اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

پاک فوج اور نواز شریف | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

ملک کا تین مرتبہ وزیراعظم بننے والا شخص——

پنجاب کا وزیر خزانہ——

اور پھر اسی صوبے کا وزیر اعلی بننے والا یہ شخص—-

نواز شریف پچھلے  کچھ عرصے سے میں نواز شریف کی تقاریر سن رہی ہوں ہر مرتبہ فوج کو نشانہ بنایا جاتا ہے مگر کل کے جلسے میں جس طرح کھل کر صاف الفاظ میں چیف آف آرمی سٹاف کا نام لے کر للکارا گیا تذلیل کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی اپنی کرپشن، چوری، پیسہ چھپانے کے لئے فوج کو ذلت کا نشانہ بنانا ہمارے سیاستدانوں کے ہاں رواج ہے. نواز شریف نے تو حد ہی کر دی  اپنی اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت کی رخصتی کا سہرا بھی جنرل باجوہ کے سر سجا دیا. اراکین اسمبلی خرید و فروخت کا الزام بھی جنرل باجوہ پر لگایا. اپنی نااہلی کے پیچھے بھی فوج کا ہاتھ ہے یہ بھی کہہ ڈالا. سیاسی ایوانوں میں فوج کو ذلت کا نشان بنانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے پہلے الطاف حسین کو دیکھ لیں جب بھی تقریر کرے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اس کی کمی تھی کہ ہیں ایک اور الطاف حسین مل گیا نواز شریف کی شکل میں پھر آصف علی زرداری اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی  دھمکی بھی اسی نے دی محسن داوڑ جو کہ فوج کے خلاف جماعت کا سربراہ بھی ہے محمود خان اچکزئی بھی ہم سب کے سامنے ان سب نے اپنی اپنی باری آنے پر فوج کو ڈٹ کر تنقید کا نشانہ بنایا. اگر ہم تاریخ پڑھیں تو نواز شریف نے فوج کا سہارا لے کر سیاست میں قدم رکھا. جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں جنرل ضیاء نے ہی وزیر خزانہ پنجاب بنایا پھر یہ ترقی کر کے وزیراعلی پنجاب بنے. پھر اسی فوج کی مدد وزیراعظم بنے. یہ پاکستان کا ہر فرد  جانتا ہے کہ جب جنرل ضیاء کا مارشل لاء کا دور تھا بینظیر بھٹو کے خلاف کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں تھی تو جنرل ضیاء نے نواز شریف کو پروان چڑھایا مگر کل کی تقریر  میں یہ ذکر نہیں کیا کاش نواز شریف تھوڑی سی بھی اخلاقی کرتے تو ایک دو جملے جنرل ضیاء الحق کے حق میں بھی بول دیتے. مگر نہیں یہ لوگ اقتدار میں آئیں تو سب اچھا اقتدار سے جائیں تو اپنے باپ کو ذلت کا نشانہ بناتے ہیں. 1991  میں نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے نتیجے میں وزیراعظم بنے اور یہ اتحاد فوج کا بنایا ہوا تھا 1993 میں اسی نواز شریف نے فوج کے خلاف سر اٹھانا چاہا تو مارشل لا لگا دیا گیا. 1993 میں  ہی الیکشن ہوئے مگر نواز شریف الیکشن ہار بیٹھے اس کی بڑی  وجہ کیا تھی فوج کے ساتھ اختلافات. خیر 1997میں دوسری بار نواز شریف وزیراعظم بنے اور اس وقت بھی فوج ان کے ساتھ تھی مگر یہ کیا 1999 میں کارگل جنگ ہوئی تو نواز شریف اور فوج میں سرد جنگ کا آغاز ہو گیا. حالات یہاں تک آ پہنچے کہ نواز شریف اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف کو معطل کرنے لگے تھے کہ فوج کا ڈنڈا حرکت میں آگیا. انسان کی فطرت ہے اسے جب بھی ترقی ملتی ہے تو مغرور ہو جاتا ہے یہی حال نواز شریف کا بھی ہے ترقی ملتی گءی مغرور ہوتے گئے. یہ تمام تاریخ میں نے  آج کیوں دھرائی ہے؟
اس لیے کہ نواز شریف صاحب جس ادارے کی تذلیل کرتے ہیں اسی کے بنائے ہوئے ہیں انہیں تمام آرمی چیفس سے مسئلہ رہا مگر یہ خود نہیں بدلے بلکہ فوج کو ہمیشہ ذلیل کا نشانہ بناتے رہے.
موصوف بھول گئے ہیں کہ اس فوج نے انتظامی امور پر بھی ان کی بھرپور مدد کی مگر یہ تو ہیں ہی احسان فراموش
ان کو حکومت دے دو، کرپشن پر واویلا نہ کرو، ان کے کیسس بند کر دو تو یہ اسی فوج کے گیت گائیں گے.
فوج کے سپہ سالار کو توسیع دینے کی بات ہو, فیٹف قوانین کی، بجٹ کی منظوری کی بات ہو یا اور کسی  حکومتی قرارداد کی  ان کی جماعت  سے سب سے  زیادہ ووٹ جاتے ہیں.  مگر یہ پھر بھی بیرون ملک اپنی بیماری کی آڑ میں فوج پر حملہ کررہے ہیں.
آپ ذرا پچھلے  تین دن کی خبروں پر نظر ڈالتے ہیں. شمالی وزیرستان میں کیپٹن سمیت پاک فوج کے 6 جوانوں نے اپنی جان کی قربانی دی.  دوسری جانب بلوچستان کے علاقے اوماڑہ میں ایف سی اہلکاروں نے وطن کی خاطرجان قربان دی شمالی  وزیرستان میں ہی 37 سالہ نائب صوبیدار شکیل آزاد جس نے اپنے بچوں کی پرواہ نہیں کی اور اپنی جان دے دی. انہوں نے جان کیوں دی؟ اس لیے کہ جس ملک میں کیلیے وہ جان دے رہے ہیں اسی ملک. کا سابق وزیراعظم ان کو تنقید کا نشانہ بناءے؟ لیکن دوسری طرف کل کے جلسے میں ان قیمتی جانوں کے آفسوس میں کسی نے ایک لفظ نہ بولا.
یہ کیوں افسوس کرتے ان کا بیٹا تو نہیں ہوا شہید. جس دن ان کا اپنا عزیز یا بیٹا شہید ہوگا اس دن یہ اصل اہمیت جانیں گے فوج کی اور فوجی جوانوں کی.
الٹا نواز شریف جیسا نا اہل، غدار، مفرور، اشتہاری، کرپٹ انسان فوج پر حملہ کرتا رہا. بین الاقوامی میڈیا کیوں خوش ہے؟ اس لیے کہ ان کے محبوب نواز شریف نے آج پاک  فوج کی عزت خراب کردی. میں یہ بات پہلے بھی کرتی آئی ہوں اور آگے بھی کروں گی کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے. فوج سیاست سے دور رہ کر ہی اپنی عزت کی حفاظت کر سکتی ہے ورنہ کل کو ہر کوئی فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر تابڑ توڑ حملہ کرے گا. پاکستان آرمی زندہ باد
پاکستان پایندہ باد
اللہ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے
اللہ ہمارے سیاستدانوں کو ہدایت نصیب فرمائے
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے