ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

پرویز رشید کے بغیر ہماری سینٹ کیسی ہو گی؟ | خورشید ندیم

تحریر: خورشید ندیم

دل نے یہی سوال چند دن پہلے مشاہد اللہ خان کے بارے میں بھی اٹھایا۔ ایک مذہبی آدمی اس کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ یہ خدا کا فیصلہ ہے کس نے کب تک اس دنیا میں رہنا ہے۔ نظم حیات میں کوئی ناگزیر نہیں۔ بہت بڑے لوگ، اتنے بڑے کہ انسانی سوچ ان کا مقام طے کرنے سے معذور ہے، اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ یہ نظام مگر پھر بھی باقی ہے اور اس دن تک باقی رہے گا جب تک عالم کا پروردگار چاہے گا۔

پرویز رشید کا معاملہ دوسرا ہے۔ کسی الہامی فیصلے کے نتیجے میں سینٹ ان سے محروم نہیں ہوگی۔ پارلیمان کے معیار کا تمام تر انحصار ہمارے انتخاب پر ہے۔ سیاسی قائدین، جماعتیں اور عدالتوں فیصلہ دیتے ہیں۔ یہ ان کا حسن انتخاب ہے۔ اسی سے پارلیمان کا مقام طے ہو تا ہے۔ اسی پر اس ایوان کی کارکردگی کا انحصار ہے۔ پارلیمان تو ایک خالی برتن ہے۔ اس میں جو کچھ ڈالا جائے گا، وہی کچھ چھلکے گا۔

پرویز رشید کو سینٹ میں کیوں ہونا چاہیے؟ اس کے لیے پرویز رشید کو سمجھنا ضروری ہے۔ یا کم از کم یہ جاننا لازم ہے کہ انہوں نے سیاست کو کیا دیا؟ ان کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ میں ایک مذہبی آدمی ہوں اور وہ غیر مذہبی۔ میں ان سے مختلف تصور حیات رکھنے کے باوجود، کیوں یہ چاہتا ہوں کہ انہیں سینٹ میں ہو نا چاہیے؟ ہماری سیاست میں پرویز رشید جیسے اور کتنے ہیں؟

پہلی بات یہ ہے کہ وہ ایک نظریاتی آدمی ہیں۔ نظریاتی لوگ سماج اور ریاست کے بارے میں ایک خواب رکھتے اور اس کی تعبیر کے لیے سیاست میں آتے ہیں۔ پرویز رشید نے دور طالب علمی میں ایک خواب دیکھا اور اس کی تعبیر کے لیے جد و جہد کی۔ تعبیر کے لیے انہوں نے جس نظری ڈھانچے کو اختیار کیا، وہ اب متروک ہو چکا۔ خواب لیکن زندہ ہے اور یہ خواب اتنا قابل قدر ہے کہ صرف اسی کی بنیاد پر صاحب خواب سے محبت کی جا سکتی ہے۔ سیاست جب شخصی مفادات سے آلودہ ہو جائے تو ایسے لوگوں کی قدر بڑھ جانی چاہیے جو سماج کی بہتری کے لیے سیاست کا رخ کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ وہ ایک صاحب استقامت و عزیمت آدمی ہیں۔ انہوں نے خواب دیکھنے کی ایک قیمت ادا کی جو ہر کوئی نہیں دے سکتا۔ جیل، ریاستی جبر، حکومتی تشدد، کم ظرفوں کے ہاتھوں تذلیل۔ اس نظام کو چلانے والوں نے انہیں ذہنی امراض کے ہسپتال پہنچا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے صحت دی ورنہ اس بے رحم نظام نے تو ان کی شخصیت کو روند ڈالا تھا۔ اس معاملے میں ان کے مثل لوگ کم ہیں۔ ایک جاوید ہاشمی یا پھر شاید کوئی ایک آدھ اور۔ ہر دور میں ایسے کم ہی ہوتے ہیں لیکن سیاست کا بھرم ان ہی کے دم سے قائم رہتا ہے۔

وہ مسلم لیگ میں آئے تو اس کی سیاست پر اثر انداز ہوئے۔ نواز شریف جیسے سرمایہ دار کو جو پر تعیش زندگی گزارنے کے عادی تھے، ہم چند برسوں سے ایک نئے روپ میں دیکھ رہے ہیں۔ ایسا آدمی جو جبر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور اقتدار پر مصائب کو ترجیح دیتا ہے۔ اب سیاست کو حصول اقتدار کا واحد مقصد نہیں سمجھتا۔ جو اپنے اس ماضی سے اعلان برات کر نے کی جرات رکھتا ہے جو آمریت کے ساتھ گزرا۔ اس نئے نواز شریف کی تشکیل میں پرویز رشید کا بڑا حصہ ہے۔

یہ پرویز رشید کی قومی خدمت ہے کہ انہوں نے ایک ایسی جماعت کے خد و خال کو تبدیل کر نے میں بنیادی کر دار ادا کیا جو قائم ہی اقتدار کے لیے کی گئی تھی۔ نواز شریف نے مسلم لیگ کو عوامی بنایا اور نواز شریف کی نظری تشکیل نو میں پرویز رشید کا حصہ ہے۔ نواز شریف صاحب پر پہلے دور میں روایتی مذہبیت کا غلبہ تھا۔ وہ بھی شریعت بل جیسی نمائشی مذہبی سیاست کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب وہ مذہبی ہونے کے باوجود یہ جان گئے ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال کرنا ایک جرم ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ پرویزرشید نے مسلم لیگ کے برسر اقتدار ہونے کے باوجود، وزارتوں کے لیے اپنی عزت نفس کو داؤ پر نہیں لگایا۔ کسی نے وزیر بنایا تو بن گئے۔ وزارت چھوڑنے کو کہا تو چھوڑ دی۔ یہی نہیں، وزیر بن کر بھی ان کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ کبھی پروٹوکول کے اسیر نہیں رہے۔ ان کے اطوار میں کوئی تبدیلی آئی نہ لباس میں۔

پانچویں بات یہ کہ وزیر مشیر ہوتے ہوئے بھی، پیسے ٹکے کی سیاست نہیں کی۔ ان کے مزاج میں ایک درویشی اور بے نیازی ہے۔ ایک کوٹ کی موجودگی میں وہ دوسرے کوٹ کی ضرورت کم ہی محسوس کرتے ہیں۔ میری ان سے زیادہ ملاقاتیں نہیں، جو چند ایک ہیں، ان سے یہی تاثر لیا۔ بعد میں ان کے قریب رہنے والوں نے اس کی تصدیق کی۔ یہ خوبی بھی بس چند لوگوں میں تلاش کی جا سکتی ہے۔

پرویز رشید کی ان خوبیوں کے ذکر سے یہ مراد نہ لی جائے کہ ان میں کوئی کمزوری خامی نہیں۔ یقیناً ہوں گی۔ انسان معاشروں میں معصوم نہیں تلاش کیے جاتے کیونکہ یہ پائے نہیں جاتے۔ کہنا یہ ہے کہ موجود اہل سیاست میں ان خوبیوں کا اجتماع کم ہی ہوتا ہے۔ سینٹ اگر ایسے لوگوں سے محروم رہے گی تو یہ ایک حادثہ ہو گا۔ افسوس یہ ہے کہ اس کی

وجہ کوئی الہامی نہیں، انسانی فیصلہ ہے۔

پرویز رشید جن ’جرائم‘ کی وجہ سے سینٹ سے دور کر دیے گئے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی کے معاملات عطا الحق قاسمی صاحب جیسے ادیب، مقبول ترین ڈرامہ نگاروں میں سے ایک اور فنون لطیفہ کو راز شناس کو سونپ دیے تھے۔ گویا ٹی وی کا فنون لطیفہ سے کیا تعلق؟ پاکستان جیسے معاشرے میں ایسے جرائم قابل معافی نہیں۔ یہ جرم تادیر ان کا پیچھا کرتا رہے گا۔

سینٹ کا وقار سیاسی جماعتوں کی قیادت، اسمبلی کے اراکین اور ان کے ہاتھ میں ہے جو اس ادارے کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کی اہلیت اور نا اہلیت کا فیصلہ سناتے ہیں۔ پرویزرشید، رضا ربانی اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر کسی پارٹی کی طرف سے امیدوار ہوں، ان کا انتخاب بلا مقابلہ ہونا چاہیے کہ ان کا وجود سینٹ کے وقار کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اراکین قومی اسمبلی کے لیے تو یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ان کی جیت میں زمینی حقائق کو کردار ہوتا ہے جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سینٹ کا معاملہ مگر تمام تر سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے فیصلہ دینا ہے کہ کون اہل اور کون نا اہل ہے۔

ہمارے سیاسی ادارے ان لوگوں سے خالی ہوتے جا رہے ہیں، سیاست جن کے لیے پیشہ نہیں، ایک آدرش تھا۔ سیاست اگر ان ہاتھوں کو سونپ دی گئی جو اسے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے ایک پرزے کے طور پر دیکھتے ہیں تو عام آدمی کے مفادات کی نگہبانی کون کرے گا؟ جس طرح اشتراکیت نے سرمایہ داری کی ظلم کو کسی حد تک روکا، اسی طرح لازم ہے کہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ میں ایسے لوگ موجود رہیں جو کم وسائل کی نمائندگی کریں اور سرمایہ دارانہ معیشت میں عام آدمی کے حصے کا تحفظ کریں۔

پرویز رشید ایک عام آدمی کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے سیاست کو پیشے کے طور پر نہیں، ایک خواب کی تعبیر کے لیے اختیار کیا۔ ایک عام آدم کے طور پر، سینٹ میں ان کی موجودگی میرے لیے باعث اطمینان تھی۔ میں جانتا ہوں کہ ان کے پاس کروڑوں روپے نہیں ہیں کہ وہ اپنے زور پر سینٹ تک پہنچ پاتے۔ اگر ہوتے تو پنجاب ہاؤس کے بل بروقت چکا دیتے۔

ہم مشاہد اللہ کو یاد کرتے ہیں اور سینٹ میں ان کی کمی کا غم ہوتا ہے۔ وہ مگر ایک الہامی فیصلہ تھا۔ پرویزرشید سے محرومی انسانی فیصلہ ہے۔ یہ ہمارا فیصلہ ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے۔

بشکریہ ہم سب

تعارف Khursheed Nadeem

یہ بھی چیک کریں

یہ سب ’ع‘ کا چکر ہے! | رؤف کلاسرا

تحریر: رؤف کلاسرا کبھی سوچتا ہوں جمہوریت پاکستان‘ بھارت جیسے معاشروں کے لیے نہیں بنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے