ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

کیا کراچی کا مسئلہ صرف تین جے۔ آئی ۔ ٹیز؟ | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تواک قطرہ خوں نہ نکلا

یہی حال عزیر بلوچ ، بلدیہ ٹاؤن اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی کا ہے۔ وفاقی وزراء علی زیدی اور مراد سعید جتنی شدت سے اسمبلی میں پی پی پی کو ایک غدار اور دشمن جماعت ثابت کرنے کے لئے عزیر بلوچ کا تعلق پی پی پی سے جوڑنے کی کوشش میں واویلا کر رہے تھے تواتنی ہی شدت سے یہ لوگ ناکام ہو چکے ہیں ، کیونکہ علی زیدی صاحب جنہوں نے اپنی پیش کردہ جے آئی ٹی کو آسمانی صحیفہ بنایا تھا انہوں نے خود اپنے بیان میں اس غبارے سے ہوا نکال دی۔ موصوف کہتے ہیں کہ یہ جے آئی ٹی ایک موٹر سائیکل سوار خاکی لفافے میں ان کے گھر دے گیا ۔ مگر حیرت ہے کہ یہ تو سب سے پہلے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پاس تھی اور اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے خود سب کو بتایا تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔

مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس وقت جے آئی ٹیز کی سیاست کرنے کا مقصد کیا تھا ؟  وہ بھی جب بجٹ اجلاس چل رہا ہو آخر ایسا کیا ہوا کہ اچانک علی زیدی صاحب پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ہوتے ہوئے عبدالقادر پٹیل تک سب کو ایک ہی چھڑی سے ہانکتے چلے گئے اورساتھ ساتھ تمام میڈیا اور دانشور بھی اسی حکومتی راگ کو الاپنے لگتے ہیں۔ مقصد واضح تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو پریشر میں لانا ہے یا کنڑول کرنا ہے۔ کیونکہ کورونا کی وبا میں ملکی اور غیر ملکی دونوں جگہوں پر سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ کی کارکردگی کو خوب سراہا جا رہا تھا تو یہ بات حکومتی حلقوں میں ہضم نہیں ہو پا رہی تھی کیونکہ خان صاحب کی کنفیوژڈ پالیسی کی وجہ سے خان صاحب نے اپنے ہی فیصلوں کو کمزور کر دیا۔ بجائے اس کہ کہ حکومت بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرتی الٹا اس نے سندھ حکومت سے ماتھا لگا لیا اورسندھ حکومت کو گندہ کرنے اورنیچا دکھانے کے چکر میں یہ جے آئی ٹی والا کھیل کھیلا۔

سندھ حکومت نے دباؤ میں آکر یا خود کی صفائی میں رپورٹ تو پبلک کر دی مگر ایک سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے رپورٹ کے اس حصے پر کوئی بات نہیں کی جار ہی کہ عزیر بلوچ سے ہر پارٹی نے رابطہ کیا جس میں موجودہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی شامل ہے۔ کامران شاہد اوران جیسے دوسرے اینکرزتصاویر کے بل بوتے یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ عزیر بلوچ لیاری میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کرتا دھرتا تھا تو جناب عزیر بلوچ کے ڈیرے پر تو مولانا طارق جمیل بھی گئے ہیں تصاویر بھی موجود ہیں اور عزیر بلوچ کی شان میں کہے گئے مولانا کہ کلمات بھی موجود ہیں۔۔۔اب اس پر میڈیا والے اور اینکرز کیا کہیں گے جناب!

ذوالفقار مرزا کو دیکھتے ہوئے بیشک پاکستان پیپلزپارٹی کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا مگر ذوالفقار مرزا کو بھی شک کا فائدہ دیا جاسکتا ہے کیونکہ نواز شریف نے 1999 میں ختم ہونے والی اپنی حکومت کے دور میں کراچی میں کافی امن قائم کرنے کی کوشش کی تھی ،جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کافی حد تک کمزور بلکہ تقریباً ختم ہو چکی تھی مگر مشرف صاحب نے اقتدار میں آتے ہی ایم کیو ایم کے اس تن ِ مردہ میں جان ڈالی اوراتنا مضبوط کر دیا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے سوا کسی اور کا زندہ رہنا مشکل ہو گیا۔ دس سال بعد حکومت جب پی پی پی کو ملی تو ذوالفقار مرزا صاحب جو اس وقت پی پی پی اور زرداری صاحب کا دم بھرتے نہیں تھکتے تھے انہوں نے شاید اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لئےایک اسلحہ بردار فورس کے مقابلے میں ایک اور اسلحہ بردار فورس بنانے کا سوچا۔ اب تک عزیر بلوچ کے دوست حبیب جان بلوچ کے ذوالفقار مرزا کے حوالے سے جو خیالات ہیں ان کے مطابق یہ بچہ ذوالفقار مرزا کا ہی تھا مگر شاید وہ ایک بات بھول گئے کہ اس کھیل میں آنے کا راستہ تو ہے مگر جانے کا راستہ نہیں ہے۔ اسی لئے جب پی پی پی قیادت نے یہ سب بند کرنے کا کہا تو ذوالفقار مرزا اور پاکستان پیپلزپارٹی کی راہیں جدا ہو گئیں اور بھی وجوہات ہوں گی مگر میرے نزدیک یہ ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ مگر کراچی کی یہ حالت ملک کے لیے ہر وقت جان نچھاور کرنے والے سپوت کے دور میں یہ ہو گئی تھی کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں تو کارساز پر دھماکہ ہوا۔ تو جانثاران ِ بے نظیر نے محترمہ کی جان بچائی اور ان کو حفاظت کے ساتھ وہاں سے نکالا۔ بلکہ یہاں تک بات پہنچی کہ رحمان ڈکیٹ جو کہ اس وقت تک سردار رحمان بلوچ ہو چکے تھے وہ گاڑی چلا کر محترمہ کو وہاں سے نکال کر لے گئے۔ اس واقعہ کی تردید تو سعید غنی صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں کی۔ مگر زبان زد عام یہی کہانی ہے۔

وفاقی وزیر اسمبلی میں عزیر بلوچ کی دہشت گردی کی کہانیاں سناتے پھر رہے ہیں مگر حیرت ہے عزیر بلوچ کو ابھی تک جعلی شہریت جرم میں فوجی عدالت سے 12 سال کی سزا ہوئی ہے ۔ عزیر بلوچ نے ایران میں اپنے کزن کی وفات کے بعد اس کے نام کی جعلی شہریت بنائی ،اس کے پاسپورٹ پر سفر کرتا اور پھر دبئی میں بزنس بھی کرتا رہا۔

عزیر بلوچ اس سزا کو کراچی سنٹرل جیل میں بھگت رہا ہے۔ دوسرا کیس اے ٹی سی کی عدالت میں چل رہا ہے جس میں عزیر بلوچ نے ایک بزنس مین عبدالصمد کو قتل کیا تھا۔ جب عزیر بلوچ کواس کیس میں اے ٹی سی پیش کیا گیا تو اس کیس کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی اور اس پر فرد جرم عائد کی گئی جہاں اس نے اس انکوائری رپورٹ سے انکار کرتے ہوئے صحت ِ جرم سے انکار کر دیا۔ اب یہ انکوائری اس (جے، آیٔی، ٹی )کا بھی حصہ ہے تو جناب اب بتا یٔں کہ اس (جے، آیٔی، ٹی )کی قانونی حیثیت کیا ہے یہ علی زیدی، مراد سعید اور ان جیسے دوسرے لوگوں کو بخوبی جان لینا چاہیے جو صرف عزیر بلوچ کےشہریت والے کیس میں 164 کے بیان میں سب بیانات کو شامل کر رہے ہیں۔

جے آئی ٹی کے شورو غل میں ایک چیز جو قابل غور ہے وہ ہے اپوزیشن کا متحرک ہونا جو بظاہر  تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ویسے تواس وقت ہمارے پی ٹی آئی کے دوست اور خود خان صاحب چاہتے ہیں کہ ان کی آواز کے علاوہ کوئی آوازنہ گونجے اور وہ اکیلے اقتدار کے ایوانوں میں پھرتے رہیں۔ مگر میری معلومات کے مطابق ایم کیو ایم کے امین الحق صاحب نے پہلے مسلم لیگ ن سے رابطہ کیا پھر انھوں نے بلاول بھٹو سے اور پھر پرویز الٰہی سے رابطہ کیا۔ اس بات پر خان صاحب اور پی ٹی آئی کے دوستوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ سونے پہ سہاگہ مولانا کچھ متحرک ہوئے اور ساتھ ہی سندھ میں آل پارٹیز کانفرنس کر ڈالی جس میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اورق لیگ بھی شامل تھی صرف اتنا ہی نہیں مولا نا فضل الرحمان کی بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ اس کی تصویر اور ویڈیوز بھی جاری کی گئی جو کہ حکومت کے لئے ایک واضح پیغام تھا۔ مضحکہ خیز بات تو یہ کہ پی ٹی آئی اس سیاسی پلچل کو مقتدر حلقوں کے آشیرباد سے جوڑ رہی ہے جبکہ میں پہلے ہی اپنے کالم میں یہ بات گوش گزار کر چکا ہوں کہ مقتدر حلقوں نے اب انگلی پکڑ کر چلانا چھوڑ دیا ہے۔ سوچنے سے عاری میرے حکومتی دوست یہ نہیں سمجھ پارہے کہ اپوزیشن نے بھی توسیاست کرنی ہے ان پر بھی عوام کا بہت دباؤ ہے کہ عوام کی بد حالی کا دم تو بھرتے ہیں مگر کچھ کرتے نہیں اس لئے میری اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اب اس طرح کی حرکتیں 2022 تک جاری رکھے گی اور 2022 ہی انتخابات کا سال ہو گا۔ میری دعا اور خواہش کہ الیکشن اپنے وقت پر 2023 میں ہی ہوں مگر مقتدر حلقے 2022 میں انتخابات کے انعقاد پر متفق بھی ہیں اور مصر بھی کہ اس سے زیادہ وقت اس حکومت کو نہیں دیا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے اپنی دانست میں اس بات کا یہ اثر لیا کہ اب وہ حالات سے لڑیں گے اور یہ سب ان کے خلاف سازش ہے تو وہ اس کا عقل سے نہیں طاقت سے جواب دیں گے اور جواب بھی مقتدر حلقوں کو دیں گے۔ حکومت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہی ہے کیونکہ فیصل واوڈا صاحب نے تو بہت جگہوں پر یہ بات کی ہے کہ ہم یوٹرن کے لئے بدنام تو ہیں ہی کیوں نہ ایک اور یو ٹرن لے لیا جائے اور تمام اتحادیوں سے جان چھڑوا کر صرف پیپلز پارٹی سے اتحاد کر لیا جائے اور سکون سے وقت گزارا جائے۔ انہوں نے تو جواز بھی پیش کیا کہ جب لوگ پوچھیں گے تو کہا جائے گا کہ مائنس زرداری کر کے بلاول بھٹو کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پھر غلطی کر رہی ہے کہ وہ اپنی گورننس پر توجہ دینے کی بجائے سائیڈ ایشوز پر فوکس کئے بیٹھی ہے ۔ کراچی والوں کا ایشو ہے “کے- الیکٹرک” کے 66.4% شیٔر جو کہ ابراج گروپ کے عارف نقوی کے پاس ہیں، ،  اور ابراج گروپ کے عارف نقوی آپ کے ساتھ ہیں ۔ساتھ ہی   24.4% شیٔر حکومت کے پاس ہیں ۔ آپ کراچی سے گورنر صاحب کو بلاتے ہیں،اپنے ساتھ بیٹھے عارف نقوی صاحب کو کیوں نہیں پوچھتے۔ “کے -الیکٹرک ہروقت اپنے واجبات معاف کروانے میں رہتے ہیں۔ اپنے لائن لاسز کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ڈسٹری بیوشن خراب ہے، ٹرپ کرتی ہیں، شارٹ ہو کر ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ  آپ نے کاپر کی تاروں کی جگہ ایلومینیم کی تاریں تبدیل کر دیں ہیں۔ “کے -الیکٹرک” والے اعلانیہ کہتے ہیں جو علاقے مکمل بل دیں گے وہاں کوئی لوڈ نہیں جو علاقے نہیں دیں گے وہاں ہم کریں گے۔ یہ کون سی سائنس ہے اور ہر چھ ماہ بعد ایسا کیا ہوتا ہے کہ “کے- الیکٹرک” کے مسائل آ جاتے ہیں۔ خان صاحب آپ نے حال ہی میں اس وبا کے دور میں جو بجلی کے بلوں میں کمی کی تھی اس مد میں آپ نے کےالیکٹرک کو 74ارب دینا تھے وہ تو دے دیں ، (جے، آیٔی، ٹی ) عوام پر تو نہیں ہے نا۔

دوسرا کراچی کا مسئلہ پانی کا ہے۔ تو جناب واوڈا صاحب دو سال سے اس میں کیا کر پائے ۔ اس مسئلہ میں وال مین سے لے کر ہائیڈرنٹ تک سب شامل ہیں۔ کراچی میں پانی ہے مگر صرف اس کی انتظامی تقسیم کا مسئلہ ہے۔ اس پر توجہ اس لیے نہیں ہے کیونکہ یہ محکمہ سندھ حکومت کے پاس جا چکا ہے تو اس کو خراب اور خراب تر ہونے دیا جائے تاکہ سندھ حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جا سکے۔ کویٔی یہ نہیں کہے گا کہ یہ کیا دھرا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کا ہے، جب انہوں نے اس پر نوٹس لیا اسی وقت اس پر کام کر رہی مختلف کمپنیز نے کام روک دیا، کہا کیا گیا تھا کہ اس کا روٹ بدل دیا گیا ہے۔  جناب کراچی میں (کے فور) سے پہلے تین منصوبے چل رہے ہیں (کے ون، کے ٹو، کے تھری) یہ سب (دھابے جی) آتے ہیں، اب جو (کے فور) منصوبہ ہے یہ (ھالےجی) سے آتا ہے، اس نے(ڈی ایچ اے)، (بحریہ ٹاؤن) سے ہوتے ہوۓ گڈاب  اور پھر اللہ پیایٔی دے یعنی دیہات میں  اس نے reservoir میں شامل ہونا تھا۔جس میں سےیہ منصوبہ ابھی تک (ڈی ایچ اے)اور(بحریا ٹاؤن) تک پہنچ پایا، اس عدالتی تاخیر کی وجہ سے اس منصوبے کا تخمینہ اور مدت کافی بڑھ چکے ہیں ۔  کراچی کے پانی کا حل (کے فور) منصوبے کی تکمیل میں ہے جو مشرف صاحب کے دور سے شروع ہوا ۔ اسے اگر مستقل بنیادوں پر چلنے دیا جاتا تو اب تک یہ مکمل ہو جاتا اور عوم سکھ کا سانس لیتے۔ خان صاحب باقی دونوں کے پاس تو ہمت نہیں تھی آپ کے پاس تو ہے آپ اس پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ فیصل واوڈا صاحب K فور کے راستے میں رکاوٹوں کو دور کرنے میں کردار کیوں نہیں ادا کرتے۔ جناب اس طرف سوچیں بدلہ لینے کی نہیں۔

تیسرا مسئلہ جو کراچی کا ہے وہ ہے کچرا۔ اب یہ KMC کے پاس ہے اور اس میں بھی جو بھرتیاں ہیں پانی کے محکمہ کی طرح یہ ایم کیو ایم کے دور میں کی گئی ہیں۔ کراچی میں جب بھی کچرا صفائی مہم کا آغاز ہوا تو تقریباً تمام اسٹاف حکم کے تحت غائب ہو جاتا ہے۔ ایک دن کام اور باقی دنوں میں جماعت کی جانب سے حکم پر غائب ۔ اس پر آپ اپنے اتحادی کو کیوں نہیں کچھ کہتے؟

خان صاحب پھر کہوں گا آپ لوگوں کو تبدیلی دکھائیں لوگ آپ کے ساتھ خود بخود ہو جائیں گے۔ آپ کو طاقت نہیں، ذہانت سے چلنا ہے۔ آپ پھر غلط سمت میں جا رہے ہیں، کوئی آپ کے خلاف نہیں ہے۔ صرف ہوا یہ ہے کہ آپ کو نرسری سے نکال کر پاکستان کی زمینی سیاست میں لگا دیا گیا ہے۔ اگر آپ سختیاں برداشت کر گئے، گرم ہواؤں کے تھپیڑے کھا گئے ،حالات اور چلتی ہواؤں کے پیغامات کو سمجھ کر،وقت کی گتھیوں کو سلجھانے کی صلاحیت پا گئے تو آپ بھی باقی نرسری کے پودوں کی مانند پاکستان کے سیاسی باغ میں تناور درخت بن جائیں گے۔ ورنہ جو اوپر والا چاہے بقول شاعر

ہوئے مدفون دریا زیر ِ ِ دریا تیرنے والے

طمانچے موت کے کھاتے تھے جو بن کر گوہر نکلے

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

مغل اعظم اور پانچ اگست | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان اس پانچ اگست کو بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے