اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

کشمیری تحریک مزاحمت کل اور آج | حیدر جاوید سید

تحریر: حیدر جاوید سید

پاکستان میں پچھلے72سالوں سے سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ”سودا” کشمیری تحریک مزاحمت ہے۔
سادہ لفظوں میں یہ کہہ لیجئے مسئلہ کشمیر کو ہمارے یہاں زندگی اور موت کا معاملہ بنا کر پیش کیا گیا۔
بٹوارے کے ابتدائی دنوں کے معاملات سمیت چند گھٹالوں کی تفصیل پچھلے کالم میں عرض کر چکا۔ یہاں ایک وضاحت ازبس ضروری ہے وہ یہ کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے اپنی تحریک مزاحمت کے ذریعے بھارت سے نہیں ڈوگرہ مہاراج سے آزادی حاصل کی تھی اس لئے اگر ان کے اہل دانش یہ کہتے ہیں کہ ان کے معاملے کو تنازعہ کشمیر سے الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔

دوسری اہم بات آزاد کشمیر کے ایک مرحوم راہنما سردار عبدالقیوم خان کے حوالے سے ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں خود کو ہمیشہ تحریک آزادی کے حریت پسند قائد کے طور پر پیش کیا اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ نیلا بٹ کے مقام پر آزادی کیلئے پہلی گولی انہوں نے چلائی تھی۔ تاریخی اعتبار سے ان کا دعویٰ درست نہیں کیونکہ جس وقت غازی ابراہیم خان کی قیادت میں موجودہ آزاد کشمیر کے لوگ جدوجہد کر رہے تھے سردار قیوم اس وقت فوج کے خزانہ دار شعبہ (اکاونٹس میں حوالدار تھے)میں ملازمت کرتے تھے۔
یہ ضرور ہے کہ انہوں نے1970ء کی دہائی میں البرق مجاہدین کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور دنیا بھر سے تحریک آزادی کیلئے چندہ اکٹھا کیا۔
البرق مجاہدین نے تحریک آزادی میں کیا خدمات سر انجام دیں اور چندہ کہاں گیا دونوں سوال زندگی بھر ان کا تعاقب کرتے رہے اور ان کیساتھ ہی قبر میں اُتر گئے۔

کشمیریوں کی حالیہ جدوجہد آزادی کے بانی بلاشبہ محمد مقبول بٹ شہید ہیں ،11فروری 1983ء کو بھارت نے انہیں تہاڑ سنٹرل جیل میں پھانسی چڑھا کر جیل کے اندر ہی دفن کر دیا۔
ان کی پھانسی کے ردعمل میں تحریک مزاحمت شروع ہوئی اور اس کی قیادت جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کر رہی تھی، جے کے ایل ایف،خود مختار کشمیر کی علمبردار تھی اس سوچ اور نظریہ نے اسے دو اطراف کے کشمیری نوجوانوں کی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔
ہمارے یہاں آج جس شخصیت سید علی گیلانی کو تحریک آزادی کشمیر کا بزرگ اور بانی رہنما بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہ اُس وقت مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی کے رکن تھے جب تحریک مزاحمت کا نیا دور شروع ہوا۔
جے کے ایل ایف کے منشور اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کشمیری تحریک مزاحمت کو مذہبی رنگ دیا گیا، جماعت اسلامی کی حزب المجاہدین بنی، لشکرطیبہ میدان میں آئی، مختصر وقت کیلئے حزب المؤمنین نامی تنظیم بھی سرگرم عمل ہوئی۔ ایک داو یہ کھیلا گیا کہ جے کے ایل ایف کو دو حصوں میں تقسیم کروایا گیا۔ پاکستان نواز یاسین ملک ایک دھڑے کے سربراہ بنے اور خودمختار کشمیر کے حامی جاوید احمد میر کی قیادت میں منظم رہے۔
پاکستان میں چونکہ حکومتی طور پر تحریک آزادی کو مذہبی رنگ دیا گیا اس لئے پاکستانی پریس نے1985ء سے اب تک35سالوں میں فقط اسلام پسند گروپوں کی مزاحمتی سرگرمیوں کو مرکزی خیال کے طور پر پیش کیا اور صرف وہ خبریں اور ویڈیوز ہمارے یہاں پھیلائی گئیں جن سے مذہبی جذبات اُبھارے جاسکتے تھے۔
تحریک آزادی کو مذہبی رنگ دینے کے فائدے اور نقصانات ہر دو پر مکالمہ کی ضرورت ہے لیکن کون کرے اور کس کو اجازت ہوگی۔
پاکستانی میڈیا نے مخصوص حکمت عملی نبھاتے ہوئے وہی کہا جو ”چاہا” گیا۔
اصولی طور پر تو ہمارے یہاں اس پر بھی کبھی غور نہیں ہوا کہ چند برس قبل جب کل جماعتی حریت کانفرنس تقسیم ہوئی، گیلانی میر واعظ گروپ کی صورت میں تو اصل حقیقت کیا تھی۔
کیا واقعی حریت کانفرنس کا گیلانی مخالف دھڑا بھارتی ریاست سے بات چیت کی راہ نکالنا چاہتا تھا یا اس کا مؤقف تھا کہ جدوجہد آزادی پر توجہ دی جائے اور یہ حق کشمیری عوام کا ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق کرتے ہیں یا ایک خودمختار ریاست کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں؟
پاکستان میں کشمیریوں کی تحریک مزاحمت میں تعاون اور حمایت کرنے والوں سے اس موڑ پر غلطی ہوگئی، انہیں حریت کانفرنس میں نظریاتی تقسیم کا بوجھ اُٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔
زیادہ مناسب بات یہ ہوتی کہ صاف کہہ دیا جاتا کہ خودمختار ریاست کا پوائنٹ اگر سلامتی کونسل نے مستقبل میں کسی موقع پر استصواب رائے کے وقت ریفرنڈم کا حصہ بنایا تو ہم مخالفت نہیں کریں گے۔
دوسری غلطی لشکرطیبہ اور چند دیگر مجاہدین گروپس کی بعض سرگرمیوں سے چشم پوشی ہے جس کی ایک مثال میجر مست گل نامی شخص کا درگاہ چرار شریف کو آگ لگانا تھا، یہ آگ فرار کیلئے لگائی گئی تھی۔

کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کے موجودہ مرحلہ میں بھی ہم چند باتیں نظرانداز کر رہے ہیں۔
مثلاً چند دن قبل جو نقشہ جاری کیا گیا وہ سلامتی کونسل میں ہمارے ریاستی مؤقف سے متصادم ہے۔
دوسری بات پاکستان کی جغرافیائی حدود کے حوالے سے دستور میں طے شدہ حدود ہیں اس شق میں تبدیلی کے بغیر محض سیاسی مقبولیت کیلئے جو داؤ کھیلا گیا وہ درست نہیں۔
گلگت بلتستان کے معاملے کو تاریخی تناظر میں مدنظر رکھنے کی بجائے بھارتی مؤقف کی روشنی میں متنازعہ مان لیا گیا۔
اب قابل غور بات یہ ہے کہ کیا حالیہ اقدامات سے قبل دوست ملکوں کو اعتماد میں لیا گیا؟
اس کا جواب نفی میں خود وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خیالات بیان کی صورت میں موجود ہے۔
وہ فرماتے ہیں۔
”دوست ممالک فیصلہ کریں وہ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں” سبحان اللہ۔ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ وہ ہمارے ملتانی بھائی ہیں۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں ہم کہہ مان رہے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر متنازعہ علاقہ ہے عوام کو حق رائے دہی (استصواب رائے) ملنا چاہئے، ادھر ہم نے نقشہ میں شامل کرکے عملی طور پر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے علاقے پر بھارت قابض ہے کیا کسی عقل مند نے یہ مشورہ نہیں دیا کہ اس سے کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو نقصان پہنچے گا؟۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے