جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

کیا آئی فون کے جدید ورژین میں سندھی لکھائی نقصانکار ہے؟

تحریر: امر فیاض برڑو

مجھے میرے ایک دوست نے ابھی ایک اخبار کا حوالہ بھیجا کہ جس میں جلی حروف میں لکھا تھا کہ “سندھی حروف والے پیغامات آئی فونز کو کریش کرنے کا باعث!” مزید تفصیل میں کچھ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ: “کچھ افراد کی جانب سے شرارتی طور پر سندھی حروف والے میسجز بھیجے گئے جس کا نوٹیفکیشن موصول ہوتے ہی دیکھا گیا کہ نئے آئی فونز ہینگ ہونا شروع ہوگئے جس سے وہ ٹرن آف یعنی بند یا ری اسٹارٹ بھی نہیں ہو پا رہے۔”

مجھے تھوڑا دھچکا لگا کہ اس خبر کو چھاپنے سے پہلے صحافتی تحقیق کیا کی گئی تھی؟ اگر کی گئی تھی تو یونیکوڈ کی تازہ اپڈیٹ 13 کا مطالعہ کیا گیا تھا جو کہ ابھی مارچ 2020 میں رلیز ہُوا ہے، جس میں عربی حروفِ تہجی پر رسم الخط والی کافی زبانوں کے حروف کے کوڈ بہتر بھی کئے گئے ہیں تو کچھ نشانیوں کے کوڈ بھی الاٹ کیے گئے ہیں، جس میں سندھی زبان کی لکھائی میں “ھ” کی اب تمام اشکال اور اس کے ساتھ “کوما” (،) کی بھی درست شکل بنا کر اسے جدا کوڈ دیا گیا ہے۔

ہمارے ہاں آج تک کسی ڈولپر نے یہ بات محسوس کی ہے کہ ہم جب ٹھہرنے کی علامت یعنی کوما “،” لگاتے ہیں تو کیا اس کی شکل اردو یا سندھی کی ہوتی ہے یا انگریزی کوما کی جسے ہم جگاڑ کے طور پر الٹا کرکے رکھتے ہیں؟

تو دوستو یہ کوما ابھی یونیکوڈ کے تازہ اپڈیٹ 13 میں شناخت کرکے اس کا کوڈ جدا الاٹ کرکے رکھا گیا ہے۔ اور آپ تمام ڈولپر جانتے ہیں کہ کوڈنگ میں یہ کوما بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

یونیکوڈ 12 میں جو عربی زبان کی رسم الخط پر موجود زبانوں کے لیے جو سہولیات فراہم کی گئی ہیں ان کی لمبی لسٹ موجوود ہے۔ جسے یہاں بیان کرنا بعید ہے، جن اصحاب کو اس کے لیے تحقیق کرنی ہے وہ یونیکوڈ 13 ڈاکیومینٹ کا باب 9۔2 ملاحظہ کریں جو کہ صفحہ نمبر 365 سے 388 تک یعنی تیئیس صفحات پر مشتمل ہے۔ (پورا ڈاکیومینٹ یہاں پڑھیں)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی فون پر یہ مسئلہ کیوں پیش آ رہا ہے؟

تو اس کا سیدھا سادہ جواب ہے کہ اگر کسی صاحب کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آیا ہے تو وہ آئی فون ہیلپ سینٹر پر رپورٹ کریں کہ خدارا اپنا “سان فرانسسکو” فونٹ اپڈیٹ کریں جس میں یونیکوڈ کی تازہ اپڈیٹ کے کوڈنگس ڈالی جائیں جو کہ خالی ہیں۔

کیونکہ: سامسنگ ہو، یا آئی فون، چائنا کے موبائل فون ہوں یا ایکس سیریز یا گوگل پکزل کے، پام ٹاپ ڈوائیس ہو یا لیپ ٹاپ کمپیوٹر، ان تمام تر ڈوائیسز پر صارفین کی زبان (User interface) کے لیے تمام کے تمام کمپنیاں “یونیکوڈ” کے قوانین کی پابند ہیں۔ اگر کوئی کمپنی ان کوڈنگس کو نہیں اپنائے گی تو ذمیوار وہ خود ہوگی۔ اس کی مارکیٹنگ خراب ہوگی تو بھی اسی کی ذمیواری ہے۔

سادہ سی مثال ہے۔ ہم جو کچھ اسکرین پر دیکھتے ہیں درحقیقت اس کے پس پردہ پروگرامنگ میں دوسرا کوڈ ہوتا ہے۔ تمام حروف اور نشانیوں کا کوڈ (U+) سے شروع ہوتا ہے۔ اب یہاں اس (U) کو یونیکوڈ (یعنی یونیورسل کوڈ) اور پلس کے بعد جو حرف آتا ہے اس کا عالمگیر کوڈ ہوگا جو دنیا جہاں میں یکساں ہوگا۔  جیسے سندھی زبان میں ایک علامت ہے (۽) جس کا اردو یا ہندی اچار (اور) ہے جس کا یونیکوڈ ہے (U+06FD)، اب یہ پوری دنیا میں تمام پلیٹ فارم، تمام سرشتہ جات، تمام آپریٹنگ سسٹمز میں یہی سندھی کا (۽) ہی ہوگا۔ اور یونیکوڈ قوانین کے تحت تمام ادارے، تمام الیکٹرونک صنعتکار اس کوڈ کے پابند ہونگے۔

اب اگر، آئی فون والے (iOS) آپریٹنگ سسٹم میں جو ڈفالٹ فونٹ استعمال کر رہے ہیں اگر انہوں نے اپنے فونٹ کو اپڈیٹ نہیں کیا تو اس کے ساتھ کئی مسائل ہوسکتے ہیں۔ جس طرح کا مسئلہ مندرجہ بالا اخبار نے اٹھایا ہے۔ تو یہ کسی زبان کا مسئلہ نہیں، اس کے حروفِ تہجی کا مسئلہ نہیں، درحقیقت اس سرشتے (آپریٹنگ سسٹم) کا مسئلہ ہے جو کہ عالمگیر قوانین کے ساتھ خود کو اپڈیٹ نہیں کر رہے۔

اپڈیٹنگ ایسا مرحلہ ہے جو کسی سرشتے کی مقبولیت اور تحفظ کی ضمانت ہوتا ہے۔ ہمارے فون یا کمپیوٹر پر طرح طرح کی اپڈیٹس آئے روز آتی رہتی ہیں۔ جو کہ اچھی بات ہے۔ جیسے کورونا کے بعد تمام شہریوں پر نئے قوانین لاگو ہوتے ہیں اور تمام شہری ان پر پابند ہیں، اگر کوئی قانون توڑے گا تو اسے نقصان ہوسکتا ہے۔

ٹھیک یہی اصول ڈجیٹل دنیا کا بھی ہے۔ اگر کسی سوفٹ ویئر یا بنیادی سرشتے نے نئے ورژین سے خود کو اپڈیٹ نہیں کیا تو اسی کا نقصان ہو سکتا ہے۔ وہ اس کی بنیادی سیکیورٹی کا ہو یا صارف کے ساتھ مشکل کی صورت میں ہو۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب اینڈرائیڈ کٹ کیٹ (4.4)  سے اپگریڈ ہوکر لاليلپاپ (5) منتقل ہوا تھا تو یہی مسئلہ ان کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ کافی زبانوں کے حروف توڑمروڑ کر پیش کر رہا تھا۔ تب سامسنگ کمپنی نے اپنے (Sans)  فیملی فونٹ کو اپڈیٹ کیا تھا۔

اب اگر آئی فون اپنے سان فراسسکو فونٹ کو اپڈیٹ نہیں کر رہا تو خدارا اسی کمپنی کو لکھئیے، کہ میاں، موسم کے حساب سے کپڑے بنائیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے خریدار کم ہوجائیں!

باقی بات کا بتنگڑ اگر کوئی بنانا چاہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں! اس سے ہوگا تو کچھ نہیں ہاں البتہ اس کی ثقافت دشمنی اور کھل کر  سامنے آئے گی۔ اور ہم اس پر بھی خوش ہیں۔ کہ چلیں کچھ چہرے تو پہچانے گئے۔

اور اب چلتے چلتے مشہور انگریزی اخبار کے صحافی جناب منظور چانڈیو صاحب کی یہ ٹویٹ بھی دیکھ لیں۔

تعارف Amar Fayaz

Amar Fayaz Buriro is a blogger, language engineer and computational linguist of Sindhi and Urdu languages.

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

4 تبصرے

  1. محمد امین جمالي

    بهترين، معلوماتي، ۽ مناسب تحرير

  2. زبردست ادا امر فياض

  3. جيئي سنڌ جيئي سنڌي ٻولي ساڙ ڪندڙن تي لعنت

    جيئي سنڌ جيئي سنڌي ٻولي ساڙ ڪندڙن تي لعنت

  4. سائين امر فياض صاحب.
    اوهان سولي نموني سان جيڪو ڪجھ سمجهايو اهو واقعي شاندار ۽ سمجھ ۾ ايندڙ هيو. پر اڙدو ميڊيا جو اصل چهرو به سامهون اچڻ ڀلي ڳالھ آھي. اھا ڳالھ سڄي قوم جي ڪم جي آهي. مهرباني.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے