جمعہ , 23 اکتوبر 2020
ensdur

پی ڈی ایم کا شہرِ قائد میں بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ

حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن جماعتوں کا یہ دوسرا مشترکہ جلسہ باغ جناح میں جاری ہے۔

جلسے سے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جس طرح ان کا کراچی میں استقبال کیا گیا اس پر وہ کراچی کے عوام کی شکر گزار ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ گذشتہ روز اپنی تقریر میں اپنی شکست کا اعتراف کر رہے تھے۔ پی ڈی ایم کے ایک ہی جلسے سے ان کے اوسان خطا ہو گئے ہیں۔

ہم جانتے ہیں آپ دباؤ میں ہیں، وزیراعظم کی کرسی کی ہی کوئی لاج رکھ لی ہوتی۔ آپ کے ایک ایک لفظ سے خوف جھلک رہا تھا۔ عوام کی طاقت کا خوف عمران خان کے چہرے پر واضح تھا۔‘

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں ہے۔ نواز شریف تمہارا نام نہیں لے گا۔

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کے کارنامے گنواتی ہوں، معیشت پر خود کش حملہ آپ کا کارنامہ ہے، صنعتوں کو تباہ کرنا، معیشت کو تباہ کرنا، کاروبار تباہ کرنا آپ کا کارنامہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف دو جنگوں کی قیادت کی۔ دنیا بھر میں برہان وانی کا مقدمہ لڑا۔

’آپ نے تو مودی کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں، انڈیا کو سلامتی کونسل میں ووٹ دیا اور کلبھوشن کے لیے راتوں رات آرڈیننس لائے۔‘

مریم نواز نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن پر پابندی لگا دیں گے۔ مسلم لیگ ن پر پابندی کا کبھی سوچنا بھی نہ، یہ پاکستان مسلم لیگ ن ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔‘

’یہ جنرل پرویز مشرف کی بنائی گئی جماعت نہیں جس پر پابندی لگائی تو کوئی نہیں بولے گا۔

مسلم لیگ ن پر پابندی لگائی تو 22 کروڑ عوام پر بھی پابندی لگانا پڑے گی۔‘

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ سانحہ کارساز کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ مجھے دھماکوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ’عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے والے اداروں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے، عدلیہ پر دباؤ اور میڈیا پر تالا ہے۔‘

’حکمران اپنا کوئی بھی فرض پورا کرنے سے انکاری ہیں، ہم نے ملک میں عوام کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کی جنگ لڑنی ہے۔‘

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ’سندھ میں طوفان اٹھ رہا ہے، ہوش کرو، سندھ کے جزیروں پر قبضے کا آرڈیننس واپس لو۔‘

’یہ جزائر یہاں کے مچھیروں کے ہیں، ہم آپ کو ان جزائر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔‘

’اگر یہ آرڈیننس واپس نہیں لیا گیا تو سینیٹ میں اس کے خلاف قرار داد منظور کریں گے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں آئے، کسی اور کے ذریعے آئے ہیں۔ اس شخص کا غرور پاکستان کے عوام مٹی میں ملا دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آج بھی مخالف وہی طاقتیں ہیں جو غریب کا چولہا بند کرنا چاہتی ہیں، جو مخالف آوازیں بند کرنا چاہتی ہیں۔‘

’ہمیں آج پھر ان قوتوں کو شکست دینی ہے۔ ہمیں پارلیمان میں بھی لڑنا ہے، سڑکوں پر بھی لڑنا ہے اور جیلوں میں بھی۔‘

اس سے قبل جلسے سے جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما شاہ اویس نورانی، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، سرادر اختر مینگل اور جمعیت اہل حدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر خطاب کر چکے ہیں۔

جلسے میں شرکت کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شاہد خاقان عباسی، محمود اچکزئی، یوسف رضا گیلانی، میاں افتخار حسین، ڈاکٹر عبدالمالک، امیر حیدر ہوتی اور دیگر رہنما سٹیج پر موجود ہیں۔ 

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

پروفیسر ساجد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد حکومت کی آٹا، چینی، پیٹرول، جمہوریت اور ووٹ چوری کے خلاف اور اس کو روکنے کے لیے میدان میں آیا ہے اور عوام کی مدد سے اپنی مقصد میں کامیاب ہوگا۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ’پی ڈی ایم کا قیام ملک میں حقیقی جمہوریت اور سول بالادستی کا آغاز ہے۔‘

نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ان کے صوبے کا مسئلہ گولی سے حل نہیں ہوگا بلکہ بات چیت کریں اور مذاکرات کا جو سلسلہ گذشتہ حکومت نے شروع کیا تھا وہ بحال کریں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہمیں 70 برسوں سے غدار کہا جا رہا ہے، اس ملک میں فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے حقوق مانگتے ہیں اور انہیں ان کے حقوق دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کچھ دیر بعد خطاب کریں گے۔

کراچی میں ہونے والے جلسے کی میزبان سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے اور جلسے کے لیے مزار قائد سے متصل باغ جناح میں پنڈال سجایا گیا ہے۔

یہ جلسہ 18 اکتوبر 2007 کو کارساز میں پیش آنے والے واقعے کی تیرہویں برسی کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں 2011 میں موجودہ وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ آخری بار گذشتہ برس پاک سرزمین پارٹی کا جلسہ یہاں منعقد ہوا تھا۔

جلسے میں شرکت کے لیے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنما اتوار کو کراچی پہنچے تھے۔

مریم نواز ایئرپورٹ سے ایک ریلی کی صورت میں مزار قائد پہنچیں اور فاتحہ خوانی کی جبکہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور نجی ہسپتال میں ان کی خیریت دریافت کی۔

کراچی سے اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک کے مطابق مزار قائد پر مریم نواز کی آمد کے موقع پر سخت بدنظمی دیکھنے میں آئی۔

مزار قائد کی انتظامیہ نے صرف مریم نواز کی 6 گاڑیوں کو اندر آنے کی اجازت دی تاہم ان کے ہمراہ آنے والے کارکن بھی زبردستی مزار قائد میں داخل ہوگئے۔ 

اس دوران باہر جانے والے کارکن مزار قائد کے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ بحث و تکرار کرتے رہے۔

مریم نواز کا کراچی پہنچنے کے بعد کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے انہیں جو عزت، محبت اور شفقت دی اس پر وہ ساری زندگی کے لیے کراچی کے عوام سے جُڑ گئی ہیں۔

اس جلسے میں شرکت کے لیے اندرون سندھ سے بھی ریلیاں کراچی پہنچی ہیں۔

جلسہ گاہ کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پنڈال میں 50 ہزار کر سیاں لگائی گئی ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

’’غداری‘‘ کے پرچے اور عوام کا محسوس نہ ہونے والا درد | نصرت جاوید

عملی سیاست سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے چودھری انور عزیز محض ایک فرد نہیں تابدار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے