ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

کرائے کے دانشور بھرتی کرنے والوں کا المیہ | پروفیسر طاہر نعیم ملک

تحریر: پروفیسر طاہر نعیم ملک

میں ایک یونیورسٹی ٹیچر ہوں میں نے اپنا ضمیر چھوٹے موٹے مفادات کے آگے گروی رکھ دیا ہے میں بین الاقوامی سیاست پڑھاتا ہوں علم اجالا اور روشنی ہے مگر میری آنکھوں کے آگے جالا ہے میں مفادات کے پنجرے میں قید ہوں میں تحقیق ایک گریڈ سے دوسرے میں ترقی پانے کے لئے کرتا ہوں ایچ ای سی کی جنم دی ہوئی بے مقصد نام نہاد ریسرچ پیپر کی دوڑ میں شامل ہوں۔

جو طلبہ میرے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی تحقیق مشترکہ مصنف کے طور پر تحقیقی جریدوں میں شائع کروا کر اپنی تحقیقی کامیابی گردانتا ہوں۔
بھلا ہو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کا کہ جس میں پی ایچ ڈی ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لئے طلبہ کا اپنی تحقیق کو جریدوں میں شائع کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اب بیچارہ طالب علم کہاں سے یہ مضامین شائع کروائے گا۔ نہ اسی کی جان پہچان ہے اور نہ اثر و رسوخ لہذا وہ میرا نام بھی بطور مصنف شامل کرنے پر مجبور ہے۔ تحقیقی رسائل ان مضامین کو شائع کرنے کے عوض پیسے بھی لیتے ہیں جو طلبہ کو ہی ادا کرنے ہوتے ہیں کیونکہ ان مضامین کے شائع ہونے کے عوض ڈگری ملنے کی شرط طلبہ کے لیے ہے میرے لئے نہیں۔

ان تحقیقی جریدوں کے مدیر انجمن ستائش باہمی کے ممبران ہیں۔

میں دوسری یونیورسٹی کے دوستوں کے مضامین اپنی یونیورسٹی کے رسالے میں شائع کرتا ہوں تو وہ اپنی یونیورسٹی کے رسالے میں میرے مضامین شائع کرتے ہیں وہ مجھے دوسرے شہر میں ہونے والے کانفرنسوں میں بلاتے ہیں تو میں انہیں اپنی یونیورسٹی میں ہونے والی کانفرنس میں مدعو کرتا ہوں۔

جامعات میں تعلیمی معیار تنزلی کا شکار ہے۔ ہر حکومت اعلیٰ تعلیم کا بجٹ کم کرتی جا رہی ہے۔
جامعات ہر سال فیسوں میں بلا جواز اضافہ کیے جا رہی ہیں۔
غریب محنت کش طبقے پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔

ریاست نے عوام کو تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری سے منہ موڑ رکھا ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم میں غریب لوگوں کے لیے تعلیم کے ذریعے طبقاتی معاشی ترقی اب ایک ذریعہ نہیں رہی۔
یونیورسٹی میں طلبہ اپنے حقوق سے محروم ہیں انہیں یونیورسٹی میں ان سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں بھی رائے لینے کے بھی قابل نہیں سمجھا جاتا۔

ان کے حقوق پامال کر کے ہم انہیں اقبال کا شاہین بنانا چاہتے ہیں۔
مادی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانیت کی ڈوز بھی بڑھانے کے ہم خواہشمند ہیں۔
لیکن میرا ان باتوں سے کیا لینا دینا مجھے تو تنخواہ بروقت مل رہی ہے۔

میں دانشورانہ بددیانتی کا شکار ہوں اگر فوج کے زیر انتظام چلنے والی یونی ورسٹیوں میں لیکچر دینے جاتا ہوں تو انہیں خوش کرنے کے لئے ریاست کے بیانیہ کی نہ صرف تعریف کر کے اپنے جذبہ حب الوطنی کی ستائش کرواتا ہوں بلکہ ریاست کے اس بیانیہ کو مقدس بھی گردانتا ہوں اور جب غیر ملکی این جی او مجھے سیمینار میں بلاتے ہیں تو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پر پاکستان کے موقف پر غیر ملکی ایجنڈے کے تحت تنقید کرتا ہوں۔ اخر میں نے تحقیق کے لئے فارن فنڈنگ جو لینی ہے اور پھر یورپ امریکہ کے دورے بھی کرنے ہیں۔

میں سیاسیات بین الاقوامی سیاست کا پروفیسر ہوں لیکن میں پاکستان کے عوام کے لئے جمہوریت کے حق میں نہیں آئین کو ریاست کے لئے ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ سیاستدان کرپٹ ہیں اور فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کی وجہ سے ریاست قائم و دائم ہے۔

لہذا جمہوریت انسانی حقوق کی پامالی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی سربلندی بھاڑ میں گئی بھائی مجھے ریاست مخالف بیانیہ کا ساتھ نہیں دینا۔

کل تک میں جغرافیائی گہرائی افغانستان کی جنگ میں غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بننا اولین قومی مفاد میں گردانتا تھا اور آج ملک کے ہر مسئلہ کا حل سی پیک کے منصوبے کی کامیابی سے جڑا دیکھتا ہوں۔

کل دفاع پاکستان کونسل اور دیگر غیر ریاستی عناصر پاکستان کے دفاع کی ڈھال تھے اور ریاست کے دفاع کے لئے میں انہیں دفاع کی صف اول گردانتا تھا۔

تو آج مری رائے ہے کہ یہ غیر ریاستی عناصر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے ذریعے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر کے دنیا کی نظروں میں ناکام ریاست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

اگر میں کسی ٹی وی چینل پر بطور دفاعی تجزیہ کار مدعو کیا جاؤں تو میں پہلے پروگرام کے اینکر سے پوچھ لیتا ہوں کہ جس موضوع پر پروگرام ہونے جا رہا ہے اس پر حکومت کی حمایت کرنی ہے یا مخالفت۔

اور ان پروگراموں میں وقت نکال کر شرکت کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج کل ٹیوشن کا زمانہ تو رہا نہیں میرے یو ٹیوب چینل پر فالوورز کی تعداد بھی تو بڑھانی ہے کیونکہ ہر ماہ اس سے چند سو ڈالر آمدنی بھی تو حاصل ہوجاتی ہے۔

بشکریہ ہم سب

تعارف Tahir Malak

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے