جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

پٹرول کا بحران، ذخیرہ اندوزی یا نا اہلی ؟ | عابد اقبال

تحریر: عابد اقبال
ملک عزیز پاکستان کو آئے روز نت نئے بحرانوں کا سامنا ہے، ویسے تو جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہی بحرانوں کی زد میں ہے اور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ پچھلے دو سالوں میں جب صادق و امین کے لقب والی حکومت سلیکٹ ھوئی تو عوام کو قوی اُمید تھی کہ اب ملک عزیز پاکستان سمیت عوام بھی بحرانوں کے بچھائے جانے والے جال سے نکل آئیں گے لیکن پچھلے دو سال میں تو عوام انتہائی کرب کی زندگی گذارنے پر مجبور ھو چکے۔ اگر اس حکومت اور وزیراعظم کی پچھلے دو سال کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ملک ایک ایسی کشتی کی طرح سمندر کی طوفانی لہروں میں ہچکولے کھا رہا جس میں نہ تو باد بان موجود ہے جو کے کسی ھوا کی مدد سے ہی اس کشتی کو کسی ساحل کیطرف لے جائے اور نہ ہی ملاح کو اتنی سمجھ کے وہ ہاتھ میں موجود چپؤوں کو چلا کر طوفان سے کشتی کو نکال سکے۔
خیر بات لمبی ھو جائے گی یہاں میرا مقصد چند حقائق کو پیش کرنا ہے کہ موجودہ پٹرول بحران کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
نومبر۔ 2016 میں پاکستان کی مطلوبہ پٹرولیم ذخیرہ کرنے کی استعداد کو بڑھانے کا پروجیکٹ شروع کیا گیا جسکا مقصد تھا کہ لازمی 20 دن سے ذیادہ کا پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ ملک میں موجود رہے۔ اس پروجیکٹ کے لئیے پاکستان سٹیٹ آئل (PSO) ، حیسکول پٹرولیم اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن کو منتخب کیا گیا۔ سال 2015 کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں پٹرولیم کی کھپت میں 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔ عمومی طور پر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 15 سے 17 دن کا ذخیرہ موجود رکھتی تھیں جو سڑکوں پر موجود ٹرانسپورٹ، ایوی ایشن اور مسلح افواج کی ضروریات کے لئیے تھی لیکن بہت سی ٹرانسپورٹ جب کمپریس نیچرل گیس نایاب ھونے اور نرخ مہنگے ھونے کیوجہ سے واپس پٹرول پر آئی تو ذخائر بڑھانے کی بھی ضرورت پیش آئی۔
پھر موجودہ بحرانی صورتحال میں حکومت کے غلط اور دیر سے فیصلوں نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔
جب ریفائنریز کو مطلوبہ معیار اور پٹرولیم مصنوعات کی ملک میں بلا تعطل ترسیل پہنچانے کے لئیے تیار کرنا تھا ایسے وقت میں (پارکو) پاک عرب ریفائنری کے مینیجنگ ڈائریکٹر طارق رضوی 13 سال کی مدت ملازمت جس میں انھیں متعدد بار توسیع دی گئی تھی موجود نہیں تھے اور حکومت انکی جگہ پر 14 شارٹ لسٹڈ امیدواروں کے انٹرویو کرنے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی بہت سے اداروں میں مینیجنگ ڈائیریکٹرز لگانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن بہت بری طرح سے ناکام رہی اور مانگے تانگے سے ادارے چلا رہی جس کی ایک مثال پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (PIA) کی ہے جس کے لئیے پاکستان ائیر فورس سے مدد لی گئی ہے لیکن وہ بھی ابھی عدالت میں کیس موجود۔
اسکے علاوہ ابھی تک آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ لمیٹڈ (OGDCL) ، پاکستان سٹیٹ آئل (PSO) اور (PMDC) کے ایم ڈیز ا پوائنٹ کر سکی ہے جبکہ درجن بھر اداروں کی سربراہی خالی پڑی ہے جو کے امور حکومت کے لئیے سخت نقصان دہ ہے۔
بات ھو رہی تھی پارکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے لئیے شارٹ لسٹ ان 14 اُمیدواروں کی جنھیں سادات حیدر کنسلٹنٹ فرم اور پٹرولیم ڈویژن نے منتخب کر کے آگے بھیجا اور پھر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب، مشیر وزیراعظم برائے پٹرولیم ندیم بابر، سیکرٹری پٹرولیم میاں اسد حیا الدین جو کے چئیرمین پارکو بورڈ بھی ہیں نے انٹرویو کئیے اور چار نام وزیر اعظم کو ارسال کئیے۔
۱۔ زوار حیدر :
جو کے پہلے پاکستان ریفائنری میں کام کرتے تھے اور کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھانے پر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) میں بھیج دئیے گئے۔ جو کے کسی بھی ریفائنری آپریٹر کے لئیے “مفادات کا تصادم” بھی ہے۔
۲- یعقوب ستار :
پاکستان سٹیٹ آئل کے سابق ملازم جن پر کرپشن کے کیسز موجود ہیں۔
۳- شاہد محمود خان:
یہ پارکو میں پہلے سے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہے اور انھیں مینیجنگ ڈائریکٹر کی اسامی پر ترقی دینے کے لئیے غور میں لایا نہیں گیا تھا۔
۴۔ احسن خان:
کینیڈا کے نیشنل ہیں اور شیل آئل کمپنی کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ یہ کائنات پروجیکٹ منیجمنٹ سلوشن نامی کمپنی کے تحت کنسلٹنسی فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں صرف ایک مرتبہ ایکژون کیمیکلز اب اینگرو کے لئیے کام کیا۔
اس تمام طریقہ کار سے ثابت ھو رہا کہ حکومت کو خود اپنی سمت کا تعین نہیں ہے اور بری طرح سے بکھری ھوئی ہے ایسے میں عوام کو کیسے ریلیف دے پائے گی؟
مئی 2020 کے وسط میں آئل ریفائنریز نے حکومت وقت کو متنبہ بھی کیا تھا کہ پاکستان سٹیٹ آئل کی جانب سے سستی درآمد اور مستقبل میں اسکی وجہ سے ھونے والے نقصان پر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کمی واقعہ ھو سکتی ہے۔
آئل ریفائنریز نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ مارچ اور اپریل میں تیل کی عالمی منڈیوں کو ہلا دینے والے لاک ڈاؤن کے بعد انہیں ذخیرہ کئیے گئے پٹرولیم ذخائر پر 31 ارب روپے مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ ظاہر ہے حکومت وقت نے اپنا یہ نقصان کسی نہ کسی طرح سے پورا کرنا تھا اور اسے پہلے پٹرول کی قیمت کم کر کے اور ذخیرہ اندوزی کے نام پر ملک سے پٹرولیم مصنوعات کو روک کر پورا کیا گیا جس سے عوام تک پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمتوں کا فائدہ نہیں پہنچ سکا اور بعد میں راتوں رات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں تا کے خسارہ سے بچا جا سکے۔
آئل ریفائنریز نے حکومت کو یہ بھی بتایا تھا کہ ملک میں کسی بھی ریفائنری کی سست روی یا شٹ ڈاؤن سے سنگین مضمرات ہوں گے جن میں مصنوعات کی قلت ، بندرگاہ کی رکاوٹیں اور درآمدی متبادل کی وجہ سے ملک کے قیمتی زرمبادلہ پر بھاری دباؤ بھی پڑسکتا ہے۔
ریفائنریز نے حکومت وقت کو ماہ جون میں پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کا بھی عندیہ دیا تھا، جب ایوان اقتدار کو اس تمام صورتحال کا ادراک پہلے سے تھا تو پھر یہ سارا کھیل کیوں کھیلا گیا ؟
کیا عوام کو بیوقوف بنانے کے لئیے یا عوام کی جیبوں پر مذید ڈاکوں کے لئیے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سارے کھیل کیوجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر کب پڑے گا اور حکومت اس بحران سے نپٹنے کے لئیے کونسا راستہ اختیار کرتی ہے۔
اب حکومت چینی اور آٹا بحرانوں کے ذمہ دار ذخیرہ اندوز ں کے خلاف کاروائی کی طرز پر آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو بھی ایک حد تک قربانی کا بکرا بنائے گی۔ جیسا کہ
تیل کی 6 کمپنیوں کو بقول حکومت جنہوں نے تیل بحران پیدا کرنے پر 40 ملین روپے جرمانہ عائد کیا تھا انھوں نے صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے سے 15 ارب روپے کا منافع کمایا ہے۔
یہ بھی سُنا جا رہا ہے کے ڈائریکٹر جنرل آئل نے آئل کمپنیز کے ساتھ میٹنگز کے منٹس بھی اپنی مرضی سے تبدیل کر دئیے ہیں تا کے مستقبل میں ھونے والی تحقیقات میں عوام کو باور کروایا جا سکے کہ سب غلطیاں اداروں میں اور عوام میں ہیں، حکومت تو دودھ کی دھلی صاف شفاف اور ایماندار ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے