ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے؟ | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد

فروری میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے ملک کی سیاسی فضاء کو گرما دیا ہے۔ این اے 75 ڈسکہ کی نشست پر ضمنی انتخاب نے تو گویا میڈیا کی ساری توجہ ہی حاصل کر لی۔ ڈسکہ میں الیکشن ہوا اور خوب ہوا۔ نون لیگ کے ووٹرز نے بھرپور الیکشن لڑا اور شام تک ڈسکہ میدان جنگ بنا رہا۔ اس کے بعد نتائج آنا شروع ہوئے تو بیس پریذائیڈنگ آفیسرز دھند میں بھٹک گئے۔ صرف وہ نہیں بھٹکے ساتھ میں الیکشن نتائج بھی بھٹک گئے اور جیت ہار میں بدل گئی۔ ایسے میں وزیراعظم نے ٹویٹ کیا کہ بیس پولنگ اسٹیشنوں پر ری پول ہو جبکہ مریم نواز صاحبہ کا مطالبہ تھا کہ پورے حلقے میں الیکشن ہوا تاہم اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا اور الیکشن کمیشن نے این اے 75 کے الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 18 مارچ کو نئے الیکشن کی تاریخ دے دی۔

الیکشن تو سینیٹ کے بھی سر پر آ گئے ہیں۔ 3 مارچ کو ہونے والے الیکشن میں سب کی نظریں پی ڈی ایم کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے مابین مقابلے پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر یوسف رضا گیلانی یہ نشست جیت جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔ اسی لیے حکومت حفیظ شیخ کی جتوانے کے لیے سنجیدہ ہے جبکہ پی ڈی ایم بھی یوسف رضا گیلانی کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن کی 48 نشستوں میں سے پنجاب سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان گیارہ امیدواروں میں سے مسلم لیگ نون کے پانچ، تحریک انصاف کے پانچ اور مسلم لیگ ق کا ایک سینیٹر بلامقابلہ منتخب ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے پانچ سینیٹرز میں اعجاز چوہدری، عون عباس، سیف اللہ نیازی، زرقا تیمور اور علی ظفر شامل ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ نون کے پانچ سینیٹرز میں علامہ ساجد میر، عرفان الحق، افنان اللہ خان، سعدیہ عباسی اور اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کے ایک سینیٹر کامل علی آغا کامیاب ہوئے ہیں۔ یاد رہے مسلم لیگ نون کے بلامقابلہ بننے والے سینیٹر افنان اللہ خان حال ہی میں انتقال کرجانے والے نون لیگی رہنما مشاہد اللہ خان کے صاحبزادے ہیں۔

یہ تو ہو گئی اب تک کی ملکی انتخابی صورتحال اب اصل نقطے کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ کہ گزشتہ دن بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تأثر مل رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے۔ اس پر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی معمولی بیان نہیں ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب مارچ شروع ہونے والا ہے اور مارچ میں پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کی تاریخ دی ہوئی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر لانگ مارچ کے خد و خال کیا ہوں گے اور کیا حکومت میں اتنی صلاحیت اور سکت ہے کہ وہ اس لانگ مارچ کو اکیلے ہینڈل کرسکے۔

بلاول بھٹو کے اس بیان کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بیان دلیل سے خالی نہیں ہے۔ اس کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ جنوری اور فروری میں ہونے و الے ضمنی الیکشن میں حکومت چاروں صوبوں میں بری طرح ہاری ہے۔ ڈسکہ کی نشست پر الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کے ٹویٹ اور خواہش کے برعکس بہرحال ایک بولڈ فیصلہ لیا ہے۔ بیس ماہ کی قید کے بعد حمزہ شہباز کی ضمانت منظور ہو گئی ہے اور شنید ہے کہ جلد شہباز شریف بھی باہر ہوں گے۔ ان تمام باتوں سے تأثر واقعی یہی مل رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے تو دیکھنا یہ ہو گا کہ کس حد تک نیوٹرل ہے۔ سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کس حد تک سیاسی جماعتوں کو کھلی چھوٹ دے گی۔ اگر ایسا ہے تو پھر دیکھنا ہو گا کہ موجودہ حکومت کا مستقبل کیا ہو گا۔ ملک کی سیاست کا مستقبل کا منظر نامہ کیا ہو گا۔ یہ تو طے ہے کہ موجودہ حکومت سے امور مملکت نہیں چل رہے اور نہ ہی آگے چلنے کی امید ہے تو کیا ہم کسی نئے الیکشن کی طرف جا رہے ہیں یا پھر کسی نئے تجربے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فی الوقت تو ایسا لگ رہا ہے کہ ڈسکہ کی دھند ملکی سیاست پر چھائی ہوئی ہے دھند چھٹے تو اندازہ ہو کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ اور امید ہے کہ یہ دھند مارچ میں چھٹ جائے گی۔ مستقبل میں کیا ہونا ہے اس کا فیصلہ بہرحال مارچ میں ہو جائے گا۔

تاہم پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان جو ایک زیرک سیاست دان ہیں بلاول بھٹو زرداری کی اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے۔ مولانا شاید احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور کہیں پر جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہو سکتا ہے وہ سینیٹ کے الیکشن کی طرف دیکھ رہے ہوں کہ سینیٹ الیکشن کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لانگ مارچ سے قبل کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہ کرنا چاہتے ہوں۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے خدشات درست ہوں اور اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کا تأثر محض وقتی ہو۔

حرف آخر یہ کہ اسٹیبلشمنٹ اگر نیوٹرل نہیں ہے تو اس کو نیوٹرل ہونا پڑے گا۔ کم سے کم ملکی سیاسی معاملات میں نیوٹرل ہونا ہی ملک وقوم کے فائدے میں ہے۔ وگرنہ امور مملکت نہیں چل پائیں گے اور جہاں رکے ہوئے ہیں وہیں رکے رہیں گے۔ پی ڈی ایم کے بیانیے کو اگر درست تسلیم کربھی لیا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ پارٹی بن گئی ہے تو حاصل نتیجہ یہ کہ موجودہ حکومت عوامی امنگوں کے مطابق ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے اور اگر اسٹیبلشمنٹ پارٹی نہیں ہے تو ضرور اسٹیبلشمنٹ اس وقت سوچ رہی ہو گی کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے ملک میں سیاسی، معاشی استحکام لایا جا سکے۔

ہر دو صورتوں میں یہ طے ہو گیا کہ تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی کب، کیسے اور کس شکل کی ہو گی اس کا تعین سینیٹ کے الیکشن کے بعد ہو گا۔ مگر اس وقت تک حکومت بہت کچھ کھو چکی ہے۔ عوامی سطح پر حکومتی کارکردگی کا گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ عمران خان نے اپنے سیاسی کیریئر کا بہترین موقع ضائع کر دیا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے