اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

پیپلزپارٹی اور پنجاب کی سیاست | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

پاکستان پیپلزپارٹی کو پنجاب کے اقتدار سے جبری بے دخل ہوئے تینتالیس سال ہو چلے ہیں۔ انیس سو ستتر کے بعد تین مرتبہ پیپلزپارٹی پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی لیکن بوجوہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں حکومت نہیں بنانے دی گئی۔ ضیا آمریت کے خاتمے کے بعد 1988 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی جسے پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے صرف چند آزاد اراکین کی حمایت کی ضرورت تھی لیکن تمام کے تمام آزاد اراکین کی حمایت آئی جے آئی کے پلڑے میں ڈال کر پیپلزپارٹی کو پنجاب میں حکومت بنانے سے روک دیا گیا۰ اس کے بعد 1993 کے انتخابات میں بھی پیپلزپارٹی ہی پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری لیکن اٹھارہ سیٹوں والے منظور وٹو وزیراعلی بن گیے اور پیپلزپارٹی کو ایک بڑے اتحادی کے طور پر صرف چند وزارتوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 میں ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی ایک دفعہ پھر پنجاب کی ایک بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی لیکن ن لیگ کے ساتھ اتحاد کی بنا پر پیپلزپارٹی کے حصے میں چند وزارتوں کے سوا کچھ نہ آ سکا۔

پنجاب میں پیپلزپارٹی کے زوال کی بہت ساری دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ سب سے اہم نظر آنے والی وجہ اسٹیبلشمنٹ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو مرضی ہو جائے پنجاب کا اقتدار پیپلزپارٹی کو نہیں دینا۔ اسی لیے 1977 کے بعد سے پنجاب کا اقتدار پیپلزپارٹی کے لیے شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا۔ پنجاب چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہوم گراونڈ کا درجہ رکھتا ہے اس لیے پیپلزپارٹی جیسی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کا پنجاب میں طاقتور ہونا اسٹیبلشمنٹ کو کسی صورت گوارہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پروپیگنڈہ اور الیکشن انجنئیرنگ سمیت ہر اُس ہتھکنڈے سے کام لیا گیا جس سے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں خصوصاً نقصان پہنچایا جا سکے۔

نظریاتی سیاسی جماعتوں پر بُرے بھلے وقت آتے رہتے ہیں خاص طور پر بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے تو راستہ اور بھی کٹھن ہوتا ہے کیونکہ ان کا مقابلہ بااختیار اور غاصب قوتوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے پاس طاقت اور وسائل ہوتے ہیں اور پروپیگنڈہ مشینری بھی۔ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں ان حالات کا سامنا کرتے ہوئے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دو دفعہ پیپلزپارٹی کی قیادت غیر فطری طور پر چھین لی گئی۔ ذرا اندازہ کریں کہ اگر ان حالات کا سامنا کسی دوسری سیاسی جماعت کو کرنا پڑے یا ان کی قیادت کو خدانخواستہ ہٹا دیا جائے تو ان کا کیا حال ہو گا۰ ان جماعتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ پیپلزپارٹی تو نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہے بلکہ اپنی موجودگی سے غیر جمہوری قوتوں کو ہمیشہ کی طرح کھٹک بھی رہی ہے۔

اگر ووٹ بینک اور سیٹوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلا تو پورا نہیں ہو سکتا لیکن چیرمین بلاول بھٹو زرداری کی مسلسل کوششوں سے پنجاب میں پیپلزپارٹی آہستہ آہستہ ایک دفعہ پھر اپنی قوت بحال کرنے کی پوزیشن میں آتی جا رہی ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو کے پنجاب میں ہونے والے جلسوں اور جلوسوں میں بی بی شہید کے عوامی اجتماعات کا رنگ نظر آنا شروع ہو گیا ہے۰ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے مایوس جیالے چیرمین بلاول بھٹو میں بی بی شہید کی جھلک دیکھ کر ایک دفعہ پھر متحرک ہو چکے ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ کی پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران چیرمین بلاول بھٹو کے جلوسوں میں بہت عرصہ بعد بہت بڑی تعداد میں عوام کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو نے پنجاب میں جہاں بھی جلسہ کیا یا جلوس نکالا عوام کی بہت بڑی تعداد نے بلاول بھٹو کو خوش آمدید کہا۰ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے پنجاب کے بہت سارے اضلاع میں اپنے ووٹ بینک کو بھی بہتر بنایا لیکن بوجوہ یہ ووٹ سیٹوں میں تبدیل نہ ہو سکے اور سب کو معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ سب سے پہلے تو پیپلزپارٹی کو پنجاب میں انتخابی مہم کے لیے فری ہینڈ نہیں دیا گیا اور چیرمین بلاول بھٹو کے قافلے کو سندھ اور پنجاب کی سرحد پر روک لیا گیا اور کافی بحث مباحثے اور کارکنوں کی طاقت کے زور پر چیرمین بلاول بھٹو کو پنجاب میں داخلے اور انتخابی مہم کی اجازت دی گئی۰ اگر پیپلزپارٹی کو پنجاب میں فری ہینڈ دیا جائے تو تمام تر کمزوریوں کے باوجود پیپلزپارٹی آج بھی پنجاب سے کافی بڑی تعداد میں سیٹیں حاصل کر سکتی ہے لیکن اگر پیپلزپارٹی والے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ جیسی عوام دوست شرارتیں کریں گے تو پھر لیاری اور لاڑکانہ سے بھی ہرایا جا سکتا ہے۔

پنجاب میں کھویا ہو شاندار ماضی دوبارہ حاصل کرنے کے لئے پیپلزپارٹی کو پنجاب کی تنظیم پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب جہاں تمام تر برے حالات کے باوجود پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک کسی حد تک موجود ہے جبکہ بہت سارا ووٹ ایسا ہے جو خاموش ہے یا تبدیلی کو پیارا ہو چکا ہے جس کو تھوڑی سی محنت سے واپس لایا جا سکتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی تنظیم نہایت ہی غیر فعال ہے۔ عہدیداروں کا کارکنوں سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پارٹی کے پلیٹ فارم سے کوئی عوامی تقریب ہوئے بھی عرصہ دراز ہو چلا ہے۰ جنوبی پنجاب میں بہت سے سیاسی خاندان جو پیپلزپارٹی کو چھوڑ چکے ہیں ان کے ساتھ بھی رابطے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سارے لوگ تبدیلی سے بیزار ہو کر دوسری پارٹیوں میں شرکت کے لیے پر تول رہے ہیں لیکن پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کی طرف سے اس معاملے میں بھی سارا بوجھ چیرمین بلاول بھٹو پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔

جنوبی پنجاب کے برعکس سنٹرل پنجاب کی تنظیم کافی فعال ہے۰ قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور احمد کافی حد تک کارکنوں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں اور تنظیمی اجلاسات بھی باقاعدگی سے ہوتے ہیں جبکہ عوامی رابطے میں بھی جنوبی پنجاب کی تنظیم سے بہت آگے ہیں۔ لیکن ان تمام تر کاوشوں کے باوجود سنٹرل پنجاب میں بھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے کیونکہ سنٹرل پنجاب ن لیگ کا بھی مضبوط گڑھ ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو بھی اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر پنجاب کو ٹائم دینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے بہت فائدہ بھی ہو رہا ہے لیکن پنجاب کی تنظیموں کو خود بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کارکنوں کے ساتھ رابطے کو مضبوط کرنے اور ناراض اور گھر بیٹھ جانے والے کارکن کو واپس لانے کی ضرورت ہے۰ اس کے ساتھ ساتھ تبدیلی سرکار سے بیزار ووٹ بینک کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ یہ بھی ایک سیاسی حقیقت ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک پی ٹی آئی کی طرف چلا گیا تھا۔ اگر پی ٹی آئی کی نااہلیت کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک متاثر ہوتا ہے جو کہ بہت بڑی تعداد میں ہو گا تو اس کا فائدہ بھی پیپلزپارٹی کو ہو گا اور پیپلزپارٹی کا پنجاب کا ووٹر لازمی طور پر واپس آئے گا۔

اب بات ہو جائے گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کی جس میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد میں شرکت اور لالہ موسی سے گوجرانوالہ تک چیرمین بلاول بھٹو کی ریلی کے جگہ جگہ فقید المثال استقبال نے ثابت کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے ختم کرنے کا دعوی کرنے والے غلطی پر ہیں اور چیرمین بلاول بھٹو کی آواز پنجاب کی عوام کے دل پر اثر کر رہی ہے۔

پیپلزپارٹی کو پنجاب سے ختم کر دینے کے خواب دیکھنے والوں کو پیپلزپارٹی کے جیالوں نے بلاول بھٹو زرداری کی میلوں لمبی ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر کے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ لالہ موسی سے گوجرانوالہ تک کی ریلی کی خاص بات عام عوام کا اپنی ٹرانسپورٹ پر جوق در جوق ریلی میں شرکت کرنا ہے۔ ایسے علاقوں میں جو مخالف جماعتوں کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں وہاں بھی چیرمین بلاول بھٹو زرداری کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں ایک نئے سورج کی طرح دوبارہ طلوع ہو چکی ھے اور بی بی کی شہادت کے بعد اُجڑ جانے والا میلہ دوبارہ سج چکا ہے، شہید رانی کے دور والی رونق بحال ہو چکی ہے اور پنجاب ایک دفعہ پھر چیرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے جھنڈے تلے متحد ہو رہا ہے۔ جیالے چارج ہو چکے ہیں، مشکل وقت گزر چکا ہے اور پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنے شاندار ماضی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو کا پیغام پنجاب کے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے۔ جو لوگ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے ختم کر چکے تھے ان کی برسوں کی محنت ایک دفعہ پھر ضائع ہوتی نظر آ رہی ہے۔

جی ٹی روڈ ن لیگ کا تو گڑھ ہے لیکن پیپلزپارٹی نے بھی گوجرانوالہ کے جلسہ میں بھرپور شرکت اور چیرمین بلاول بھٹو زرداری کی کامیاب ریلی سے میلہ لوٹ لیا ہے۔ اس بے مثال کامیابی پر پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب کی تمام تنظیم بجا طور پر مبارکباد کی مستحق ہے جبکہ خاص طور پر قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور احمد، سید حسن مرتضی، اسلم گل، ودود حسن ڈار، اعجاز سماں، آصف بشیر بھاگٹ، ندیم کائرہ، تنویر اشرف کائرہ، غلام محی الدین کائرہ، وزیر اعوان اور ان کے بے شمار ساتھی مبارکباد کے حقدار ہیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود بہت کم وقت میں پیپلزپارٹی کے ایک بے مثال پاور شو کا اہتمام کیا۰ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب سوشل میڈیا کی ٹیم بھی تمام وقت آن گراونڈ موجود رہی اور لمحہ بہ لمحہ ویڈیو کوریج اور تازہ ترین صورتحال سے سوشل میڈیا کو آگاہ کرتے رہے۔ اس کے لیے پنجاب سوشل میڈیا ٹیم کے انچارج عثمان اعوان اور انکے رفقا حسن گیلانی، راحت نقوی، ندیم انور، عزیزاللہ اور بہت سارے دیگر احباب خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

پی ڈی ایم کی تحریک کا نتیجہ جو بھی نکلے اس کے پہلے ہی جلسے سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کل بھی چاروں صوبوں کی زنجیر تھی آج بھی چاروں صوبوں کی زنجیر ہے۰ پنجاب میں بھی اچھا وقت دوبارہ آنے والا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تدبر اور فراست سے ساری اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے غیر جمہوری قوتوں اور غیر جمہوری نظام کے جو خلاف عظیم الشان تحریک برپا کر دی ہے اسی تحریک سے بیداری کی لہر پیدا ہو گی جو پیپلزپارٹی کے پنجاب میں احیا کا باعث بنے گی۔

Please follow at Twitter @gorayaaftab

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے