ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں | احسان ابڑو

تحریر: احسان ابڑو۔
میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو
وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر
وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں
عبیداللہ علیم نے شاید آج ہی کے حالات کے لیئے یہ نظم لکھی تھی جب عمران خان صاحب کی حکومت اپنے اقتدار کے دو سال پورے کرنے کو ہے اور وہ خطۂ زمیں جہاں حالات مشکل ضرور تھے مگر الم اتنے بھی نہ تھے کہ ہر خاص و عام صرف دو سال میں ہی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی حکومت کے خاتمے کے لیئے اوپر والے کی جانب دیکھا شروع کردیں۔
وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے محض دو سال میں پاکستان کے حالات اس نہج پہ لا کھڑے کیئے ہیں کہ لوگ بھوک بدحالی سے خودکشیاں کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں پچھلے دنوں جب سوشل میڈیا پہ نارووال کے علاقے ظفروال میں ایک مزدور اور اسکے تین بچوں کی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر خودکشی کرنے کی تصاویر وائرل ہوئیں جس میں مزدور جان کی بازی ہار گیا جبکہ بچے بچا لیئے گئے تو دل جیسے دہل کے رہ گیا۔ نجانے کیوں ہم من حیث القوم بےحسی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں، امریکہ میں جارج فلائیڈ کی موت نے ساری امریکن قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور پورا امریکہ نسل پرستی کے خلاف متحد ہوکے کھڑا ہوگیا اور حکومت کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، مگر ہماری قوم شاید کسی بہت ہی بڑے سانحے کے انتظار میں ہے جب وہ اپنے حقوق اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوکر فسطائیت اور رجعت پسند حاکمیت کے خلاف سدائے حق بلند کرے گی۔
وزیراعظم عمران خان صاحب نے فرمایا تھا کہ جب ڈالر پہ ایک روپیہ بڑھتا ہے تو سمجھ لو کہ آپ کا وزیراعظم چور ہے، آج الحمدللہ ان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ڈالر کے ریٹ میں 45 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے لیکن پھر بھی وزیراعظم نہ چور ہیں نہ ڈاکو بلکہ صادق و امین ہیں، وہ فرماتے تھے کہ پیٹرول چالیس سے پینتالیس روپے کا ہونا چاہیے آج خدا کا شکر ہے کہ ان کی حکومت میں پیٹرول دوگنی سے بھی زیادہ قیمت میں عوام کو دے رہی مگر وزیراعظم کو سلام ہے کہ وہ آج بھی خطے کے دیگر ممالک سے کم قیمت میں پیٹرول فراہم کرکے عوام پہ احسانِ عظیم کر رہے ہیں۔ عمران خان نے حکومت سنبھالی تو چینی 52 روپے کلو تھی آج دو سال میں خیر سے سینچری مکمل کرکے خان صاحب کے نوٹس کی لاج رکھ چکی ہے، آٹا تیس روپے کلو ملتا تھا مگر چینی کی ضد میں آٹے نے بھی اڑان بھرنے کی ٹھانی اور آج خان صاحب کے سرٹیفائیڈ صداقت و امانت کی مرہون منت ستر سے پچھتر روپے کی حد کو چھونے لگا ہے۔
خان صاحب کے دور حکومت میں بجلی، گیس سمیت اشیاء ضرورریہ کی قیمتیں بار بار کئی بار بڑھائی گئیں، خان صاحب نوٹس پہ نوٹس لیکر قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بنتے گئے، ادویات جو نہ غریب دیکھتی ہیں نہ امیر اس قدرتی آفت اور مسلط کی گئی بیماری میں سب کی ضرورت ہیں ڈھائی سؤ فیصد مہنگی ہو چکی ہیں، نیند کی گولی زینیکس جو 570 میں تیس گولیوں کا پیکٹ ملتا تھا آج 2550 روپے کا ہو گیا اور وہ بھی نایاب ہوکر کہہ رہا ہے کہ کوئی پوچھے کہ اتنا مہنگا کیوں ہوا تو کہنا کہ خان آیا تھا۔ خان صاحب نے فرمایا تھا کہ کسی مافیا کسی ذخیرہ اندوز کو نہیں چھوڑیں گے، چینی مافیا اور گندم مافیا کے خلاف اتنے سخت اقدامات اٹھائے گئے کہ شاید ملکی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے کہ اتنی سخت کاروائی کے بعد دونوں اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے مافیاز کو خود سرکاری پروٹوکول میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا اور سخت نوٹس کا یہ حال ہوا کہ آج چینی اور گندم پیدا کرنے والا پاکستان لاکھوں ٹن گندم اور چینی برآمد کرنے جا رہا ہے۔
عمران خان ماشاءاللہ اپنے فرمودات اور منشور کے مطابق پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں فرمایا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، میں رلاؤں گا ان سب کو اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ خان صاحب اپنے وعدے کے کتنے پکے نکلے کہ کسی کو بھی نہ چھوڑا دیہاڑی دار مزدور سے لیکر سرکاری ملازم، بیوروکریسی سے لیکر تاجر صنعتکار ہر امیر غریب سارے ملک ساری قوم کو صرف دو سال میں ہی خون کی آنسو رلایا ہے۔ خان صاحب کے دعوؤں اور وعدوں کی تکمیل کی رفتار اگر یہی رہی تو یقیننا پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادی میں بھی نہ صرف روک لگ جائے گی بلکہ کم ہونا بھی شروع ہو جائے گی اور جب آبادی کم ہو جائے گی تو خوراک کی کمی جیسے مسائل بھی پیدا نہیں ہوں گے اور سب کو وافر مقدار میں اشیاء خوردونوش میسر آ سکیں گی اس وقت پیداوار اور طلب میں واضح فرق کی وجہ سے سب چیزیں دباؤ کا شکار ہیں اس لیئے قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
عبیداللہ علیم نے اسی خطے کے لیئے کہا تھا کہ اس خطے پہ چور حاکم تھے سارے کے سارے کرپٹ تھے منی لانڈرنگ کرکے دولت باہر بھیج رہے تھے مگر ڈالر اپنی حد میں تھا مہنگائی کنٹرول میں ہر خاص و عام اپنے بچوں کا گذر بسر کر رہا تھا خطہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے سائے میں تھا مگر جیسے ہی فرشتے اترے اسی خطۂ زمیں پہ تو خطے کے رنج و الم بھی بڑھ گئے اور خطہ عذاب لگنے لگا، خان صاحب نے سارے چور ڈاکو نیب کے ذریعے جیلوں میں ڈالے ہوئے ہیں یا پھر ان پہ مقدمے بنواکر انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے مگر ان چوروں ڈاکوؤں کے ساتھ جو لوٹ مار میں ملوث تھے سارے کے سارے اپنے ہم رکاب بنالیئے۔ دس ارب روز ہونے والے کرپشن ختم کردی، آٹھ ہزار ارب ٹیکس بھی اکٹھا کرکے خزانے میں جمع کروایا، نیب کے ذریعے لوٹے گئے کھربوں روپے بھی واپس لیکر خزانے میں جمع کروا دیئے، ملک پہ قرضوں کے بوجھ میں پانچ ہزار ارب واپس کرکے کمی کر دی، مگر ان سب اقدامات کے باوجود الم ہیں کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ عبیداللہ علیم نے نجانے کس بات کو مدِ نظر رکھ کر یہ غزل لکھی تھی مگر ان کی یہ خوبصورت غزل خان صاحب کی مثالی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے اس لیئے ان کی غزل کے آخری اشعار پہ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ !
وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہوا میں جھولتے تھے
وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی
سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے پسِ خنجر آزمائی
ہم ہی قتل ہو رہے ہیں ہم ہی قتل کر رہے ہیں

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر تین لاکھ سے زائد آوازیں #SindhIsNotColonyIK

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر تین لاکھ سے زائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے