پیر , 23 نومبر 2020
ensdur

پشاور ہائیکورٹ نے مشال قتل کیس کے مرکزی مجرم کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی

پشاور ہائیکورٹ نے مشال قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم عمران کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ ضمانت پر رہا دیگر مجرموں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے کیس میں باقی تمام اپیلیں خارج کر دی ہیں۔ حکومت اور مشال کے والد نے اپیلیں دائر کی تھیں جبکہ سزا یافتہ مجرموں نے بریت کیلئے اپیلیں دائر کی تھیں۔ خیال رہے کہ مشال خان کو 2017ء میں مردان یونیورسٹی میں ہجوم نے تشدد کرکے مار دیا تھا۔

تفصیل کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشال قتل کیس میں محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس عتیق شاہ نے یہ فیصلہ سنایا۔

عدالت نے کیس میں مرکزی مجرم عمران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالت نے 25 مجرموں جن کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے ملزموں کی تین سال کی سزا، عمر قید کی سزا پانے والے 7 مجرموں اور باقی ملزمان کی سزا کو بھی برقرار رکھا ہے۔ حکومت اور مشال کے والد نے اے ٹی سی فیصلوں کیخلاف اپیلیں دائر کی تھیں جبکہ کیس میں سزا یافتہ مجرموں نے بریت کیلئے اپیلیں دائر کی تھیں۔

مشال قتل کیس میں 61 ملزموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے مرکزی مجرم عمران کو سزائے موت سنائی تھی، 7 مجرموں کو 25،25 سال کی سزا جبکہ 25 مجرموں کو تین تین سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے 28 ملزمان کو بری کیا تھا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نعیم بخاری کو تین سال کے لیے چیئرمین پی ٹی وی تعینات کر دیا گیا

حکومت نے نعیم بخاری کو تین سال کے لیے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے