ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

کیا اس وقت تعلیمی ادارے کھولے جاسکتے ہیں؟ | فرحان شر

تحریر: فرحان شر

ایک طرف پی ٹی آئی حکومت میں کورونا وائرس کے حوالے سے اب بھی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ جسں کی واضح مثال وزیراعظم عمران خان سے لے کر زرتاج گل کے بیانات ہیں۔ وزیراعظم کبھی لاک ڈاؤن کی تعریف کرتے ہیں تو کبھی اسے اشرافیہ کی مرضی سمجھتے ہیں اور زرتاج گل کی حالیہ تبصرے پر پورا پاکستان حیران و پریشان ہے۔

اسی طرح پارلیمنٹ میں وزیراعظم نے وزیرِ تعلیم شفقت محمود کے لیے تعریفی جملے کہے جسں پر اپوزیشن کے بعض ارکانِ اسمبلی نے سخت ردعمل کیا۔ اور یہ ایک حقیقت بھی ہے۔ وزیرِ تعلیم کے حالیہ بیان جسں میں انہوں نے کہا کہ وہ ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے کھولنا چاہتے ہیں اور جس پر وہ صوبائی وزیروں سے مل کر فیصلہ کریں گے۔ سندھ کے وزیرِ تعلیم سعید غنی بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ بچوں کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اگر انہیں پانچ سال بھی اسکول بند کرنے پڑے، وہ کریں گے، اور پنجاب کے تعلیمی وزیر مراد راس بھی تعلیمی ادارے کھولنے کے حمایت میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے ختم ہونے تک تعلیمی ادارے نہیں کھولے جائیں گے۔
سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے کھولے جاسکتے ہیں؟؟ پاکستان میں اس وقت کیسزز جب ۲ لاکھ سے تجاوز کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہر ۶ میں سے ایک کیس مثبت آ رہا ہے اور پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹنگ سروس بھی کم ہوئی ہے۔ جون کی وسط میں یہ ٹیسٹنگ ایک دن میں ۳۱۰۰۰ھزار تک تھی لیکن ۲۰ جون کے بعد ۲۵۰۰ ھزار تک پہنچ گئے تھے اور ۲۵ جون کو یہ ۲۲۰۰۰ ھزار ہوگئے تھے ۔ جب کے آج یہ ۲۲۹۴۱ ٹیسٹ ہیں ۔ پہلے ۱۰۰ میں سے ۱۸ سے ۲۰ فیصد کیسزز مثبت آتے تھے۔ جبکہ ۲۰ جون کے بعد ان کی تعداد ۱۰۰ میں سے ۱۶ سے ۱۸ فیصد ھوئی اور اگر آبادی کی حساب سے بات کی جائے تو پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ ہے اور ۱۳ لاکھ ٹیسٹ جو آج تک ہوئے ہیں وہ پاکستان کی آبادی کا ۱ فیصد بھی نہیں ہیں اور یہ بات بھی درست ہےکہ پاکستان میں اموات کی شرح بہت کم ہے ۔ پاکستان میں مریضوں کی صحت یابی کے کیسزز ۱۱۸۱۷۴ ہیں ۔ ان میں سے ۴ فیصد یعنی ۴۵۵۱ کی اموات ہوئیں ہیں اور ۹۶ فیصد یعنی ۱۱۳ ۶۲۳ صحتیاب ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ۶۵ نوجوان پر مبنی ہے، اور جہاں تک بات ہے ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے کھولنے کی، وہ بھی خطرے سے خالی نہیں۔ احتیاطی تدابیر کی پیروی تو نہ ہمارے ٹرانسپورٹ میں ہوئی اور نہ ہی تجارتی مراکز پر یہ نظر آتی ہیں۔ماسک کا استعمال چند لوگ ہی کررہے ہیں اور سماجی فاصلا تو نظر ہی نہیں آرہا ہے۔ لوگ سماجی دوری کی جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں جس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔

اور اگر بات کی جائے وزیرِ تعلیم کی شفقت محمود کی، انہوں نے جو پی ٹی وی کے اشتراک سے ٹی وی تعلیم شروع کیا ہے وہ ایک اچھا عمل ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ ایچ ای سی کی جانب سے خاص اقدام نظر نہیں آرہے ہیں۔

اس وقت بہتر یہ ہے کہ تعلیم کو آنلائن ہی رہنے دیا جائے اور اس میں درپیش مسائل کو حل کیا جائے ۔ جہاں سب سے بڑا مسئلا دیہاتی علاقوں میں انٹرنیٹ کا ہے۔ اور بلوچستان میں تو یہ مسئلا بہت ہی زیادہ ہے۔ جہاں پر انٹرنیٹ تو دور کی بات لوگوں کو کال میں بھی مسائل درپیش آتے ہیں۔ شفقت محمود صاحب کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ کے مسئلے پر کام کریں اور اسے بہتر بنائیں۔ یہ انٹرنیٹ کا مسئلا نہ صرف اس وقت تعلیمی مسائل کو حل کرسکتا ہے بلکہ اگے چل کر پاکستان کو ای کامرس میں ترقی دے سکتا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

مغل اعظم اور پانچ اگست | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان اس پانچ اگست کو بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے