اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

چھوٹی صنعتوں کی زبوں حالی اور برآمدات کا زوال | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسر عبدالشکور شاہ

برآمدات کا کاروبار دنیا کے قدیم ترین تجارتی طریقوں میں سے ایک ہے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں نے پوری دنیا میں اپنی اہمیت و افادیت کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں، مگر ہمارے ہاں جھنڈے اکھاڑے جارہے ہیں۔ ماضی میں بڑی صنعتوں کو ترجیح دیتے ہوئے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو نظر انداز کیا گیا۔دیو ہیکل صنعتوں کو کامیاب برآمدات کے جنات تصور کیا جا تا رہا جن میں سے زیادہ تر سیاستدانوں کی ملکیت ہیں۔ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان کرتے ہوئے اس تاثرکو تقویت دینے کی بھر پور کوشش کی گئی کہ بڑی صنعتیں ملکی معیشت کے اہداف حاصل کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ایشیاء کے تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک تائیوان، جاپان اور کوریا نے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو بنیاد بنا کر بازی پلٹ دی ہے۔ ماہرین معاشیات نے اپنی توجہ اس طرف مبذول کی اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچے کہ معیشت کو استحکام دینے کے لیے نچلی سطح پر صنعتوں کو مضبوط اور پائیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سمیڈا کے مطابق چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں پاکستان کی کل صنعتوں کا تقریبا 90% بنتی ہیں اور یہ صنعتیں 80% سے زیادہ غیر زرعی مزدوروں کو روزگار فراہم کیے ہوئے ہیں۔ گاؤں کا ان پڑھ بھی اتنی سی بات سمجھ سکتا ہے کہ 90% صنعتیں اہم ہیں یا 10%۔ اس ملک کو اللہ ہی چلا رہا ہے ورنہ بخدا ہم نے اس کو ختم اور دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں، ایشین ڈولپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق سالانہ جی ڈی پی میں 40% حصہ ادا کرتی ہیں۔ متذکرہ رپورٹ میں یہ حقیقت بھی آشکار کی گئی ہے کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں 30%ویلیو ایڈیڈ اور صنعتی علاقوں میں 80%روزگار فراہم کرنے کا زریعہ بھی ہیں۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں سے روگردانی نے نہ صرف ان صنعتوں کو تباہ کر دیا بلکہ ملکی معیشت کو بھی دیوالیہ بنا دیا۔ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری انٹرپرائزرز اتھارٹی (سمیڈا) کے مطابق ایسا صنعتی یونٹ جس میں 250 ملازم کام کرتے ہوں، انہیں 25 ملین تک سالانہ ادائیگی کی جاتی ہو اور اس کی سالانہ فروخت 250 ملین ہو اسے چھوٹی یا درمیانی صنعتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایس ایم ای بنک آف پاکستان کے مطابق، ایک انٹرپرائزر جسکے کل اثاثے 20 ملین ہو ں اسے چھوٹے درجے اور جس کے کل اثاثے 100 ملین ہوں اسے درمیانے درجے کی صنعت میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان سارے اثاثوں کا تخمینہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے لگایا جا تا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں پر توجہ دینا معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی اہمیت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی نئے طریقے یا مہارت کو اختیار کرنے میں انتہائی دقیانوسی سوچ کے حامل ہیں۔برآمدات کے شعبے کی تنزلی بھی اسی روش کا شاخسانہ ہے۔ ہم نے برآمدات میں استعمال ہونے والے نت نئے طریقوں کو اخیتار کرنے کے بجائے پرانے، رسمی اور روائیتی طور طریقے نہیں چھوڑے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری برآمدات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں سے روگردانی کر کے ہم برآمدات میں خطے کے دیگر ممالک سے کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔چند قابل بیان اقدامات کے علاوہ باقی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں سے متعلق عقلمندانہ اقدامات ملکی معاشی ڈھانچے میں جان ڈال دیں گے۔ برآمدات میں درپیش رکاوٹیں اور مشکلات نے برآمدات کی ترقی کو فل سٹاپ لگا رکھا ہے۔ برآمدات کے مسائل اور ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں اور مشکات کو حل کیے بغیر برآمدات میں اضافے کے خواب شیخ چلی کی خیالی دنیا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم آج تک بغیر تحقیق اور مناسب منصوبہ بندی کے محض مفروضوں پر کام کر تے آئے ہیں اور یہ ساری کوششیں بے سود ثابت ہو چکی ہیں۔ ہم نے نہ صرف اپنی خامیوں کی نشاندہی کرنی ہے بلکہ ان کے تدارک کے لیے اقدامات بھی کرنے ہیں۔ ہمارا میڈیا بھی اپنے پروگرامات میں برآمدات کو ان کی معاشی اہمیت و افادیت کے مطابق وقت نہیں دیتا تاکہ اس مسئلے کو زیر بحث لا کر اس کا کوئی پائیدار حل تلاش کیا جائے۔ اکنامکس عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔ جب تک ہم عام آدمی کو معاشیات کے بنیادی اصول اور اس کے طریقہ کار نہیں سمجھا پاتے تب تک ایک متحدہ قومی کاوش کی امید ناممکن ہے۔برآمدات کے محققین نے بنیادی طور پر چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے مسائل کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے اندرونی مسائل و مشکلات اور بیرونی مسائل و مشکلات۔ اندرونی مشکلات سے نپٹنا بیرونی مشکلات کی نسبت آسان ہے۔ بیرونی مشکلات میں غیر ملکی گاہکوں کی ترجیحات، پیچیدہ تجارتی طریقے اور بین الاقوامی ممالک کی جانب سے ٹیرف سیڈل اور ریگولیڑی امپورٹ کنڑول شامل ہیں۔ شدید مقابلے کی فضاء، زرمبادلہ کے نرخ اور ان میں اتار چڑھاؤ اور بین لاقوامی تجارت کے لیے نوٹوں کی دستیابی میں قلت کے مسائل قابل ذکر ہیں۔ یہ سارے مسائل صنعتوں کی برآمدات کی مارکیٹ میں شامل ہیں جن کے ساتھ میکرو ماحولیاتی مسائل بھی شامل ہو جا تے ہیں۔ کم اور درمیانے درجے کی آمدن میں پائے جانے والے موجودہ تضاد میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا ہم کردار ہے۔ پاکستان میں کم آمدنی والی صنعتوں کو کسی نہ کسی طرح درمیانے درجے کی صنعتوں تک لانا ہو گا تاکہ برآمدات کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ برآمدات کی اندرونی مشکلات نے برآمدات کی صنعت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اندونی مشکلات میں فنکشنل، مارکیٹنگ، توانائی اور ماحولیاتی عوامل قابل ذکر ہیں۔ توانائی کے مسائل نے پیداوار کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ کر دیا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ، بجلی کی اور بلنگ، گیس اور دیگر مسائل نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

ایسی ہیجانی کیفیت میں برآمدات کی صنعت اپنے آرڈرز پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پراڈکٹس کو کوہ قاف کی پہاڑی سے چپکا دیا ہے۔ موحولیاتی عوامل میں سماجی، معاشی، سیاسی اور تکنیکی مشکلات قابل ذکر ہیں۔ لڑکھڑائی معیشت، ڈگمگاتی کرنسی اور حکومتی عدم دلچسپی نے برآمدات کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے انویسٹرز برآمدات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔ہماری برآمدات کے سخت اور غیر منطقی اصول و ضوابط اور ہمارا دفتری نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو حاصل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔سرمایہ کار برآمدات کے شعبے میں کوئی کنڑیکٹ کرنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ ان سب مسائل کے ساتھ ہمارے سماجی، ثقافتی پہلو بھی برآمدات کی کمی کا باعث بنتے ہیں۔ مقامی تجارتی طریقے، زبانی رکاوٹیں، ثقافتی عدم موافقت نے بھی برآمدات کو شدید زوال کا شکار کر رکھا ہے۔ پروڈکشن سے متعلقہ مسائل، اس کی قیمت، اس کی تقسیم اور تشہیر، نئی پراڈکٹ کی غیر ملکی گاہکوں کے معیار کے مطابق تیاری، اس کے ڈیزائن اور سٹائلز پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی برآمدات کو عالمی سطح کے معیار کے مطابق لانے میں کامیاب ہو سکیں۔ برآمدات کی کوالٹی، ان کی پیکنگ، ان پر لیبل لگانا اور ان پر تکنیکی اور سیلز کی خدمات کا اندراج بھی انتہائی اہم پہلو ہے۔ قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ، گارنٹی کارڑ کی عدم فراہمی یا دستیابی،کریڈیٹ کارڈ عدم سہولیات بھی ہماری برآمدات کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بروقت آرڈر کی عدم دستیابی،بروقت ترسیل، گوداموں کی کمی یا عدم دستیابی، بین الاقوامی سطح پر غیر موزوں پریزنٹیشن اور پراڈکٹ کی محدود فراہمی بھی برآمدات کے لیے درد سر بنی ہوئیں ہیں۔ ایڈجسمنٹ کی کمی کی وجہ سے سرمایہ کار برآمدات کے شعبے سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ہمیں برآمدات کو بچانے اور انہیں ترقی دینے کے لیے بروقت اور عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ برآمدات کے شعبے میں سست اور دیر سے ادائیگیوں کے مسائل کو بھی زیر غور لانا ہو گا اور برآمدات کے شعبے سے منسلک افراد کے لیے تربیت اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا ہو گا تا کہ وہ غیر ملکی گاہکوں کو بہتر انداز میں قائل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا نقطہ نظر مثبت انداز میں سمجھا سکیں۔ ہم سب نے ملکر بطور قوم اس ملک کی برآمدات کو سہارا دینے میں اپنا کردار ادا کر نا ہے۔

مصنف سے رابطے کیلئے

03214756436

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے