اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

کہاں ہے مدینہ کی ریاست؟ | محمد بشیر

تحریر: محمد بشیر

ہم بحیثیت معاشرہ ظلم، جبر اور حیوانیت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کو پست پشت ڈال کر اپنی سفلی خواہشات کو پورا کرنے کے لٸے ہر حد کراس کرجاتے ہیں۔

لاہور موٹروے پر ایک اکیلی اور نہتی خاتون کے ساتھ جو اندوہناک واقع پیش آیا ہے، وہ کوٸی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کم سن بچوں اور خواتین کےساتھ رہپ کے لامحدود واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں اور اب بھی ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست پر عوام کے جان اور مال کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن وہ ایسا کرنے سے بوجوہ قاصر ہے۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے کو ہی لے لیں، جہاں یہ دلخراش واقع پیش آیا تھا، گزشتہ 6 ماہ سے اس سڑک پر نہ کوٸی پولیس چوکی بناٸی گٸی اور نہ ہی سیکورٹی اداروں کی پٹرولنگ کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ حکومت نے لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالنے کے لٸے ٹول پلازے تو بنادیٸے، لیکن عوام کی حفاظت کے لیٸے کوٸی منصوبہ بندی نہیں کی گٸی۔ جس سے وفاقی اور صوباٸی حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت ظاہر ہوتی ہے۔

مواصلات کے وفاقی وزیر مراد سعید اسمبلی کے باہر اور اندر ہروقت اپوزیشن کو لتاڑنے میں مصروف رہتے ہیں، کی بنیادی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس سڑک پر موٹروے پولیس کی تعیناتی کے لٸے ممکنہ اقدامات اٹھاتے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مارچ 2020 کو جب یہ سڑک ٹریفک کے لٸے کھولی گٸی تھی، اس وقت سے اب تک کوٸی انتظامات نہیں اٹھاٸے گئے جس سے وفاقی اور پنجاب حکومت کی غفلت ظاہر ہوتی ہے ۔‏جیو نیوز کے مطابق اس موٹروے پر خود پولیس کی اس سال جون کی رپورٹ کے مطابق جرائم کے واقعات بڑھ رہے تھے اور اسے خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ متعلقہ حکام خواب خرگوش میں پڑے رہے جس کا خمیازہ اس خاتون اور اسکے بچوں کو بھگتنا پڑا۔ اب عثمان بزدار اور پولیس حکام بڑی پھرتیاں دکھارہے ہیں کیونکہ اس واقعے کی وجہ سے پورا ملک سراپا احتجاج ہے ۔ اگر بہت پہلے اس ویران سڑک پر پولیس پٹرولنگ کا انتظام کردیا جاتا تو اس خاتون کے ساتھ یہ سانحہ پیش نہ آتا۔
خبروں کے مطابق یہ مظلوم خاتون پٹرول ختم ہونے کے بعد دو گھنٹے تک اس ویران سڑک پر کھڑی رہی، اسی اثناء میں اس نے موٹروے پولیس کو فون کیا تو متعلقہ اہلکار نے خاتون کو کہا کہ یہ لنک روڈ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی لہٰذا آپ ایف ڈبلیو او کو کال کریں۔ وہاں سے بھی اسے کوٸی مثبت جواب نہیں ملا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جس جگہ خاتون کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوا تھا وہاں سے ٹول ٹیکس تک کا فاصلہ دس سے پندرہ منٹ کا تھا۔ اگر ایف ڈبلیو او یا موٹروے پولیس کے حکام بجاٸے حدود کے تعین کے انسانیت کے ناطے Out of the way جاکر اس کی مدد کردیتے تو خاتون کی عزت تارتار نہ ہوتی۔

وزیراعظم مدینہ کی ریاست بنانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں اور ماضی میں کٸی دفعہ حضرت عمرفاروق کاقول کہ ”اگر دریاٸے فرات کےکنارے ایک کتا بھی بھوک سے مرجاٸے تو خلیفہ وقت اسکا ذمہ دار ہوتا ہے“۔
بڑے زور شور سے دھراتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ایک اکیلی اور نہتی خاتون لاہور کی ایک سڑک پر اپنی عزت لٹا بیٹھی ہے، کی ذمہ داری کس پر ڈالیں گے۔؟ عمران خان بطور وزیراعظم, مراد سعید بطور وزیر موالات, عثمان بزدار بطور چیف منسٹر پنجاب, آٸی جی پنجاب، آٸی جی موٹروے اور ایف ڈبلیو او کے حکام اس سانحے کےذمہ دار بنتے ہیں۔ اب مدینہ کی ریاست بنانے کے دعوے دارکس کو اس ظلم کا ذمہ دار ٹھرائیں گے یا کون استعفیٰ دیگا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتاٸے گا۔ اور یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ وزیراعظم کے پاس ”کسی“ سے استعفیٰ لینے کی طاقت ہے بھی یا نہیں؟
قائداعظم محمد علی جناح نے بڑی ,محنت, ہمت اور لازوال جدوجہد کے بعد یہ ملک حاصل کیا تھا اور اسکے لٸے ہمارے بزرگوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، نوجوان خواتین اور کمر عمر لڑکیوں کی عصمتیں لٹیں۔ ہماری نوجوان نسل ان کی دی گٸ قربانیوں کو فراموش کر بیٹھی یے۔ ہمارا معاشرہ انسانیت کی تمام اقدار کو فراموش کربیٹھا ہے۔ ہمارے آئین کے پہلے صفحے پر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ درج ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بحثیت مسلمان اسلامی احکامات کوسمجھتے ہیں؟ یا ان پر اس کی روح کے مطابق من وعن عمل کرتے ہیں؟۔

ہم مدینہ کی ریاست کا بار بار تذکرہ کرتے ہیں لیکن اسلامی مساوات کے فلسفے کو بُھلا بیٹھے ہیں۔ سڑک کنارے کھڑی ایک بے بس اور مجبور عورت کی انسانیت کے ناتے مدد کرنے کے بجاٸے اس کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ بھیڑیئے ہیں جنہوں نے تمام حدیں کراس کرتے ہوٸے اس اکیلی عورت کو روند ڈالا اور اس کے معصوم بچوں کا لحاظ بھی نہیں کیا۔ موجودہ حکومت کے دو سالہ دور کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف ایلیٹ کلاس یا مافیاز فرینڈلی حکومت ہے اور نچلے طبقے کے مسا ئل سے اسے کوٸی سروکار نہی ہے اور ان کو ظالم سماج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہاں مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگانے والوں سے یہ سوال کرنا بنتا ہے، کیا انہوں نے خلفاء راشدین کی سوانخ عمری پڑھی ہے؟ یا ان عظیم المرتبت ہستیوں کی زندگی گزارنے کےاصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں؟۔

حضرت عمر فاروق کو ہی لے لیں جو سادگی پسند بھی تھے اورعادل حکمران سمجھے جاتے تھے۔ وہ راتوں کو بھیس بدل کر لوگوں کی تکالیف اور مسائل کا خود جاہزہ لیتے تھے اور ان کو موقع پر حل فرماتے۔ وہ تین سو کنال کے بنگلے کی بجاٸے ایک جھونپڑی میں رہاہش رکھتے تھے، یعنی ان کا رہن و سہن سادہ تھا۔ خلفاء راشدین نے اپنے ادوار میں ہرعام و خاص کے لٸے برابری کی سطح پر انصاف کی فراہمی ممکن بناٸی۔ کسی کالے کو گورے پر یا کسی گورے کوکالے پر فوقیت نہیں دی گٸی۔ کیا موجودہ حکمران اور ہماری عدلیہ ان کی پیروی کرتے ہوٸے ہر عام و خاص کو برابری کی سطح پر انصاف مہیاء کرتی ھے؟ یہ ایک بہت تلخ سوال ہے۔ چلیں سب باتوں کو ایک طرف رکھیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا اس خاتون کی جگہ کسی اہم شخصیت کی بہن,بیٹی یا بیوی ہوتی اور اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوتا اور وہ موٹروے پولیس یا ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں کو فون کرتی تو کیا وہ حدود کا رونا روتے یا پلک جھکپتے ہی اس کی مدد کو  نہ آتے۔؟ اس صورت میں تمام حدودو قیود کو بھلا دیا جاتا۔ کسی اہم شخصیت کی خاتون کی مدد کرنا اور عام خاتون کو قانون اور ضابطوں کا درس دینا ناانصافی اور عدم مساوات کے ذمرے میں آتا ہے۔
لہٰذا موجودہ حکومت خودفریبی سے نکل آٸے اور مدینہ کی ریاست کی رٹ لگانے کی بجاٸے اپنے گریبان میں جھانکے اور باز رہے، کیونکہ موجودہ حکومت نے اب تک جتنے بھی اقدامات اٹھاٸے ہیں وہ کسی بھی صورت مدینہ کی ریاست سے مطابقت نہیں رکھتے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے