،پپلز پارٹی ایک ٹکٹ میں دو مزے لیے رہی ہے سندھ حکومت بھی پاس ہے اور حزب اختلاف کے جلسوں میں تواتر سے شرکت کر رہی ہے تاہم نواز شریف کی تقریر سے مناسب فاصلے رکھے ہوئے ہے اور اب تک حزب اختلاف کی جماعتوں میں سب سے زیادہ سنبھل کر کھیل رہی ہے۔ کیونکہ انکے پاس کھونے کے کچھ نہیں جبکہ پپلز پارٹی کے پاس ایک بڑے صوبے کی حکومت ہے، احتجاج سب کا حق ہے مگر ذاتی خواہشات کی تکمیل میں اس قدر اندھے پن کا مظاہرہ نہ کریں کی اپنی فوج اور انجسیوں کے خلاف وہ زبان بولیں جو دنیا بھر میں آپکے حریف بولتے ہیں، محمود خان اچکزئی کراچی میں اردو کے خلاف خوب بولے ہیں وہ لسانی بنیادوں پر سب سے کم ظرف سیاسی حکمت عملی پر چل رہے ہیں اور وطن عزیز میں لسانی بنیادوں پر ایک نی تفریح ڈال رہے انکی طرز سیاست قابل مذمت ہے۔ اب وہ کوہٹہ میں پشتون اشو پر افعانستان کے حوالے سے انکی تقریر بھی ایک اور لسانیات پھیلانے کی کوشش ہے پچھلی حکومت میں انکے ایک بھائی وفاقی وزیر تھے اور دوسرے گورنر بلوچستان تھے تب سب ٹھیک تھا مگر اب الیکشن میں شکیت کے بعد وہ وطن عزیز کو لسانی بنیادوں پر خونی کھیل میں دھکیل رہے، جو قابل مذمت ہے، یہ ٹھیک ہے وبا کے بعد بھی ہم نہیں بدلے وہی پرانے انداز لوٹ آئے ہیں

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی راولپنڈی میں انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی انتقال کرگئے۔ میر ظفراللہ خان جمالی دل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے