منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

“کوئی داغ نہیں دل پہ بجز داغ ندامت” | علیم عُثمان

تحریر : علیم عُثمان

ممتاز صحافی مرتضی’ سولنگی بتاتے ہیں . .

“کئی دھائیاں گذرنے کے بعد جب میں ریڈیو پاکستان کا سربراہ بنا تو تاریخ اور سیاست کے طالب علم ہونے کے ناتے میں نے پرانے کاغذات نکلوائے اور پرانے لوگوں سے بات کی۔ مارشل لا کے نفاذ کے وقت ریڈیو پاکستان کے سربراہ اجلال حیدر زیدی حیات تھے۔ ان کا تفصیلی انٹرویو میں نے خود کیا۔ زیدی صاحب سے گفتگو سے جو تفصیلات سامنے آئیں وہ بہت ہی دلچسپ ہیں۔
پانچ جولائی کی صبح سویرے فوجی ٹرک 303 پشاور روڈ، راولپنڈی پہنچا۔ اس وقت ریڈیو پاکستان اسلام آباد اسٹوڈیو بھی وہیں تھا۔ شاہراہ جھموریت اور شاھراہ دستور کے سنگم پر موجود موجودہ عمارت جس کا سنگ بنیاد بھی شھید بھٹو نے رکھا تھا ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
فوجی ٹرک کے ساتھ ایک فوجی افسر اور سکریٹری اطلاعات مسعود نبی نور بھی تھے۔ ابھی ریڈیو کی صبح کی شفٹ کے لوگ آنا شروع ہوئے تھے۔ فوجی افسر نے کاغذ کا ایک ٹکڑا لہراتے ہوئے کہا کہ انچارج کون ہے۔ ہم نے اہم خبر نشر کروانی ہے۔ ملک میں مارشل لا لگ گیا ہے۔ موجود لوگوں نے کہا کہ سر آپ غلط جگہ آگئے ہیں۔ خبریں یہاں سے نشر نہیں ہوتیں۔ افسر نے کہا کہ ہم ٹھیک جگہ آئے ہیں۔ ہمیں بیوقوف نہ بناؤ۔ سکریٹری اطلاعات مسعود نبی نور ہمارے ساتھ ہیں۔ کوئی چوں چراں کی تو گولی مار دیں گے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں گولی بھی ماردیں تو پھر بھی خبریں یہاں سے نشر نہیں ہونگی کیونکہ وہ تو نیوز ڈپارٹمیںنٹ سے چلتی ہیں۔ افسر نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ جواب ملا حضور وہ سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ہے۔ افسر نے کہا کہ کوئی ہمارے ساتھ ٹرک میں بیٹھے اور سیٹلائٹ ٹاؤن لی چلے۔
چند منٹوں میں قافلہ سیٹلائٹ ٹاؤن روانہ ہوگیا۔ قافلے کے لوگ گاڑیوں سے اترے اور عمارت میں اندر داخل ہوگئے۔ نیوز انچارج اور عملہ موجود تھا اور صبح کے بلیٹن کی تیاری میں مصروف تھے۔ فوجی افسر سکریٹری اطلاعات کے ساتھ نیوز انچارج کے کمرے میں گئے اور کاغذ کا ٹکڑا تھمایا اور حکم دیا کہ مارشل لا کے نفاذ کی خبر نشر کی جائے۔ نیوز انچارج نے کہا کہ قوائد کے مطابق اتنی بڑی خبر ڈی جی ریڈیو سے پوچھے بغیر نہیں دی جا سکتی۔ ان کے گھر فون کیا گیا لیکن کسی نے فون نہ اٹھایا۔ نیوز انچارج نے صاف انکار کر دیا کہ ڈی جی کی منظوری کے بغیر خبر نشر نہ ہوگی۔ افسر نے پوچھا کہ ڈی جی کہاں رہتے ہیں۔ بتایا گیا کہ ایف سکس میں موجودہ کوھسار مارکیٹ کے قریب۔
قافلہ اب کوھسار مارکیٹ کی طرف چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ ڈی جی اجلال حیدر زیدی رات گئے بھٹو صاحب کی پریس کانفرنس نشر کروا کر دیر سے سوئے تھے اس لیے نہ اٹھے۔ آخرکار فوجی افسر اور ان کے ساتھی دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئےاور ان کے کمرے کا دروازہ پیٹ کر انہیں جگایا۔ زیدی صاحب ہڑ بڑا کر اٹھے اور ماجرا سنا۔ زیدی صاحب نے گرین لائن فون اٹھایا او بھٹو صاحب سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن فون پہلے ہی مردہ کیے جاچکے تھے۔ فوجی افسر نے کہا کہ اگر آپ کو شک ہے تو پھر آپ ضیاالحق سے خود بات کرلیں۔ اجلال نے اپنے فون سے ضیاالحق کو فون کیا۔ آپریٹر نے ضیا سے فون ملا دیا۔ اجلال نے ضیا الحق استفسار کیا۔ ضیا نے تصدیق کی اور انہیں صبح گیارہ بجے جی ایچھ کیو میں پریس کانفرنس کے انتظامات کی ھدایت کی۔ اس کے بعد اجلال حیدر زیدی نےنیوز کے انچارج کو فون کیا اور خود خبر لکھوائی۔ جب تک خبر تیار ہوئی اس وقت صبح چھ بجے کا بلیٹن چل رہا تھا جس میں رات گئے بھٹو صاحب کی پریس کانفرنس کی خبر چل رہی تھی۔ نیوز ریڈر ناھیدہ بشیر روانی سے خبریں پڑھ رہی تھیں۔ خبریں ختم ہونے میں آدھا منٹ رہ گیا تھا۔ اسٹوڈیو کا دروازہ کھلا۔ دروازہ کھلنے کی آواز آج بھی رکارڈنگ میں صاف سنائی دیتی ہے۔ ناھیدہ بشیر کی گھبرائی ہوئی خوفزدہ آواز میں مارشل لا لگانے کی خبر کے ساتھ خبریں ختم ہوئیں اور آمریت کی طویل رات اور جناح کے پاکستان کو دفن کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ”

خوش قسمتی سے 5 جولائی 1977 کی صبحِ 6 بجے کا یہ نیوز بلیٹن میں نے خود سنا تھا کیونکہ بدقسمتی سے میں ان دنوں ایک تنگ نظر اور بنیاد پرست قسم کا ‘مسلم نوجوان’ اور “پی این اے” کا ایک نہائت سرگرم کارکن ہوا کرتا تھا (ظاہر ھے یہ شعور آنے سے پہلے کی بات ھے) میں اپنے ھوم ٹاؤن وہاڑی میں روزانہ پی این اے کے جلوس میں سب سے زیادہ ردھم کے ساتھ نعرے لگوایا اور شرکاء کا خون گرمایا کرتا تھا جس سے جلوس میں خاصی thrill اور جذباتی فضا پیدا ہوجایا کرتی تھی . “بندے مار” کی شہرت رکھنے والے پنجاب پولیس کے افسران میں ٹاپ افسر جاوید شاہ جو شائد اب تک ڈی آئی جی کے عہدہ سے ریٹائر ہوچکے ہوں ، وہی جن کے ہاتھوں ریاض بسرا کو “پار” کروایا گیا تھا ، اس وقت تھانہ سٹی وہاڑی کے ایس ایچ او تھے ، غالباً سب انسپکٹر جاوید شاہ کی یہ پہلی پوسٹنگ تھی ، ان کی سربراہی میں پولیس پارٹی نے میری گرفتاری کے لئے ھمارے گھر پر چھاپہ بھی مارا جبکہ سپیشل برانچ کے سادہ پوش اہلکار روزانہ جلوس کے اختتام پر مجھے قابو کرنے کی کوشش کرتے اور پی این اے کے دوسرے نوجوان کارکن مجھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر فرار کرا لیتے  . .
سچ بتاؤں؟ اُس بدقسمت صبح مجھے ریڈیو نیوز بلیٹن کے عین آخری لمحے میں یہ خبر سن کر اسی طرح بے پناہ خوشی محسوس ہوئی تھی جس طرح میرے جیسے کروڑوں بے وقوفوں کو 3 چار سال قبل نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ یا 2018 کے الیکشن کے بعد “ڈونکی کنگ” کے پہلے قوم سے خطاب کے وقت محسوس ہوئی تھی ، جو اس نے وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی اپنے گھر سے کیا تھا . .

کاش ، اس وقت اتنا شعور آگیا اور اس بات کا ادراک مل گیا ہوتا کہ یہ تو امریکی سی آئی اے سپانسرڈ “تحریک نظام مصطفیٰ” تھی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے