منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

کہانی۔۔۔۔۔۔ | نواب علی راہو

تحریر: نواب علی راہو
بڑھتے جائیں ہم سیلانی، جیسے اک دریا طوفانی

یہ 2016ء کی بات ہے جب مجھے فیس بک کے ان باکس میں ایک میسج ملا کہ آپ مصروف تو نہیں؟ ان دنوں میں امریکہ میں اپنی ماسٹر آف ایجوکیشن اسکالرشپ پروگرام کی گریجویشن کی تکمیل میں مصروف مطالعہ تھا۔ خوش قسمتی سے اس وقت میں فارغ تھا اس لیے ہمارے درمیان چیٹنگ شروع ہو گئی۔ اس نے مجھے باور کرایا کہ وہ میرا پچھلے دو سالوں سے فیس بک فرینڈ ہے لیکن پہلے کبھی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا کیا کوئی بغیر مطلوبہ رقم کے یونیورسٹی میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کر سکتا ہے؟ میرا جواب اثبات میں تھا۔ اس نے فوراً جواباً کہا یونیورسٹی میں کوئی اسکالرشپ کا بندوبست بھی نہیں ہے جس سے اسے یونیورسٹی میں داخلہ ملے نہ ہی اس کا کوئی ایسا شاندار تعلیمی ریکارڈ ہے کہ اسے کوئی اسکالرشپ مل سکے کیا پھر بھی یونیورسٹی میں تعلیم پانا ممکن ہے؟ میرا اس دفعہ بھی جواب اثبات میں تھا۔ اس نے فورا مجھے خوشی اور حیرت اور شکریے کے علامتی خاکے بھیج کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ تحریری کفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس نے پوچھا کہ وہ کس طرح یونیورسٹی کی پڑھائی کر سکتا ہے؟ اس بات کا براہ راست جواب دینے سے پیشتر میں نے اس کے والد کے مالی حالات، گھر والوں کے کوائف، ذرائع آمدن اور اس کے پڑھائی کے شوق اور انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کے سفر کے بارے میں دریافت کیا۔ امریکہ میں انٹرمیڈیٹ لیول کو ہائی سکول کی تعلیم کے برابر مانا جاتا ہے۔ جواب میں اس نے ایک دلدوز کہانی سنائی۔
اس کے بقول اس کے والد ایک ٹی وی مکینک ہیں۔ ان کی آمدنی محدود ہوتی ہے۔ اور اب یہ پیشہ تیزی سے غیر منافع بخش ہوتا جا رہا ہے۔ گھرانے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس نے محلے میں ایک دکان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ اس وقت پچاس روپے روزانہ کماتا ہے جو 2016ء میں آدھے ڈالر کے برابر تھا۔ اس کی ماں ایک گھریلو خاتون ہے اس کی بہن شادی شدہ ہے اور وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس تنگدستی کے باوجود اس نے جیسے تیسے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کر ہی لی۔ اس کا تعلق درمیانے طبقے کی نچلی سطح کے ان لوگوں میں سے تھا جو مالی لحاظ سے تو کمزور ہوتے ہیں لیکن ترقی کی لگن اور خودداری اور انکساری اور حصول مقصد کی جدوجہد میں بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے تجسس کو دیکھ کر میں نے یہ کہہ کر اسے مطمئن کیا کہ ایک محنتی اور پرعزم انسان اگر آگے بڑھنا چاہے تو کوئی بھی مشکل اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اس طرح میں نے اسے آگے بڑھنے کا سگنل دے دیا۔ میں نے اپنی بات کو ایک دفعہ اور دہرایا کہ امید ہے کہ پیسوں کی کمی اور محدود ذرائع آمدن اس کی اعلی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔
اس کے فورا بعد اس نے یونیورسٹی کے اینٹری ٹیسٹ کا فارم بھر دیا، یہ ایک لازمی ٹیسٹ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر طالب علم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا اہل ہو جاتا ہے۔ اس کے دوست رشتہ دار اور واقفان حال کو اس ٹیسٹ میں ناکامی کی پوری امید تھی کہ ایک دیہاڑی دار غریب نوجوان کہاں اس ٹیسٹ میں پاس ہو سکے گا۔ حتی کہ اس کے والدین کو بھی یہی خدشہ تھا۔ لیکن ان تمام خدشات کے باوجود جب نتیجہ آیا تو وہ اتنے نمبر حاصل کر چکا تھا جس سے اسے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی اہلیت مل گئی تھی۔ اس کامیابی سے اس کے دل میں امید کی ایک کرن روشن ہوگئی اور اس کے اس جذبے میں مزید تقویت آگئی کہ وہ مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس نے یونیورسٹی سے ایڈمیشن فارم حاصل کیا اور خوش قسمتی سے اس کے والد کو کچھ اضافی رقم کی آمدنی ہوئی جس سے اس نے داخلہ فیس جمع کرادی۔
اس نے ایک دفعہ پھر میسنجر پر مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے اطلاع دی کہ اس کے والد کے پاس صرف یہی ایک رقم تھی جو اس نے یونیورسٹی کی فیس میں جمع کرا دی اب مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے اس کے پاس مزید کوئی رقم نہیں ہے۔ اور نہ ہی یونیورسٹی کے قریب رہنے کے لئے اس کے پاس کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ دیگر اخراجات کے لیے کوئی رقم۔ “کوئی بات نہیں”، میں نے کہا “مجھے یہ بتاؤ کہ تم حیدرآباد کب آ رہے ہو”؟ حیدرآباد سندھ وہ شہر ہے جہاں سے یونیورسٹی تقریبا سولہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ میں اس سے گفتگو کے دوران اس کی ان پریشانیوں کو محسوس کر رہا تھا جن سے وہ گزر رہا تھا۔ میں نے اسے باور کرایا کہ یاد رکھو راستے کا پہلا قدم مشکل ہوتا ہے لیکن فکر نہ کرو تم نے کامیابی سے یہ پہلا قدم طے کر لیا ہے۔ میں نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں اور تم اس کی ایک زندہ مثال ہو۔ وہ کلاسوں کے آغاز سے پہلے حیدرآباد پہنچ گیا۔ میں نے اپنی بیوی کو فون کر کے تاکید کی کہ اس کی جتنی ممکن ہوسکے مالی مدد کر دے۔ کلاسوں کے آغاز سے سندھ یونیورسٹی میں اس کی ایک نئی زندگی کا بھی آغاز ہو گیا۔
تعلیمی مشکلات، محدود مالی حالات، گھر سے دوری اور اچھے برے تجربات کا ایک طویل سلسلہ اس کی زندگی کا حصہ بن گیا۔ اس نے سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا تھا۔ اس فیلڈ میں صوبے اور ملک میں ملازمت کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اس کی کیریئر کونسلنگ کرتے ہوئے میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا مضمون تبدیل کرلے، یہ مشکل ضرور تھا لیکن اس نے مضمون تبدیل کرکے زولوجی کے مضمون میں داخلہ لے لیا۔
ابھی اس کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ یونیورسٹی کے قریب آس کے لئے رہائشی مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ ہر نیا دن اس کی مشکلات میں اضافہ کر رہا تھا۔ اور مالی وسائل میں کمی اس کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا تھا۔
میری اس سے پہلی بالمشافہ ملاقات جب ہوئی جب میں امریکا سے گرمیوں کی تعطیلات میں وطن واپس آیا تھا۔ میں نے اس کے مسائل سنے اور اسے ترغیب دی کہ وہ دل جمعی سے اعلی تعلیم کے حصول میں پرعزم رہے۔ اس کو کچھ ٹیوشن دلائی اور اہل ثروت سے رابطہ کر کے اس کے لئے کچھ مالی امداد پر راضی کیا جو بمشکل ایک سال تک اس کے لیے کافی رہا۔ ٹیوشن کی آمدنی مستقل نہیں ہوتی جب امتحانات ہو جاتے ہیں تو ٹیوشن کا سلسلہ بھی عارضی طور پر رک جاتا ہے اور پھر سے نئی ٹیوشن کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ اسے سیمسٹر امتحان کی فیس کے لیے بھی رقم درکار تھی جبکہ خود اس کے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے تھے۔ گو یہ مرحلہ آسان نہیں تھا لیکن میں نے اور میرے خاندان نے اس کی ہر ممکن مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
امریکہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب میں وطن واپس آیا تو میرا اس سے اکثر و بیشتر رابطہ ہو جاتا تھا۔ میں اس کی خود داری اور عزت نفس کو مدنظر رکھ کر اس کے ذرائع آمدن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ ایک خالی پیٹ ذہین نوجوان اپنے آپ کو ڈپریشن کے راستے میں پڑنے سے نہیں بچا سکے گا۔ نتیجتا اس میں مایوسی پیدا ہونے لگی۔
یہ سب سے نازک مرحلہ تھا کیونکہ اب وہ اپنی منزل سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ وہ فائنل ائیر میں تھا اور فائنل سمسٹر کا نتیجہ اسے کچھ بنا بھی سکتا تھا اور برباد بھی کر سکتا تھا۔ اس کے ذہن میں خوف اور خدشے اور وسوسے پیدا ہوتے رہتے تھے۔ میں اپنے کردار اور ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اسے روزانہ اپنے ساتھ واک (چہل قدمی) پر لے جاتا تھا۔ بالعموم ہم دونوں ہی واک پر جاتے تھے اور کبھی کبھی اس کا روم پارٹنر بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاتا تھا۔ ہم دوران چہل قدمی مختلف معاملات پر بحث بھی کرتے تھے۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر اس کے معقول اور غیر معقول اور غیر متعلقہ سوالات کے جواب دیتا تھا تاکہ اس کا اعتماد بحال رہے اور اس کی پریشانیوں میں وقتی کمی آ جائے۔ وہ غیر ضروری طور پر مایوسی اور ذہنی خلل کا شکار ہوتا جا رہا تھا۔ میں اس کو اس کے پرانے دن یاد دلاتا کہ کس طرح اس نے اپنی مشکلات کو ختم کرکے تعلیم کو جاری رکھا تھا اور یہ بھی کہتا تھا کہ سب لوگ تمہاری طرح با ہمت نہیں ہوتے۔ میں اسے باور کراتا رہتا تھا کہ وہ پر عزم ہے ہمت والا ہے اور رکاوٹوں کو عبور کرنے والا ہے۔
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
میں اسے کہتا تھا کہ اب تم ڈگری حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہو اب تم اپنا ماضی دیکھو تو کیا تم محسوس کر سکتے ہو کہ یہ سب کچھ کتنا ناممکن تھا؟ میں کہتا تھا کہ تم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ تم یونیورسٹی کی گریجویشن کی ڈگری حاصل کرسکو گے۔ وہ کہتا تھا “بالکل نہیں” تو میں کہتا تھا تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ آج تم اس خواب کی تعبیر پانے کے بالکل قریب آ چکے ہو۔ میری گفتگو سے اس کے عزم اور حوصلے میں اضافہ ہوتا تھا اور وہ زندگی کو مثبت پہلو سے دیکھنے لگتا تھا۔
وہ ایک ابر آلود شام تھی اور دھیمی دھیمی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔ ہم حسب معمول چہل قدمی میں مصروف تھے۔ وہ بہت خوش نظر آ رہا تھا بات بات پر اس کے قہقہے اس کی اندرونی مسرت کا اظہار کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کیا تمہاری کوئی لاٹری نکل آئی ہے؟ “نہیں لیکن لاٹری سے کم بھی نہیں اب میں گریجویٹ ہو چکا ہوں” اس نے مجھے اطلاع دی “میرا سی جی پی اے 4 میں سے تین اعشاریہ پانچ ہے”۔ میں نے اسے مبارکباد دیتے ہوئے کہا تمہاری جدوجہد قابل تعریف ہے۔ تمہاری کامیابی ہماری کامیابی ہے۔ ہمیں اتنی ہی خوشی ہے جتنی تمہارے والدین کو ہے۔ تم جانتے ہو کہ اپنے لگائے ہوئے پودے کا پھل کتنا میٹھا اور مزے دار ہوتا ہے۔ اس خوشی کے موقع پر میری طرف سے تمہاری ایک دعوت ہو گی۔ چہل قدمی سے واپسی پر جب ہم ماضی کے اوراق پلٹ رہے تھے تو میں نے پوچھا تم نے کس وجہ سے مجھ سے فیس بک پر رابطہ کیا تھا؟ اس نے بتایا آپ کی ایک فیس بک پوسٹ سے مجھے یہ ترغیب ملی کہ میں آپ سے رابطہ کروں۔ اس نے وہ پوسٹ دہرائی “ایک کسان کی اولاد ہونا بہتر ہے ایک زمیندار کی اولاد ہونے سے، میں وہ طریقے اور تدابیر بتاؤں گا جن سے تم اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہو کوشش اور ہمت تمہاری ہوگی”۔ جس دن میں نے یہ پوسٹ پڑھی میں آپ کا فیس بک فرینڈ بن گیا اور باقی کے حالات سے میں اور آپ واقف ہی ہیں۔
اس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے جس میں اسے مزید چیلنجز درپیش ہوں گے۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں اب وہ خالی ہاتھ نہیں ہے اس کے پاس زولوجی کی گریجویٹ ڈگری ہے جو بلاشبہ اس کا معاشی لائسنس ہے۔ بے شک اس کے بدحالی کے دنوں کا اختتام ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ مستقبل کی جدوجہد اس کے لیے خوش نصیبی لائے گی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے