جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

کیا بھارتی تیجس پاکستانی جے ایف سیونٹین ڈویل سیٹ تھنڈر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟؟ | فہمیدہ یوسفی 

تحریر و تحقیق: فہمیدہ یوسفی

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں ڈویل سیٹ جے ایف۔17 تھنڈر کی تکمیل اور بلاک- III کی پیداوار کے باضابطہ آغاز نے بھارتی فضائیہ اور دفاعی تجزیہ کاروں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے تو دوسری جانب بھارتی فضائیہ کی مایوس کن کارکردگی بھی بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے لمحہ فکریہ بن گئی ہے۔

یہ بات تو سب جانتے ہی ہیں کہ جے ایف سیونٹین کے بلاک تھری میں wide-angle holographic head-up display کے ساتھ نیا imaging infrared (IIR)-based missile approach warning system نصب کیا گیا ہے,۔یہ دونوں ٹیکنالوجیز چین کے ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر چینگ ڈو جے ٹوینٹی میں استعمال کی گئی ہیں۔

یعنی اب جے ایف سیونٹین پر ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔ ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی کے اضافے سے اب تھنڈر بلاک تھری کے پائلٹ کو situational awareness پہلے سے زیادہ ہو گی اور وہ جہازاڑانے کے بجائے کمبیٹ پر زیاد بہتر طورپر توجہ دے سکے گا اس کے ساتھ ہی اس میں نیا روسی ساختہ آر ڈی 93 ایم اے انجن بھی لگایا گیا ہے جو روس کے فور پلس جنریشن سمجھے جانے والے مگ 35 پر بھی لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلاک تھری تھنڈر میں چین کا پہلے سے زیادہ طاقتور WS-13 انجن کا آپشن بھی موجود ہے۔

تاہم بات یہاں ختم نہیں بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے جس نے جے ایف سیونٹین تھنڈر کو رافیل اورتیجس کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے وہ خاص بات پی ایل ففٹین active radar-guided very long range air-to-air missile ہیں۔پی ایل ففٹین کی رینج 300 کلومیٹر ہے جو یقینا امریکی ساختہ AIM-120 AMRAAM کی 180 کلومیٹر رینج سے کہیں زیادہ ہے۔

اس کا سیدھا مطلب ہے کہ پاکستان کا جے ایف سیونٹین تھنڈر دشمن کو 300 کلومیٹر کی دوری سے بھی نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ بھارت کے رافیل پر نصب میٹئیور میزائل کی اعلان شدہ رینج ڈیڑھ سو کلومیٹر ہے۔ تیجس پر آر 77 میزائل نصب ہونگے سو اس کو مزید ایک سو سات کلویٹر مزید آگے آنا ہو گا جبکہ فضائی ماہرین کے مطابق ایرئیل کمبیٹ میں ایک ایک سیکنڈ کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اپنے دیسی ساختہ طیارے تیجس کو فضائی بیڑے میں شامل کرنے کا اعلان کر ہی ڈالا ہے۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایچ اے ایل اور ایروناٹیکل ڈویلپمنٹ ایجنسی نے اپنی پرانی غلطیوں کو نہ دہرایا تو 2024 میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے حوالے کیا جا سکے گا۔ بھارتی طیارے تیجس کے حوالے سے بھارتی ائیر چیف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یہ طیارہ پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے تیار جے ایف سیونٹین تھنڈر سے برتر اور بہتر ہے تاہم یہ بیان جاری کرتے ہوئے وہ شاید یہ بھول گئے کہ سال 2019 میں ہی سابقہ بھارتی ائیر چیف بی ایس دھنوا نے کہا تھا کہ بھارتی فضائی بیڑے میں شامل روسی ساختہ مگ 21 طیارے 44 سال پرانے ہوچکے ہیں، فضائیہ کو کسی بھی ہنگامی اور جنگی صورت حال سے نمٹنے کیلئے جدید اور بہترین لڑاکا طیاروں کے فلیٹ کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہر ذی شعور شخص 44 سال قبل کی کار بھی چلانا نہیں چاہے گا کیوں کہ اس میں خطرہ ہے لیکن ہمیں اتنے ہی پرانے طیارے فضا میں اُڑانے ہوتے ہیں اور ایف-16 سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

اگر اب بات جے ایف سیونٹین تھنڈر کی جائے تو یہ نہ صرف پاکستان ائیرفورس کا حصہ بن کر بالاکوٹ اسٹرائیکس کے بعد بھارتی مگ ٹوینٹی ون بائزن اور سخوئی تھرٹی کا شکار کر چکاہے بلکہ دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کی نظریں اب بلاک تھری پر ٹکی ہیں۔

خبروں کے مطابق ارجنٹینا کی فضائیہ کے سربراہ بریگیڈیئر زیویئر آئزک نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ان افواہوں کی تصدیق کی تھی کہ ملک جے ایف-17 کے بلاک III ویرینٹ پر غور کر رہا ہے۔

پاکستان پہلے ہی نائیجیریا اور برما کو یہ طیارے فروخت کر چکا ہے جبکہ بھارت کے تیجس کو اب تک کسی خاطر خواہ کامیابی کا سامنا نہیں ہوا ہے۔

در حقیقت جے ایف-17 تھنڈر ایک مؤثر اور کم لاگت رکھنے والا ایک انجن کا لڑاکا طیارہ ہے، جو عالمی مارکیٹ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عمدہ انتخاب ہے۔ دوسری جانب بھارت کی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے تیار کردہ Mk-1A تیجس بین الاقوامی طور پر اتنی توجہ اور پذیرائی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جے ایف سیونٹین تھنڈر کے مقابلے میں بھارت نے یہ طیارے بہت کم تعداد میں بنائے ہیں۔

بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کونفلکٹ اسٹڈیز، نئی دہلی کے سینئر فیلو ابھیجت آئیر-مترا کا کہنا ہے کہ تیجس کے مقابلے میں جے ایف-17 کو ترجیح دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ تیجس اپنی کارکردگی سے خود بھارت کی فضائیہ کو متاثر کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔اگر کوئی ملک اپنے مِگ-21 سے مگ-27 کے طیاروں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، یا چینی ایف-6 یا ایف-7 ٹائپ طیاروں یا امریکی ایف-5 طیاروں کی جگہ نئے طیارے لینا چاہتا ہے یا پھر جدید ٹرینر ہی حاصل کرنا چاہتا ہے تو جے ایف-17 اس کے لیے بہترین قابلیت اور قیمت رکھنے والا جہاز ہے۔

جبکہ تیجس ایک مکمل طور پر کنفیوزڈ طیارہ ہے اور کسی بھی جانے مانے مارکیٹ سیگمنٹ فٹ نہیں ہوتا۔ بھارتی ماہر نے کہا کہ تیجس ایک ڈراؤنا خواب ہے، اس کی کوئی بات آزمودہ اور ثابت شدہ نہیں ہے۔ اس پر کچھ زیادہ ہی تجربات کر لیے گئے ہیں اور یہ کسی خریدار کا اعتماد حاصل نہیں کرتا۔

بھارتی فضائیہ نے رواں سال 83 تیجس Mk-1A طیاروں کا آرڈر دیا ہے اس وقت جو تیجس Mk-1 طیارے بھارت کے پاس موجود ہیں، انہیں کو چند مہینے پہلے ہی آپریشنل کلیئرنس دی گئی ہے اور اسکواڈرن 18 میں شامل کیا گیا ہے۔ تیجس کو ابھی نہ صرف لڑائی کا مزہ چکھنا ہے بلکہ اسے اپنے ایکسپورٹ کوالٹی ہونے کا ثبوت بھی دینا ہے۔

تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ڈویل سیٹ جے ایف سیونٹین بلاک تھری کی گرج اور چمک ایسی ہو گی کہ رافیل اورتیجس کو شاید سنبھلنے کا بھی موقع نہ مل سکے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے