منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

کیا پاک چین دوستی زندہ باد نعرہ لگنا چاہئے | عرفان شیر

تحریر: عرفان شیر

دوستی ایک سچا جذبہ اور رشتے کا نام ہے۔کہا جاتا ہے جس کا دُنیا میں ایک سچا اور مخلص دوست ھوتا ھے وہ دُنیا میں کبھی تنہا نہیں رہتا۔اُس انسان کو دُنیا میں رہنمائی اور دیکھ بھال کرنے والا اور سیدھا راستہ دکھانے والا وہی اُس کا سچا اور مخلص دوست ہی ھوتا ھے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کے پاس دنیا کی ہر دولت اور لزت مجود ہیں لیکن پھر بھی آپ اتنا خوش نہیں رہ سکتے جتنا آپ مخلص دوست کی دوستی کے ساتھ خوش رہ سکتے ہیں۔اسی طرح اگر آپ غریب مفلس ہے اور طاقت نہیں رکھتے تو یہی دوست آپ کی ڈھال اور طاقت بن جاتا ہے۔ ایک شخص کو اپنی زندگی کی خوشیاں اور غمگین لمحات بانٹنے کے لیے ایسے ھی دوست کی ضرورت پڑتی ہے جو اُس کا ہر صورت حال میں ساتھ دیے۔اگر آپ کی زندگی میں ایک سچا دوست نہیں ہے تو آپ کی زندگی اطمینان کے ساتھ نہیں گزر سکتی۔ایک حقیقی دوست ہماری زندگی کی پرشانیوں کو سمجھ سکتا ہے اور اُن کا حل بھی نکال سکتا ہے۔

 

پاکستان مسلم ممالک میں پہلا اور دنیا کا تیسرا ملک تھا جس نے سوشلسٹ انقلاب کے بعد عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان نے اس کا اعلان چار جنوری سنہ 1950 میں کیا تھا۔ اگلے برس یعنی 21 مئی سنہ 1951 کو پاکستان کے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور میجر جنرل آغا محمد رضا کو پاکستان نے بیجنگ میں اپنا سفیر تعینات کیا تھا۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی چین نے پاکستان کو خاصی مدد فراہم کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی رابطوں میں مزید شدت آئی۔ 1966ء میں فوجی تعاون کا آغاز ہوا۔ چین پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر رہا ہے۔ چین سے ملنے والا اسلحہ سستا ہوتا ہے جو مغرب سے نہیں ملتا ۔ اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو دونوں (پاکستان اور چین ) مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں۔ جس میں کچھ مغربی اور کچھ چین کی ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں دونوں جنگوں میں چین نے بڑے بھائی کا قابل ستائش کر دار ادا کیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ چین کی خیر سگالی کا مثبت جواب دیا۔ پاکستان نے چین اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات قائم کرنے اور اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت بحالی کرنے کے لیے بھر پور سفارت کاری کی۔1970ء میں پاکستان کی انتھک کوششوں سے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کے انتظامات ممکن ہوئے۔ اس طرح چین اور مغربی دنیا کے درمیان براہِ راست رابطے ممکن ہو سکے اور پاکستان ہی کی بدولت 1972ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے چین کا سرکاری دورہ کیا ۔ 1978ء میں چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ 1984ء میں پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں 2001ء میں الخالد ٹینک ، 2007ء میں لڑاکا طیارے ’’جے ایف ۔ 17 تھنڈر‘‘ ، 2008ء میں ایف ۔ 22 پی فریگیٹ اور کے 8۔پی قراقرم جدید تربیتی طیاروں کی تیاری اور دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک شامل ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر چکی ہیں۔ جن میں سب سے اہم رواں سال ہونے والی فوجی مشق تھی جس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون کا فروغ قرار دیا گیا تھا۔ 2005ء اور 2010ء میں دکھ کی گھڑی میں چین نے پاکستان میں آئے ہوئے سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے مداوے کے لیے 247ملین ڈالرز کی امداد کی تھی۔

کسی بھی مُلک کے لئے یہ خوش قسمتی ھوتی ہے کہ اس مُلک کی کسی سرحد کے ساتھ سمندر کی سرحد لگتی ھو۔یوں ایک مُلک کی تجارتی راہداری کا دوسرے مُلک کے ساتھ تجارتی تعلقات بہت مضبوط ہوتے ہیں۔

اسی خوش قسمتی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے چین کے ساتھ سی پیک جیسا پروجیکٹ بنانے کے لئے حامی بھری۔

چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے جسے چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز کیا ہے۔ سی پیک چین اور پاکستان کے مابین جامع اور موثر تعاون کا فریم ورک اور پلیٹ فارم ہے۔ سی پیک ایک اہم سنگ میل ہے جس پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے اوراس میگا پراجیکٹ کے ذریعے سے تعمیر و ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کوخاص طور پراہمیت دی ہے۔ سی پیک کو دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں اور عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

 

مئی 2013 میں چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران سی پیک کی تجویز پیش کی جس کو فوری طور پر پاکستانی حکومت کی جانب سے مثبت ردعمل اور اہمیت دی گئی۔ جولائی 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ چین کے دوران سی پیک پر کام شروع کرنے کے لئے ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے۔ اب تک بڑے اوراہم منصوبوں پر عمل در آمد کا سلسلہ موثر طریقے اورتسلسل سےجاری ہے مزید بر آں یہ خوش اسلوبی سے تعمیرو ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔سی پیک پر وقت کے ساتھ ساتھ مکمل منصوبہ بندی سے عمل در آمد کیا جا رہا ہے نیز یہ چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔

 

سی پیک کوچین اورپاکستان کی سدا بہار سٹریٹیجک شراکت داری کو مستحکم کرنے اور مشترکہ تعمیر وترقی کی منازل طے کرنے کے سفر میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سی پیک ایک نئی جہت اور نئے وژن کے ساتھ پاک چین تعلقات کو جلا بخشنے کا موجب بن رہا ہے۔ سی پیک سے مجموعی طور پر پورا پاکستان استفادہ حاصل کرے گااور اس سے پاکستانی عوام کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔سی پیک سے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کو موثر انداز میں فروغ ملے گا۔ سی پیک کی تعمیر سے چین اور پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں روابط فروغ پانے کے ساتھ ساتھ انضمام میں بھی اضافہ ہوگا جس میں دونوں ملکوں کے عوام کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اسی طرح سی پیک کے تحت دونوں فریق ممالک معیاری اور جامع حکمت عملی کے ساتھ تعمیر و ترقی اور متعدد بڑے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہیں جس کے مثبت نتائج حاصل ہورہے ہیں اور چین اور پاکستان کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے پاکستان کا ہر سال کا بھاری بجٹ کا حصہ سی پیک منصوبے میں لگ جاتا ہے۔اور اکثر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں سی پیک منصوبے کے حوالے سے بحث شروع رہتی ہے۔

اب ھم آتے ہیں سی پیک کے اثرات پر۔جہاں دونوں ممالک کو امپورٹ ایکسپورٹ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی۔وہاں دونوں ممالک کی سیکیورٹی لیک ہونے کا بھی خدشہ ہو گا۔پاکستان جیسے حساس مُلک کو ہروقت الرٹ رہنے پڑے گا۔ چین کوئی ایسا مواد امپورٹ ایکسپورٹ نه کرتا رہے جو کہ غیر قانونی یا پھر ہمارے مذہب کے اسلامی تقاضوں کے خلاف ہو۔ اسمگلنگ کی شرح میں بھی بہت اضافہ ہو گا۔

اگر ھم جنگِ آزادی پر نظر ڈالے تو ہمیں یہ واضع نظر آئے گا کہ انگریز سرکار جنگِ آزادی کے بعد برصغیر میں کاروبار کے سلسلے میں آئے تھے لیکن اُنہوں نے آہستہ آہستہ بر صغیر میں قدم جما لئے۔اور اپنی پوزیشن یہاں مضبوط کر لی۔اور آہستہ آہستہ بر صغیر کے ہندو مسلم پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔اور یہاں حُکمرانی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ایک تو اُنہوں نے مسلمانوں کی ٹوٹی ہوئی حالت کا فائدہ اٹھایا دوسرا وہ ہندوؤں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے تھے لیکن جو کہ سراسر فریب تھا۔ اس طرح انگریز سرکار ھم پر مسلط ھوئی۔

آج بھی یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ہمارا بھی یہی حال ہو سکتا ہے۔کیوں کہ ہمارے مُلک کے سیاست دان ایک دوسری کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں ۔آپس میں اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں۔ھم نے اور ہماری حکومتوں نے بھی چین کی دوستی پر اندھا اعتبار شروع کر دیا ہے۔سی پیک منصوبے کے بعد کیا پتہ چین کمپنیز بھی کاروبار کے لئے پاکستان آئے اور آہستہ آہستہ اس مُلک پر قبضہ جما لے کیوں کہ پاکستان کی حالت بھی ٹھیک اُسی طرح کمزور ہے جیسے جنگِ آزادی کے بعد بر صغیر کی۔

یہ قرآن کریم میں واضع طور پر لکھا ہوا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک غیر مسلم اور مسلمان آپس میں دوست نہیں ہو سکتے ۔۔۔تو ھم نے کیوں چین پر اندھا اعتبار کیا ہوا ہے یہ نا ہو تاریخ ایک بار پھر سے ماضی کو یاد کرے۔اِن تمام صورت حال کو مدنظر رکھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ ہمیں یہ نعرہ لگانا چاہئے یا نہیں کہ پاک چین دوستی زندہ باد۔

ہم قرآن کے الفاظ کو بھی جھوٹا( نعوذ بااللہ )تو نہیں کہہ سکتے اس لیے ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی ہو گی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے