جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

کرونا نے ثابت کر دیا کہ مرد اور خواتین دو مختلف سیاروں سے ہیں

رپورٹ : میتھیو نارمن

اگر وہ کتاب جس میں لکھا ہے کہ مردوں کا تعلق ایک سیارے سے ہے اور خواتین کا دوسرے سیارے سے، حقیقت پر مبنی ہے تو میرا یقین ہے کہ میں نے ایک نئی سنسنی خیز نفسیاتی حالت دریافت کی ہے۔ ویینا میں دنیا کا ایک مشہور اینسٹی ٹیوٹ جسے میں نے ابھی ابھی ایجاد کیا ہے کے مطابق وینس اینوی اس شدید حسد کو کہتے ہیں جو کووڈ 19 سے متاثرہ ممالک میں لوگ تب محسوس کر رہے ہیں جب وہ اپنے مرد لیڈران کا دوسری ملکوں میں خواتین لیڈران سے موازنہ کر رہے ہیں۔

کوڈ-19 کے حوالے سے کئی ممالک کا مختلف ردِعمل کئی سالوں تک طب کے ماہرین کے سروں پر سوار ہوگا۔ یہ قبل از وقت ہوگا کہ ایک عام تاثر پیدا ہو کہ کیوں کچھ ممالک ڈرامائی طور پر اس مرض کے ساتھ بہت بری طرح نبرد ازما ہوگئے۔ یہ شاید محض اتفاق ہو کہ جن دو ممالک نے اس دوران ایک مثالی رد عمل دیا وہاں خواتین کی حکمرانی تھی۔ اور دوسری طرف بحراوقیانوس کے آرپار کاروبار کرنے والے وہ دو ممالک جہاں شرح اموات سب سے زیادہ رہا، پیچھے رہ گئے۔ کوئی نہیں چاہے گا کہ ایک لمبے عرصے تک ان عدادوشمار سے ہی اندازہ لگاتا رہے جہاں یہ دو خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ لیکن ذرا غور کیجئے، ایک طرف انیگلا مرکل اور جیسنڈا آرڈرن کے کام کو دیکھو اور دوسری طرف انتہائی طاقت ور 10 ڈاؤننگ سٹریٹ (برطانیہ کے وزیر اعظم کا گھر) اور 1600 پنسلوینیا ایوینیو (وائٹ ہاوس)۔ جیسے ہی مرکل اور آ رڈرن نے اپنی معیشتیں دوبارہ کھول دیئے، ایسے لگا جیسے کسی جڑواں دیوہیکل نے پوری دنیا کے بحران کا موثر انتظام سنبھالا ہو۔

نیوزی لینڈ کے اعدادوشمار انتہائی حیران کن ہیں۔ دوسرے ممالک سے دوری اور اپنے سرحدات کو آسانی سے محفوظ کرنے کے بعد کسی پر بھی یہ دباؤ نہیں رہے گا کہ وہ بورس جانسن کی نقالی کرنے سے باز رہے اور کھل کر اپنی کامیابی کا اظہار کرے۔ سازگار ماحول کے مطابق ان کی کامیابی بھی عروج پر رہی۔ تقریباَ 50 لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں 1500 سے کم لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے (جہاں اکثریت اب روبہ صحت ہوچکی ہیں) اور 19 لوگ ہلاک ہوگئے۔ اگر اسی تعداد کو مدنظر رکھ کر برطانیہ کی آبادی پر لاگو کیا جائے تو وہاں 20 ہزار مریض اور 260 اموات سامنے آئینگے۔

البتہ یہاں کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ اموات کی اصل تعداد کتنی ہے۔ کیونکہ حکومت نے اعدادوشمار ہسپتالوں میں ہونے والے اموات تک محدود رکھا۔ لیکن لگتا ہے یہ تعداد دوگنی ہے اگر اس میں وہ لوگ شامل کیے جائیں جو اپنے گھر اور نرسنگ ہومز میں مرے ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ اس وائرس نے برطانیہ میں 50 ہزار کے قریب لوگوں کی جان لی ہے۔

اگر شرح اموات کو ہی کامیابی کا پیمانہ سمجھا جائے، بیشک یہ اعدادوشمار نیوزی لینڈ میں ہونے والے واقیعات سے سو گنا زیادہ ہو تو پھر نکامی کو بھی جانچنے کے لیے ہمیں کسی طاقتور نفسیاتی (دماغی) دوا کی ضرورت ہوگی۔ ایسا کچھ ہوگا، یا پھر ڈاکٹر ٹرمپ کی وہ معجزاتی بلیچ سے کام چلانا پڑیگا۔ اُس دن ڈاکٹر کی مکمل بریفنگ لینے کے باوجود جب ڈونلڈ ٹرمپ واپس روز گارڈن آگئے تو اپنے اُس جنونی دعوے کو پھر سے دہرایا کہ اس وقت پوری دنیا مدد اور رہنمائی کے لیے آمریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

جہاں تک بورس جانسن کا تعلق ہے تو انہوں نے بیماری سے واپسی کے بعد والی کچھ حد تک بہتر تقریر کو بھی اپنے مضحکہ خیز پروپیگنڈوں کے ذریع مزید حقیر بنایا۔ اگر اُس نے فضا میں کامیابی کی بو سونگھ لی ہے تو نہ تو اُس کی سونگھنے کی حس ٹھیک ہوگئی ہے اور نہ اُس کی صحت پوری طرح بحال ہوگئی ہے۔

انگیلا مرکل اور جیسنڈا آرڈرن کو جس چیز نے بورس جانسن اور ڈونلڈ ٹرمپ پر فوقیت دی ہے وہ اِن خواتین کی بولنے سے زیادہ سننے کی صلاحیت اور حقیقت سے منہ چھپانے کی بجائے اس کا سامنا کرنے پر مبنی ہے۔ جبکہ ایک طرف بورس جانسن اپنی توانائی محفوظ کیے بغیر اپنی کیبنٹ میٹنگز میں شرکت نہ کر سکے تو دوسری طرف صدر ٹرمپ نے اپنے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پیشن گوؤں کو اُن غلط معلومات پر قربان کیا جو اُن کے دوست فاکس ٹی وی پر بیٹھ کر انہیں زہریلی مواد کی طرح پلا رہے تھیں۔

مرکل نے ایک تربیت یافتہ سائنس دان کی طرح بہت قریب سے اس وبا میں دلچسپی لی، بہت تیزی کے ساتھ اس کی تشخیص اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے ذرائع استعمال  کیے۔

دوسری طرف، خلافِ روایت، ایک اینگلو- امریکی طرز کی کتاب کا پنہ پلٹاتے ہوئے جیسنڈا آرڈرن نے ایک سخت قسم کا لاک ڈؤون لاگو کیا، اس سے پہلے کہ یہ وائرس پھیل کر تباہی مچائے، ‘گو ہارڈ اینڈ گو اَرلی’ (شدت سے جاؤ اور جلدی جاؤ)، جیسے وہ خود اپنی حکمتِ عملی کے بارے میں بتاتی ہیں۔ اگر آپ نے یہی فقرہ ٹرمپ سے سنا ہو، تو آپ کو اسے بیلی بش ٹیپ (2005 میں ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹی وی میزبان بیلی بش کے درمیان خواتین کے بارے میں تضحیک آمیز ریکارڈنگ جو 2016 میں سامنے آئی) کی یاد تازہ کرکے لینا ہوگا، جیسے ‘گو سافٹ اینڈ گو لیٹ’ (نرمی سے جاؤ اور دیر سے جاؤ)، والا نقطہ نظر بحر اوقیانوس کے دونوں طرف (برطانیہ اور امریکہ) ہوگا اور لاشوں سئ بھرے باڈی بیگ ثبوت کے طور پر سامنے ہوں گے۔

جیسنڈا آردڑن ان مسافروں سے، جو کرونا وائرس کے لیے مختص اصول پر عمل نہیں کرتیں، کھل کر کہتی ہیں، ‘آپ کو نیوزی لینڈ میں آنے کی بالکل ضرورت نہیں۔’ اب جب بورس جانسن اپنی کامیابیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور صدر ٹرمپ اپنی دیوملائی کرداروں کے بارے میں تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، آرڈرن اور مرکل اُس اندھا دھند اعتماد کے خلاف احتیاط کر رہی ہیں جس سے اِن دونوں نے ایک طاعون مرض کی مانند جان چھڑائی تھی۔

اپنی استحقاق کی جانچ کرنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ باوجود اس کے کہ مجھے رگبی اینڈ پیلر (برا بنانے والا مشہور برطانیوی برانڈ) کی ایک ٹرینر کی ضرورت ہےــ لیکن پھر بھی میں ایک عورت نہیں ہوں۔ اس لیے اس سے میرا کوئی سروکار نہیں کہ اُس فطری برتری کے متعلق کوئی نتیجہ اخص کروں جس سے ادھی آبادی (نر یا مذکر) لطف اندوز ہو رہی ہو۔ اپنی استحقاق کو دوبارہ جانچنے کے بعد مجھے لگا کہ میں ایک درمیانے عمر کا مرد ہوں اور ممکنہ طور پر اتنا زیادہ تعلیم یافتہ بھی ہوں کہ اس تکبر اور تعزیت کے بارے میں کچھ کہوں جو انسانیت کی آدھی آبادی بنتی ہے۔

اب جب یہ خوف گزر چکا ہے تو میں تمام جمہوری دنیا کو نصیحت کروں گا کہ ایک اپاہج نظام اپنایا جائے جہاں اقوامِ عالم کے تمام لیڈران ڈرامائی طور پر خواتین رہنماؤں کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ (البتہ ایک بار پھر یہاں کسی خاص طرف اشارہ نہیں، کیونکہ  ہر ایک آرڈرن کے لیے ایک پریتی پٹیل (برطانیوی خاتون سیاستدان) بھی ہو سکتی ہیں اور ہر مرکل کے لیے درجنوں نیڈین ڈوریس (برطانوی خاتون سیاستدان) بھی۔

دوسری طرف ہمیں ڈاکٹر ٹرمپ کی کرونا وائرس کے حوالے سے متاثر کن اور فرمائشی علاج کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر ڈیٹال کا ایک سرنج کسی بیمارنظامِ تنفس کا بہترین علاج نہیں بھی ہے تویہ بےوقوفی ہوگی کہ اس بات کو رد کیا جا سکے کہ ایک شیر خوار مگر اقتدار کے بھوکے مرد کو ایک لازمی اسٹروجن (بلوغت والے ہارمون) کا ٹیکہ لگایا جائے۔

© The Independent

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیر داخلہ بلوچستان سینیٹر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

کوئٹہ کی عدالت نے بچی کے اغواء میں معاونت کے کیس میں سابق وزیر داخلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے