جمعرات , 28 جنوری 2021
ensdur

کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے؟ | انور خان سیٹھاری

تحریر: انور خان سیٹھاری

ہمیں حکیم محمد سعید شہید نے 25 سال پہلے بتا دیا تھا کہ عمران نیازی یہودی ایجنٹ ہے،

یہودی کوئی بھی کام کریں اس کیلئے دہائیوں تیاری کرتے ہیں اچھی طرح فٹ کرتے ہیں فنڈنگ کرتے ہیں ماحول بناتے ہیں،

انہوں نے سلیکٹڈ نااہل اور منافق وزیراعظم عمران نیازی کی تربیت میں بھی چار دہائیوں سے ذیادہ لگائیں،

پہلے یورپ میں تربیت کی بڑے بڑے خاندان اسکے سامنے جھکائے بڑے بڑے دولت مندوں کو اسکے قریب کیا،

پھر انہیں پاکستان لائے پاکستان میں سیاسی جماعت بنوائی پھر اچھے اچھے پیسے والے اس کے ساتھ لگائے اے ٹی ایم لگائیں جو ہمیشہ کھلی رہتیں تھیں،

پھر ریاست کو اسکی طرف راغب کیا پوری پوری کوریج دی اچھی طرح پرورش کرکے اسے پاکستان کے ملنگ شریف سیدھے سادھے عوام پر مسلط کردیا،

پچیس سال اس کی تیاری میں لگے قوم کو ریاست مدینہ بنانے کے نام پر بیوقوف بنایا گیا،

جسطرح انگریز احادیث مبارکہ پڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں بلکل اسی طرح نیازی نے ریاست مدینہ کے نام پر قوم کو گمراہ کیا،

عرب امارات بحرین اور سعودیہ عرب کا یکے بعد دیگرے اسرائیل کو تسلیم کرنا سعودیہ کا پاکستان سے تعلقات خراب کرنا اور عرب امارات کا پاکستان پر ویزوں کی پاپندی لگانا صرف اور صرف اسرائیل کو تسلیم کرانے کی سیڑھیاں ہیں،

یہ موجودہ حرامزادے حرامخور دلے خنزیر یہودی دلال عربی ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ویزے بند کر دیں گے پاکستان کے سارے ملازمین کو پاکستان بھیج دیں گے،

یہ ہمیں دھمکیاں نہ دیں جب یہ وہاں کام نہیں کرتے تھے تب بھی اس سے کہیں زیادہ خوشحال تھے اور پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے روزگار کے مواقع کروڑوں ہیں بھیج دیں انہیں واپس نہیں مرتے بھوک سے یہ مزدور،

پاکستان نے اتنے بڑے نقصان اٹھائے ہیں جسکا اندازہ بھی نہیں کیا سکتا،

عالمی اسٹیبلشمنٹ نے ہم سے ہمارے قائدین چھینے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹی طاقت بنانے کی سزا دی گئی امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی سزا دی گئی کشمیر کا مضبوط موقف اختیار کرنے کی سزا جس میں یہودی لابی اور عربی بادشاہ بھی ملوث ہیں انہوں نے یہ کام پاکستان کے اداروں میں موجود اپنے دلالوں سے کروایا،

ہم نے گھاس کھائی مگر ایٹم بم بنائے اسرائیل کیلئے ہم بھوکے رہے پیاسے رہے تباہ شدہ جئے لیکن اپنا دفاع مضبوط کیا اسرائیل سے یہودیوں سے نمٹنے کیلئے،

ہم نے پاکستان نے پاکستان کے غریب عوام نے پاکستان کے مزدوروں نے ہاریوں نے اساتذہ نے سب نے 25% بجٹ پہ گزارا کیا اور 75% بجٹ اپنے دفاع پہ لگایا اسرائیل کیلئے یہودی لابی کیلئے،

ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہمارے لاکھوں لوگ شہید ہوئے ہمارے جوان بچے بوڑھے خواتین سب اسکا حصہ تھیں اور دہشت گردی کے سارے کردار یہودیوں کے ایجنڈے پر عمل درآمد کررہے تھے،

پاکستان کو اسلامی ممالک کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنایا صرف اسرائیل کا مقابلہ کرنے کیلئے یہودی لابی کا مقابلہ کرنے کیلئے امت مسلمہ کو اوپر لانے کیلئے امت مسلمہ کے دفاع کیلئے اسلام کی مضبوطی کیلئے،

ریاست پہلے کہتی رہی نعرے لگاتے رہی قوم کے جذبات ابھارتی رہی کہ دنیا کا اختتام پاکستان اور اسرائیل کی جنگ پر ہوگا دنیا میں آخری لڑائی پاکستان اور اسرائیل کی ہوگی،

اور ریاست یہ بھی کہتی رہی کہ پاکستان کے بچے اگر اسرائیل کی طرف منہ کر کے پیشاب کریں تو اسرائیل میں سیلاب آ جائے گا اسرائیل پاکستان کا بھارت سے بھی بڑا دشمن ہے مسلمانوں کا دشمن ہے امت مسلمہ کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے،

آج ریاست کہاں ہے؟

آج وہ نعرے کہاں ہیں؟

آج وہ جذبات کدھر ہیں؟

آج وہ محنتیں کہاں ہیں؟

آج وہ مشقتیں کہاں ہیں؟

ریاست اب صحافیوں کے ذریعے دھیرے دھیرے باتیں باہر لا رہی ہے قوم کی آہستہ آہستہ تربیت نئے سرے سے شروع کررہی ہے اور کمال تو یہ ہے کہ صحافیوں کا انتخاب بھی کمال کیا گیا ہے،

اب یہ رنڈی رونا شروع کریں گے کہ دیکھیں جی حالات وہ نہیں رہے دنیا کہاں تک پہنچ گئی فلاں ملک کیا تھا کیا بن گیا کیسے ترقی کر گیا کیسے معیشت بن گئی کیسے دنیا کی سیر گاہ کا مرکز بن گیا،

پھر سوشل میڈیا پر یوتھیے بیٹھے ہیں فضائل بیان کرنا شروع کریں گے جسطرح انہوں نے 300 روپے والے پٹرول کے فضائل بیان کیئے جس طرح انہوں نے مہنگی دوائیوں کے فضائل بیان کیے جسطرح انہوں نے مہنگے آٹے کے فضائل بیان کیئے جسطرح انہوں نے انڈوں مرغیوں اور کٹوں کے فضائل بیان کیئے بلکل اسی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بھی فضائل بیان کریں گے،

لیکن یہ قوم مان جائے گی یہ ریاست کی سلیکٹڈ نااہل منافق اور یہودی ایجنٹ حکومت کی بھول ہے،

ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسے ترقی پہ ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی معیشت پہ ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی خوشحالی پہ جس میں ختم نبوت پہ ڈاکے ڈالے جائیں جس پہ ناموس رسالت پہ پہرا نہ ہو جس پہ مسلمانوں کی بھلائی نہ ہو جس پہ بیت المقدس پہ قبضے ہوں،

ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسے کرداروں پہ ایسے یاروں پہ ایسے لوگوں پہ ایسی سوچ پہ،

قوم اب خاموش نہیں رہے گی خاموش تماشائی نہیں بنے گی اگر یہودیوں کی سہولتکاری کی گئی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ناجائز کوشش کی گئی تو قوم انکا جینا حرام کردے گی،

قوم انہیں نشان عبرت بنائے گی ہم سب کچھ برداشت کر لیں گے اور کر بھی رہے ہیں لیکن اسرائیل اور یہودی لابی کسی صورت برداشت نہیں،

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

جنسی ہراسگی۔۔۔! | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ابو بینک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے