ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

کرپشن کا ناکام ہوتا ہوا بیانیہ | محمد بشیر

تحریر: محمد بشیر

آجکل پاکستان میں کرپشن یا کرپٹ مافیاز کا بڑے زور و شور سے چرچا ہورہا ہے۔ زیادہ تر حکومتی سطح پر اس کی گردان خواہ وہ وزیراعظم ہو یا ان کی کابینہ کا کوٸی رکن کرتےہوٸے، مخالف سیاستدانوں کو رگیدنے میں مصروف دکھاٸی دیتے ہیں، خواہ ان کے اپنے ہاتھ ہی کرپشن میں کیوں نہ لتھڑے ہوں۔ جناب وزیراعظم تواتر کے ساتھ ”این آر او“ نہیں دونگا یا ”احتساب کا عمل نہیں رُکے گا“ کی گردان کرتے رہتے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور انکی ہمشیرہ فریال تالپور صاحبہ, سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزاری مریم نواز صاحبہ اور دونوں پارٹیوں کے متعدد راہنما آجکل نیب کے زیر عتاب ہیں۔ لیکن وزیراعظم کے بیانات ہوں یا دیگر حکومتی شخصیات بشمول شیخ رشید کے پریس کو دٸے گئے انٹرویو کو سننے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ نیب کی کاروائیوں کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے۔ شیخ رشید جو ریلوے کے وزیر ہیں کچھ عرصہ پہلے ارشاد فرمارہے تھے کہ عید کے بعد نیب ٹارزن بنے گا اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین کی پکڑ دھکڑ شروع کریگا۔ کیا کوٸی صحافی شیخ صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہے کہ حضور کیا آپ نیب کے ترجمان ہیں یا نجومی ہیں؟ جو نیب کی مستقبل میں کی جانے والی کاروائیوں کا علم رکھتے ہیں۔ لیکن ہوا کیا نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو شراب کا لائسنس جاری کرنے کی سمری منظور کرنے کے کیس میں تفتیش کے لٸے طلب کیا اور اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گٸی۔
ایک درویش قسم کے صحافی نے دودن پہلے اپنے ایک کالم میں انکشاف فرمایا کہ یہ بات طے کرلی گٸ یے کہ شریف خاندان اور آصف زرداری کے کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے کافیصلہ ہوچکا۔ یاد رہے پچھلے دنوں وزیراعظم نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوٸے فرمایا کہ انکے دو سالہ دور حکومت میں کوٸی میگا کرپشن سکینڈل سامنے نہیں آیا ۔ان کے اس بیان پر ان کے مخالفین دانتوں میں انگلیاں دباٸے بیٹھے ہیں اور مجھ ناچیز سمیت سب اس سوچ میں گم ہیں کہ تبدیلی سرکار کے دور میں ادویات, گندم اور چینی کے جو بڑے بڑے سکینڈل سامنے آٸے اور جن کیوجہ سے قوم مہنگاٸی کا عذاب جھیل رہی ہے، کیا وہ کرپشن کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان سکینڈل میں ان شخصیات کے نام آٸے ہیں جو عمران خان کے ذاتی دوست ہیں اور ان میں سے ایک جہانگیرترین ہیں جو اس وقت بیرون ملک آرام فرما رہے ہیں۔ جہانگیر ترین جو وزیراعظم کے سب سے زیادہ قریب سمجھے جاتے تھے نے وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے حکومتوں کے قیام کے لٸے بڑی محنت کی اور ارکین قومی اور صوباٸی اسمبلی کوجو آزاد حیثیت میں منتخب ہوٸےتھے کو اپنے جہاز میں بھر بھر کر لاتے اور عمران خان کی جھولی میں ڈالتے رہے. بعض نقاد یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم کےذاتی اور پارٹی کے اخراجات موصوف اٹھاتے رہے ہیں لہٰذا چینی سکینڈل کے ذریعے انہوں نے اپنی رقم بمعہ سود وصول کرلی ہے۔

میاں نوازشریف جو ایک ریفرنس میں سزا پاچکے تھے اپنی بیماری کیوجہ سے میڈیکل بورڈ کی سفارش پر علاج کے لٸے لندن چلے گئے لیکن حالیہ دنوں میں ان کے سیاست میں متحرک ہونے کی وجہ سے حکومتی حلقے بوکھلاہٹ کا شکار دکھاٸی دیتے ہیں اور ان کو واپس لانے کے دعوے کررہے ہیں۔ کاش حکومت جہانگیرترین جن کیوجہ سے چینی اور گندم کا شدید بحران پیدا ہوا کے بارے میں ایسے ہی اقدامات اٹھاتی۔
ملک اس وقت گندم کے بحران کا شکار ہوتا دکھاٸی دے رہا ہے اور آٹے کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گٸ ہیں، جس کی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے جس کے پیچھے مافیاز کے وہ بیوپاری ہیں جن کے اپنے کاروباری مفادات ہوتے ہیں۔ اس کےعلاوہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بڑی مقدار میں گندم افغانستان سمگل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں آٹے کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھی بجاٸے ان مافیاز اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کو پکڑتے اور عوام کو مہنگاٸی سے نجات دلاتے وہ اپوزیشن راہنماٶں کو ٹارگٹ بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں، جو بری طرز حکمرانی کا مظہر ہے۔ جب نوازشریف اور آصف زرداری سیاست میں متحرک ہوتے ہیں تو حکومتی ٹیم کرپشن کرپشن کھیلنے لگتی ھے اور دونوں راہنماٶں کی کردارکشی شروع کردی جاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن راہنماٶں کو کرپشن کے کیسز میں ملوث کرنے کا کھیل کٸی سالوں سے کھیلا جارہا ہے، لیکن ملکی وسائل کے بے دریغ استمال کے باوجود آج تک کسی سیاستدان پر کرپشن کا کوٸی کیس ثابت نہ ہوسکا، نہ آئیندہ ہوسکے گا۔

سابق صدر غلام اسحاق کے دور میں جب نواز شریف وزیراعظم تھے، آصف علی زرداری پر کرپشن کے درجن سے زاہد کیسز بناٸےگئے لیکن اس کا کیا نتیجہ نکلا وہ تمام کیسز سے سرخرو ہوکر نکلے۔ اب بھی ان پر منی لانڈرنگ کے علاوہ جعلی اکاٶنٹس بنانے کے کیس چل رہے ہیں جس کو بنیاد بنا کر حکومتی مشینری ان کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہے لیکن کچھ مبصرین کے مطابق حکومت جب کسی مشکل کا شکار ہوتی ہے، تو وہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لٸے اپوزیشن کی طرف اپنی توپوں کا رخ کردیتی ہے۔ جناب وزیراعظم تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچے ہیں اور انہوں نے کروڑ نوکریوں دینے کا وعدہ کرتے ہوٸے، نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملایا تھا لیکن افسوس کہ اب وہ اپنے وعدے سے ہٹ گئے ہیں اور اپنےنادان مشیروں اور دوستوں کے کے علاوہ چند لالچی صحافیوں کے مشوروں پر عمل کرتےدکھاٸی دیتے ہیں۔ وزیراعظم کو اس بات کا احساس کرنا چاہٸے کہ ان لوگوں کے اپنے ذاتی مفادات ہوتے ہیں جن کے حصول کے لٸے وہ سازشوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ جناب وزیراعظم کو اس وقت دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہٸے اور ملکی مفاد اور عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوٸے تمام درپیش مساہل سے نمٹنے کی کوشش کرنی چاہٸے۔ ان کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہٸے کہ اقتدار ساری عمر ان کی جھولی میں نہیں رہنا اور وہ جب وہ اقتدار سے باہر ہوں گےتو انکو بھی زیرعتاب ہونا پڑے گا، یا شاہد ان کے ساتھ سب سے براسلوک بھی ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم کو چاہٸے کہ وہ تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوٸے قومی معاملات میں اپوزیشن کو ساتھ ملاہیں تاکہ ملک کو گرداب سے نکالا جاسکے۔
ان کو اس بات کا ادراک بھی ہونا چاہٸے جب ایک سیاستدان دوسرے سیاستدان پر کیچڑ اچھالتا ہے تو بدنامی صرف سیاستدانوں کے حصے میں ہی آتی ہے اور اس لڑاٸی میں ہمیشہ تیسرا فریق فاہدہ اٹھاتا رہا ہے اور اٹھاتا رہے گا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے