اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

پیپلزپارٹی کا پنجاب | احمد اعوان 

تحریر: احمد اعوان

سولہ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا شاندار جلسہ منعقد ہوا، بدترین ناقدین بھی تعریف پر مجبور ہو چکے ہیں اور خوشگوار اور دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری تمام تر سکیورٹی و دیگر خدشات کے باوجود لالہ موسیٰ سے ایک بہت بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے ایک گھنٹے کا سفر تقریباً آٹھ گھنٹے میں طے کر کے گوجرانوالہ کی جلسہ گاہ تک پہنچے، لالہ موسیٰ سے گوجرانوالہ تک چھ سات مقامات پر استقبالی کیمپوں میں موجود ہزاروں کے مجمعے سے خطاب بھی کیا جہاں موجود لوگوں کا جوش وخروش دیدنی تھا، وسطی پنجاب بلخصوص جی ٹی روڈ ایک طویل عرصے کے بعد جیے بھٹو کے نعروں سے گونجا، ذولفقار علی بھٹو کے نواسے اور بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کا فقید المثال استقبال کرنے کیلئے سڑکوں پر آنے والوں نے کا ہجوم چیخ چیخ کر یہ گواہی دے رہا تھا کہ اس خطہ میں آج بھی پیپلزپارٹی اپنے پورے دم خم کے ساتھ قائم ودائم ہے۔ اس بات کو بیان کرتے ہوئے اگر پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ اور جنرل سیکرٹری چوہدری منظور کی انتھک کاوشوں کا ذکر نا کیا جائے تو یہ بھی زیادتی ہو گی جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس فقید المثال استقبال کو ممکن بنایا۔

بلاول بھٹو زرداری کی جلسہ گاہ میں آمد کا منظر بھی کیا کمال تھا ایک طرف پیپلزپارٹی کے ترانے سپیکر پر نشر ہو رہے تھے تو دوسری طرف پنڈال میں موجود ہزاروں جیالے وزیراعظم بلاول کے نعرے بلند کر رہے تھے، بلاول نے اپنی تقریر کا آغاز ہی پیپلزپارٹی گوجرانوالہ کے خودسوزی کرنے والے جیالوں کی شہادتوں کے ذکر سے کیا اور ایک بار پھر اپنے چاہنے والے کارکنان کو یہ پیغام دیا کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں بھٹو خاندان اپنے پیارے اور قربانیاں دینے والے جانثاروں کو نہیں بھولتا، بلاول نے اپنی تقریر میں عوام کو درپیش مہنگائی اور بےروزگاری سمیت دیگر تمام مشکلات کا تفصیلاً ذکر کیا اور نااہل حکمرانوں کو خوب آئینہ دکھایا۔ کشمیر کے حوالے سے ایک بار پھر بلاول نے موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی قیمت پر بھی حکومت کو کشمیر کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔

اگر اس جلسہ کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نا ہو گا کہ جی ٹی روڈ کے اردگرد موجود پیپلزپارٹی کے ہزاروں چاہنے والوں نے شدت کے ساتھ نا صرف اپنے وجود کا احساس دلایا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ اگر دل لگا کر محنت کی جائے تو یہ علاقے ایک بار پھر سے پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ بن سکتے ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے