جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

کیا روحیں بھڑکتی ہیں۔؟ | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم

مجھے کوئٹہ کی گرم دوپہریں بہت پسند تھیں ۔امی نے بچپن سے ہی دوپہر میں سونے کی ایسی عادت ڈال دی تھی کہ اسکول سے آتے کپڑے بدل کر کھانا کھاتے اور سونے لٹا دئیے جاتے۔

کالج میں آنے کے بعد بھی یہی ترتیب تھی ۔

یہ ان دنوں کاواقعہ ہے جب میں سیکینڈ ائیر میں پڑھتی تھی اور میری بڑی بہن تھرڑ ائیر کی طالبہ تھی۔ہم دونوں کالج سے آتے تو پورا گھر سو رہا ہوتا ،ہمارے حصے کا کھانا کچن میں رکھا رہتا ہم آتے کھانا کھاتے اور سو جاتے۔

جب تک ہم اسکول کالج سے آتے تھے امی گھر کا تمام کام کرچکی ہوتی تھیں ۔گھر کی صفائی کپڑوں کی دھلائی کھانا پکانا باورچی خانہ سمیٹ کر برتن دھونا غرض کے امی کی صفائی کی عادت سے گھر کا ہر کونہ چمک رہاہوتا ۔

کوئٹہ شہر کے بیچوں بیچ طوغی روڑ پہ ہم اس گھر میں چھ مہینے پہلے ہی شفٹ ہوئے تھے جب میں نے یہ سب دیکھا جو میں بیان کرنے جارہی ہوں۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک دن امی بمع چھوٹے بہن بھائیوں کے کسی شادی کے سلسلے میں دوپہر ہی سے چلی گئیں تھیں ۔حسب عادت ہمارا کھانا باورچی خانہ میں رکھ گئیں تھیں ۔باورچی خانے کے پیچھے ایک اسٹور بھی تھا ۔

میں اور میری بہن کالج سے واپس آئے ،گرمیوں کے دن تھے ہم نے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھایا اور سونے لیٹ گئے ۔دو کمروں کا گھر اس کے سامنے برآمدہ ،ایک غسل خانہ برآمدے میں دوسرا صحن میں ۔

ایک کمرے میں باجی سو گئی وہیں صوفے پہ میں بھی سونے لیٹ گئی ۔

میں کچھ پہلے سو کر اٹھ گئی منہ ہاتھ دھو دھا کر امی کی ٹریسنگ جو کہ دوسرے کمرے میں تھی ،بال بنانے کھڑی ہوئی بال بناتے بناتے کالج کی دن بھر کی باتیں بھی دماغ میں چل رہیں تھیں ،اتنے میں باجی برآمدے میں کھڑی نظر آئیں ۔۔میں نے چوٹیا کو ربڑ بینڈ لگایا اور کوئی بات بتانے باجی کی طرف بڑھی ۔۔۔باجی نے اپنا دوپٹہ لہرا کر کندھے پہ ڈالا اور مجھے جواب دئیے بنا کچن کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔میں ان کے پیچھے اپنی بات بیان کرتے ہوئے بڑھتی گئی ۔میں نے کچن میں قدم رکھا تو دیکھا وہ کچن سے اسٹور میں داخل ہوگئیں ہیں ۔۔۔میں جھنجلاتے ہوئے ان کے پیچھے اسٹور میں داخل ہوئی اور۔۔۔۔

ٹھٹک کے رہ گئی ۔۔۔

وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔

میں پلٹ کر واپس اس کمرے میں آئی جہاں باجی سورہیں تھیں ۔۔۔کیادیکھتی ہوں کہ باجی اپنی جگہ پہ اب بھی بڑی بے خبر نیند میں سو رہی ہیں ۔۔۔

میں نے اپنے خشک گلے کو تر کرنے کے لئے تھوک ہضم کیا اور ابھی جو سب ہوا اس کو اپنا وہم کہ کر ڈالنے کی کوشش کی ۔

رات امی کے آنے پر انہیں یہ واقعہ سنایا ۔امی نے کہا !کہ یہ تمہارا وہم ہی ہوگا تم اب اسے زیادہ مت سوچو۔

اس گھر میں ہم تین سال رہے پھر میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔

مالک مکان نے وہ گھر ایک بلڈر کو بیچ دیا تھا اسی لئے ہمیں بھی گھر خالی کرنا پڑا جبکہ ہم اس گھر میں بہت سکون سے تھے ہمارے حالات بھی روز بروز اچھے ہورہے تھے ۔

کوئی سال بھر بعد اس علاقے میں میری بہن کا ایک شادی میں جانا ہوا ،وہیں انہیں پرانی پڑوسن سے ملنے کا موقع بھی ملا ۔وہ خاتون بہت پر تجسس انداز سے میری بہن سے ملی اور انہوں نے بار بار یہ پوچھا کہ

“جب آپ اس گھر میں رہتے تھے تو کبھی آپ نے کچھ محسوس کیا؟”

اس پر میری بہن نے میرے ساتھ ہونے والا واقعہ سنایا ۔پھر ان کے اس سوال کے پوچھنے کا سبب بھی پوچھا تو انھوں نے بتایا ۔

“جب وہ مکان بلڈر نے آگے بیچا اور اس مکان کی جگہ مارکیٹ بنانے کا فیصلہ کیا ۔تو اس مکان کو توڑنا پڑا۔

مزدور صبح صبح اس مکان پر آگئے اور اندر داخل ہوکر اپنا کام شروع کردیا ا،ابھی کام کرنا شروع کیا ہی تھا کہ اللہ جانے ان کے ساتھ اندر ایسا کیا ہوا کہ وہ چار مزدور بالکل سرخ ہوکے بھاگتے ہوئے مکان سے باہر دوڑے۔”

یہ واقعہ سن کر میری بہن نے گھر آکر امی کو سنایا تو امی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بتانے لگی ۔

“یہ اسی روح کا کام ہوگا۔”

ہم نے حیرت سے امی کی جانب دیکھا اور تفصیل جاننا چاہی ۔جس پہ امی بتاتی ہیں کہ انہیں یہ تفصیل اسی محلے کی ایک بزرگ خاتون جو کافی عرصے سے اس علاقے میں رہائش پزیر تھیں،انہوں نے بتائی ہے انہی کی زبانی سنئیے۔

“شیریں کے ہاتھوں کی مہندی ابھی اتری نہیں تھی کہ ساس بہو کے جھگڑوں کی نزر ہوگئ۔ایک دن ایسا جھگڑا ہوا کہ شوہر نے برآمدے والے غسل خانے میں مارتے مارتے شیرین کی جان لے لی ۔اس کے بعد سے اس گھر میں کوئی نہی رہ سکا۔تم لوگوں کو شاید اس لئے شیریں نے رہنے دیا کہ تم تہجد گزار ہو اور پاکی ناپاکی کا بھی بہت خیال رکھتی ہو۔”

امی نے یہ بھی بتایا کہ کئی مرتبہ امی نے سسک سسک کر رونے کی آوازیں سنی تھیں اور امی بے اختیار سورہ فاتح پڑھ کردعا کردیتی تھیں ۔

کیا واقعی جو لوگ اپنی موت کے وقت سے پہلے قتل کردئیے جاتے ہیں ان کی روحیں اس دنیا میں رہ جاتی ہیں اور بھڑکتی رہتی ہیں؟؟؟

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے