اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

پسمانده بلوچستان | یوسف بلوچ

تحریر: یوسف بلوچ

ایک دور دراز علاقہ،پسمانده علاقہ،دہشت گردی سے متاثر علاقہ،محروم علاقہ،انصاف سے دور بهاگتا علاقہ جسے لوگ بلوچستان کہتے ہیں،بلوچستان دنیا کی واحد خطہ ہے جہاں سونا،چاندی،تیل،گیس،تانبہ اور ایک سمندر سب کچھ  ہے مگر پهر بهی وه محروم ہے،پسمانده ہے،بلوچستان کے سمندر سے چائنہ تجارت کر رہا ہے،سونا بهی چین جاتا ہے،مگر ان سب کے باوجود بلوچستان ترقی سے محروم ہے بلوچستان میں تعلیمی نظام جوں کے تو ہے،صحت کا مسئلہ کافی سنگین ہے اور یہاں تک کے صاف پانی بهی بلوچستان میں میسر نہیں

سوئی گیس سے تو پورے پاکستان کے چولہے جلتے ہیں،ہر پاکستانی سوائے بلوچستان کے لوگ اسی ہی گیس سے مستفید ہیں جسے ہم سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے نام سے جانتے ہیں اس لیے کہ یہ بلوچستان کے دور افتاده ضلع ڈیره بگٹی کے علاقے سوئی سے نکلتے ہیں،مگر کیا آپکو یہ پتا ہے کہ سوئی کے باشندے اس گیس سے محروم ہیں،سوئی کے خواتین اپنے باورچی کے لیے دور دور تک لکڑی کے لیے جاتے ہیں تاکہ ان کے گهر میں کهانہ پکانے کی انتظام ہوجائے

اسی بلوچستان سے سندک اور ریکوڈک پروجیکٹس جیسی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے مگر باسیِ بلوجستان ان سے مستفید نہیں  ہیں،یہاں سے سونا،چاندی،تیل نکلنے کے بعد جاتے کہاں ہیں،پیسے کس کو ملتے ہیں؟،ان سوالات سے بلوچستان بلکل بهی نا واقف ہے

بلوچستان کو کون واقف کروائے گا؟،بلوچستان کے نوجوان تو تعلیم سے محروم ہیں،پسمانده بلوچستان کے نوجوان طلوعِ آفتاب سے غروب آفتاب  تک چرواہے بن کر بکریاں چراتے ہیں،کهیتوں میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں،خود کسان ہو کر کهیتی باڑی کرتے ہیں

۷ ستمبر ۲۰۲۰ میں پاکستان کے معروف صحافی اور اینکرپرسن حامد میر کا پروگرام تو سب نے دیکھ لیا ہوگا،اس پروگرام میں بلوچستان کے ضلع آواران سے جو رپورٹنگ ہوئی،دل نے خون کے آنسو بہائے،وہاں کے نوجوان لفظِ تعلیم کا مطلب تک نہیں جانتے،کسی نوجوان سے جب حامد میر نے پوچها آپ پڑهنا چاہتے ہیں تو اس نے مطمئن بهری لہجے سے کہا “ٹِک”،نہیں،کیونکہ انکی پرورش “ٹِک”سے ہوئی ہے،جب اس نے اس دنیا میں اپنے کهولے،تو محرومی ہی کی چادر چهائی ہوئی تهی،والد کهیتوں میں جاتا تها یا محنت مزدوری کرتا تها،والده اپنے گهر کا کام کاج کرتا تها،بهائی ابا کے ہاتھ بٹاتے تهے گاؤں میں نہ کوئی اسکول تها،تو اس ماحول کے نوجوان “ٹک”نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟

بلوچستان میں ایک اعداد و شمار کے مطابق ۱۱ ہزار اسکولوں میں چار دیواری نہیں ،۸ ہزار سے زائد اسکولوں میں صاف پانی نہیں اور ۷ ہزار ایسے اسکول بهی ہیں جہاں بیت اخلا تک نہیں،اس بیان سے اندازه لگا سکتا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کس دور سے گزر رہا ہے،بلوچستان کے ۲۶ ہزار اسکول تو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،تو کتنے اسکول میں سہولیات ہیں؟،اگر چہ ان اسکول میں طالبعلم ایک خواب لے کے پڑھ رہے ہیں،مستقبل میں قوم و ملک کا نام رو‌شن کرنا چاہتے ہیں یقیناً مستقبلِ پاکستان یہی نوجوان ہیں مگر کیا یہ پاکستان کے معماروں کے ساتھ زیادتی نہیں؟

پاکستان کا معاشی حب گوادر ہوگا گوادر سے مختلف میڈیا وفد  نے دوره کیا،جائزات لیے،گوادر کے مقامی نمائندوں بشمول ماہی گیروں سے بات ہوئی،کسی نے بهی سی پیک کیخلاف بات نہیں کی،معاشرے کا ہر فرد خوشحالی چاہتا ہے مگر آج تک گوادر کے مقامی ماہی گیر یہ سوچ رہے  ہیں کہ مستقبل میں ہمیں سی پیک  سے  حصہ ملے گا یہ نہیں،ترقیاتی منصوبوں کیوجہ سے ہمارے کشتیوں کی جگہ کو مسمار کر دیا جائے گا یا نہیں،مسمار کرنے کے بعد ہمیں متبادل جگہ ملے گا یا نہیں؟،گوادر کے ماہیگیر آج تک نہیں جانتے کہ سی پیک کیوجہ سے ان کا مستقبل کیسا رہے گا زریعہِ معاش متاثر ہوگا یا نہیں

جناب حامد میر نے جب وہاں کے ماہیگروں سے بات کی تو سب نے یہی جواب دیا کہ مچهلی نہیں ہے،اتنے بڑے سمندر جو بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں میں مچهلی جاتا ہے مگر آج وه مچهلی مکران تک میسر نہیں،اس کی سب سے بڑی  وجہ وه ٹرالر ہیں جو کراچی سے آتے ہیں،مچهلی پکڑتے ہیں خواه وه چهوٹے ہوں یا بڑے،انکی وجہ سے گوادر کے ماہیگروں کا زریعہِ معاش بری طرح متاثر ہے،گوادر کے ماہیگیر اور انتظامیہ آج تک یہ نہیں جانتے کہ یہ ٹرالر کس کے ہیں،روزانہ کتنے ٹرالر آتے ہیں،مچهلیاں کہاں ایکسپورٹ ہوتی ہیں؟،تو پهر کس کو پتا ہوگا کہ ٹرالر کس کے ہیں؟

۳۳ اضلاع اور ۷ ڈویژنز پر محیط صوبہ بلوچستان کی صرف میں نے تین ۴ اضلاع کی محرومیوں کی بات کی،ان چار اضلاع میں جو مسائل ہیں تو پهر سوچنے کی بات یہ ہے کہ باقی اضلاع کسطرح ہیں،وہاں کی محرومیاں کیا ہیں،یہ چار اضلاع سے نواب اکبر خان بگٹی ،ڈیره بگٹی سے وزیراعلی منتخب ہوئے،آواران سے عبدالقدوس بزنجو،تربت سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور گوادر چونکہ ایشیا میں ایک وسیع سمندر رکهتا ہے وہاں کی سمندر چین کے ساتھ منسلک ہے،گوادر میں(سی پیک کے شہر میں) جتنے مسائل ہیں،تو باقی بلوچستان کا حال کیا ہوگا،گوادر اور سی پیک کیوجہ سے پورے پاکستان نے ترقی کی مگر گوادر کے رہائشیوں کو آج تک  وه ترقی نہیں ملی جس کی امیدیں تهیں

بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی تو سب سے پہلے ان حکومتِ وقت پر جاتا ہے جو بلوچستان میں برسرِ اقتدار رہے،بلوچ قوم سے ووٹ لے کر وه متخب ہوئے مگر الیکشن کے بعد وه بلکل غائب ہو گئے،کوئی اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد کی سیر کرتا تهے،عوام بهوک و افلاس،بے روزگاری سے زندگی گزار رہی تهی اور وه اے سی روم میں بیٹھ کے عوام کے پیسے ہڑپ کرتے تهے،جسکی مثال آویزاں ہیں،اور تو اور مشیروں کے بنگلے میں اربوں روپے برآمد ہوتے تهے،سڑک چهاپ مشیر دیکهتے ہی دیکهتے ارب پتی بن گئے،پیسے کس نے دیا،کہاں سے آئے،کسی کی ہمت بهی نہیں ہوتی تهی کہ ان سے سوال کرے

بلوچستان کے وزیر بنو،سمجھ لو آپ دنیا کے امیر ترین  لوگوں میں سے ہو،بنگلے خریدو،جائیداد بناؤ،کمپنی کهولو،اپنے بچوں کو حصولِ علم کے لیے برطانیہ،امریکہ بهیج دو،جو مرضی کرنا ہے کر لو،پانچ سال تک،جب پانچ سال پورے ہونگے تو تم امریکہ میں رہائش کرو،بلوچستان کے سیاسی قائدین کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے،اس طرح تو بلوچستان پسمانده ہوگا ہی ہوگا جب وہاں کے نمائندے اپنے قوم کے پیسوں سے بزنس چلائیں،  بس ہر نمائندے کے اندر یہی سلوگن موجود ہے،”خود کو بناؤ،عوام گیا گهاس لینے

میڈیا بهی بلوچستان میں اتنی متحرک نہیں ہے کہ کہ وه بلوچستان کے مسائل پر آواز اٹهائے،آج تک پورے بلوچستان میں کویٹہ اور گوادر کو چهوڈ کے دیگر اضلاع میں رپورٹر تک نہیں ہیں  جو ہم دیکھ  رہے ہیں،پچهلے دنوں میر صاحب جب تربت آئے تهے تو تربت کے عوام کتنی خوش تهی،سوشل میڈیا میں  ہر  کوئی پوسٹ کرتا تها “ویلکم حامد میر”،میڈیا کا ہر نمائنده  اسی طرح بلوچستان میں آئیں،لوگوں کے مسائل سنیں،اگر مسائل حل ہوں یا نہ ہوں مگر پهر بهی وه خوش ہونگے،اس لیے کہ ایک صحافی ہمارے لیے اسلام آباد سے  آیا،یہی بلوچستان کے لیے کافی ہے،یہی ہمارے لیے کافی ہے

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے