اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

کوئٹہ پریس کلب کا 50 سالہ گولڈن جوبلی کے موقعے پر اسمبلی کے نشستوں کے اضافے کے حوالے کثیر الجماعتی مکالہ

رپورٹ: گہرام اسلم بلوچ

کوئٹہ پریس کلب کے پچاس سالہ گولڈن جوبلی کے موقعے پر  بلوچستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے نشستوں میں اضافے کے حوالے سے کثیرالجماعتی مکالمہ رکھا گیا، جس کی صدارت میزبان کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان جبکہ مہمان خاص پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری تھے۔  اس سیمینار اور مکالمے میں، نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے شفقت لانگو، نیشنل عوامی پارٹی، پشتونخواں ملی عوامی پارٹی، جمعیت علما اسلام، جماعت اسلامی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سمیٹ تمام مذہبی اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کے مابین ایک روزہ مکالمہ کا انعقاد کیا گیا۔

تمام مقرررین نے باری باری کوئٹہ پریس کلب  کے پچاس سالہ صحافتی تاریخی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ  اسوقت بلوچستان سمیت ملک بھر صحافت اور اظہار رائے پر بدترین قدغن ہے، اس پچاس سال کے دوران بلوچستان کے صحافیوں نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر انتہائی جرات مندانہ اور بہادری کیساتھ قلم کی عضمت کو بلند کرتے ہوئے آزادی صحافت کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ حق و سچائی، خبر کی تلاش میں نکلے  بے شمار نوجوان صحافی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔ بلوچستان ایک شورش زدہ صوبہ ہے صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک ترین خطہ قرار دیاگیا تھا مگر باوجود کسی  خوف کے صحافیوں نے  فیلڈ میں اپنا کام جاری و ساری رکھا۔

بلوچستان میں قومی اور صوبائی نشستوں کی اضافے کے حوالے سے مقرررین اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا رسائل و سائل سے مالا مال رقبے کے لحاظ سے سب بڑا صوبہ بلوچستان انتہائی پسماندہ ترین صوبہ ہے۔ جو وسائل بلوچستان سے نکل رہے ہیں انکی بیس فیصد بھی بلوچستان کی ترقی اور انفرا اسٹکچر، کمیو نیکیشن کے لیے خرچ نہیں ہو پا رہا ہے۔ مکالمے میں گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے پارٹی رہنماوں نے موقف اختیار کی کہ انتہائہ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  سابق ( فاٹا) کی آبادی  پچاس لاکھ تھی انکی قومی اسمبلی کی نشستیں بلوچستان کے ایک کروڑ سے زاہد  آبادی  سے زیادہ تھے۔ وہ مزید کہتے ہیں کا بلوچستان کا ہر اضلاع رقبے کے لحاظ سے  ترقی پذیر ممالک کے برابر ہے، دلائل پیش کرتے ہوئے مقررین  نے کہا کہ یہاں کے ایک حلقے کا نمائندے کو دوسرے علاقے میں انتخابی مہم کے دوران دو دو دن  سفر کرنا پڑتا ہے۔ بلوچستان کی پہلی ہوئی آبادی ہے ہر  پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر  آبادی موجود ہے ۔

حال ہی میں  سینیٹ آف پاکستان نے ایک  سفارش پیش کی بلوچستان  کے صوبائی  نشستوں کو 51 سے بڑھا کر 63 کر دیئے گئے ہیں۔  اس بارے میں  ایک سیاسی جماعت کے رہنما نے کہا کہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 65 لاکھ تھی اُسوقت  کی آبدای  کے مطابق بلوچستان کے صوبائی نشستوں کی تعداد 63 ہونا تھا ، جب ابکی مردم شماری کے بعد بلوچستان کی آبادی ایک کروڈ سے زائد ہے لہذا اب ہمارا مطالبہ ہے  بلوچستان کے صوبائی کے جنرل نشستوں کو 51 سے بڑھا کر 80 کیئے جائیں، مخصوص نشستوں کسیاتھ بلوچستان کے نشستوں 100 کئے جائے جب کہ  قومی اسمبلی کے نشستوں کو بڑھا کر ہر ضلعے میں ایک ایک قومی اسمبلی کا نشست ہونا چاہئے۔

اس سلسلے میں جب ہم نے اس پروگروام کے بارے میں سینئر جرنلسٹ ایوب خان ترین سے  بات کی تو انکا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے اپنے نوجوان نسل اور نوجوان جرنلسٹس کو کوئٹہ پریس کلب کے پچاس سالہ صحافتی جدوجہد کے کے بارے میں بتانا ہے ۔ ترین صاحب کہتے ہیں 2020 کو کوئٹہ پریس کلب نے پچاس سال کی مسافت طے کرتے ہوئے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں، اچھے اوقات بھی دیکھے ہیں۔ اسوقت بلوچستان میں ہمارے 44 کے قریب صحافی شہید ہو چکے ہیں اور 24 جرنلسٹ کے قریب وہ ہیں جو   خبر کی تلاش کے دوران ٹارگٹ کلنگ میں  شہید ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے  ابھی تک کسی کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے ہیں اور بلکہ بہت کے ابھی تک ، ایف، آئی ،آر بھی درج نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی انکے لواحقین کو ماوضہ ملے ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے