اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

پی ڈی ایم کی موجودہ کارکردگی | غلام العارفین راجہ

تحریر: غلام العارفین راجہ

ایک بار پھر اپوزیشن جماعتیں محترک نظر آ رہی ہیں. یاد رہے گزشتہ سال بھی اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں کراچی سے اسلام آباد مارچ کیا تھا مگر پی پی سندھ میں نظر آئی جبکہ پنجاب میں کہی کہی ن لیگ نظر آئی مگر جب مارچ نے دھرنے کی شکل اختیار کی تو پھر صرف جمعیت علماء اسلام(ف) تنہا ہو گئی. پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسٹیج پر آتے خطاب کرتے اور گھر کا راستہ لیتے مگر شرکاء میں دور دور تک پی پی اور ن لیگ کا پرچم نظر نہ آیا. گزشتہ سال اپوزیشن جارحانہ انداز میں کھیلنا چاہتی نہیں تھی مولانا اکیلے ہی سب کو للکارتے رہے مگر اس مرتبہ اپوزیشن بالخصوص لیگی رہنما اور لیگی قائد نواز شریف کافی محترک اور جارحانہ انداز میں بیانات دے رہے ہیں. لیکن پیپلزپارٹی اس مرتبہ بھی مفاہمت کی سیاست کرنے کے ارادے رکھتی ہے.

البتہ اس مرتبہ متحدہ اپوزیشن نے الائنس بنا دیا گیا ہے جس کا نام پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ رکھا گیا ہے اس الائنس کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کو ہی دی گئی ہے. مطالبات تقریباً گزشتہ برس والے ہی ہیں. یہ بات تو واضح ہے جلسے جلوسوں سے حکومت گرانا ناممکن ہے بالخصوص پاکستانی سیاست میں ماضی میں کئی مثالیں موجود ہیں البتہ حکومت کے لئے پریشانی اور مشکلات کافی پیدا ہو جاتی ہیں. خیر یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن اپوزیشن کو حکومت کے خلاف تحریکیں چلانے کا جمہوری حق ہے لیکن اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی سندھ میں کئی سالوں سے حکومت کر رہی ہے سندھ کی حالت زار دیکھ کر رونا آتا ہے جہاں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے جہاں سرکاری سکولز موجود ہیں وہاں کہی ٹیچرز کی کمی ہے تو کہی پر علاقے کے وڈیرے نے قبضہ کر رکھا اور کہی پر فرنیچر ہی نہیں ہے. امتحانات میں نقل سرعام ہوتی ہے. میڈیکل سہولیات کی بات کریں تو صورتحال یہ ہے کہ اگر کتا کاٹ جائے تو اس کے علاج کے لئے ویکسین تک نہیں ملتی. کہی ہسپتال ہی نہیں ہے اور کہی ہے تو وہاں کے ڈاکٹرز وڈیرے اور جاگیردار بنے ہوئے ہیں. تھر پارکر میں غذائی قلت سے بچے والدین کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں مگر سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور کراچی کی صورتحال بھی آپ کے سامنے ہی ہے. لیکن کبھی ن لیگ نے ان سے نہیں پوچھا کہ آپ نے اپنے صوبے میں کیا اقدامات کئے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں نا جہاں مفادات ذاتی ہوں تو پھر عوام کی بات صرف نعروں تک ہی کی جاتی ہے. سندھ کی عوام کے ووٹ کو عزت کون دے گا؟ سندھ میں تو اپوزیشن اتحادی جماعت پی پی کی حکومت ہے جس نے صوبے کو تباہ و برباد کر دیا ہے. لاکھوں ووٹ حاصل کرنے کے بعد کیا ووٹ کو اس طرح عزت دی جاتی ہے؟ جمہوریت کے چیمپئن بننے کی ضرور کوشش کریں مگر عوام کو عزت و احترام دیے بغیر جمہوریت کی بات کرنا انتہائی غلط اقدام ہے. اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے مگر جہاں پر اپوزیشن جماعتیں اکثریت میں ہیں وہاں پر کونسے تیر مار لئے ہیں؟ حقیقت کو تسلیم کریں اور تھوڑا اپنی کارکردگی پر بھی توجہ دیں.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے