اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

پاکستان کے عوامی اور فوک فنکار شوکت علی | خواجہ طارق عسکری

تحریر: خواجہ طارق عسکری (ڈنمارک)

بیماری، تندرستی ہر شے اللہ کی طرف سے ہے اور خواہش و دُعا تو ہمیشہ تندرستی کی ئی ہونی چاہئے۔

2016 میں امریکہ جاتے ہوئے جہاز میں ھارٹ اٹیک ہوا تو جہاز کو دوبئی میں اُتار لیا گیا، جہاں فوری طور پہ ہسپتال میں داخل کیا گیا اور اللہ نے صحت سے نواز دیا۔ پھر اُسی زُور و شُور سے زندگی کی دُوڑ میں شامل ہو گئیے۔ لیکن اب کیا کیا جائے ایک عمر کا سوال اور پھر فنکار لوگوں کے دن رات کی مصروفیات مشکل ڈال دیتی ہیں۔ ہرا ایک فنکار کی زندگی اسی طرح ہے اور کچھ عمر کے آخری پڑاؤ پہ محنت اس لئے زیادہ کرنی پڑتی ہے کہ مقابلہ سخت اور آمدن کم۔ یورپ میں تو اسی لئے فنکاروں کو وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ وظائف دئیے جاتے ہیں کہ وہ اپنا آخری پڑاؤ آرام سے گزار سکیں۔ لیکن ہمارے پاکستان میں ہر قسم کا ادرارے مُوجود ہیں اور اکثران کے سربراہ ایسے لوگ مقرر کئے جاتے ہیں جو نااہل اور پارٹی باز ہوتے ہیں، وہ اپنے کام سے نہیں اپنے خاندان کو سنوارتے ہیں۔
اسی لئے ایسی خبریں آتی ہیں کہ فلاں فنکار فاقوں سے مر گیا اور فلاں کے علاج کی درخواستیں گزاری جاتی ہیں۔ ان نالائقوں دے کب جان چھوٹے گی۔

وہ ایک سلسلہ جو عالم لوہار ، بالی جٹی سے پہلے کا شروع ہوا اور عنایت حسین بھٹی، طفیل نیازی اور انکے دو ہونہار فرزند ، عاشق حسین جٹ اور انکے دو ہونہار فرزند اور اگر پٹھانے خان اور جمن خان کو بھی شامل کر لیں اور ان سے قبل بھگت برادران اور بدرُو مائی لیکن اُنکا موسیقی کا آنگ الگ تھا تو یہ پیڑی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ریشماں بلبل صحرا ایک ایسی خوبصورت آواز اور خود بھی حسین خاتون تھیں۔ مجھے اُن کی آواز بے حد پسند ہے۔ اتنی بلند اور پیاری نسوانی آواز کا انتظار ہے۔ ریشماں کے آہنگ میں کیس فنکاروں نے کوشش کی مگر دلی دُور است ۔ ایک ڈاکٹر خاتون معصومہ نے ریشماں کے کئی گیت گائے ہیں ، آواز اچھی ہے لیکن بہت بھاری ۔ ریشماں اُن فنکاروں میں سے ہے جس پر پوری ایک کتاب تحریر کی جا سکتی ہے ۔ صرف ایک واقعہ :-

ریشماں اپنے پروگرام کے سلسلے میں انڈیا گئی ہوئی تھیں۔ دلی میں ایک پروگرام تھا اور بتلایا گیا کہ تھوڑی دیر کے لئیے انڈیا کی وزیراعظم بھی سننے آئیں گی۔ اور جب اندارا گاندھی آئیں تو انہوں نے بڑے اچھے طریقے سے ریشماں سے ملاقات کی اور پروگرام شروع ہو گیا اور آبدار گاندھی مزے سے بیٹھی سنتی رہیں اُنکا سکریٹری کئی بار انہیں اگلی مصروفیت بتانی آیا لیکن اُنہوں نے بیٹھ کر آخر تک پروگرام سُنا۔

میں نے یہاں اُن فنکاروں کا ذکر کیا ہے جو فوک بھی گاتے ہیں اور صوفی میوزک بھی اور جو زیادہ تر فوت ہو چکے ہیں۔ اور جو زندہ ہیں اللہ اُن کو زندہ رکھے اُن کا ذکر یہاں نہیں کیا وہ پھر کبھی سہی ۔

لیکن ابھی ابھی اللہ کے فصل سے شوکت علی اور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی زندہ ہو یا اور دُعا ہے سلامت رہی ۔

ان سے قبل بھی بہت اعلی فنکار گزرے ہیں لیکن ان کی آوازیں بہت ہی کم محفوظ ہیں۔

آجکل عوامی فنکار شوکت علی کی بیماری کی خبریں آرہی ہیں۔ اللہ تعالی اُنکو صحت دے آمین ۔
انکے تمام عوامی لوگ جیت اپنی جگہ خوبصورت ہیں لیکن “ چھلا “ بہت خوبصورت گایا ہے اور یہیں عاشق حسین جٹ کا “ گھٹریا پار لنگا دے وے کا بھی کوئی جواب نہیں ۔

شوکت علی سے ویسے بھی میرا ایک قلبی لگاؤ ہے اور محفل موسیقی کے علاوہ میری دو تین ملاقاتیں بھی ہو چُکی ہیں ۔ شوکت علی کی پیدائش تو ملک وال کی ہے لیکن اُنکا بچپن ، تعلیم اور زندگی پنڈدادنخان میں گزری ہے۔ پنڈ دادن خان مجھے دو ایک بار جانے کا اتفاق ہوا اور دونوں بار شادیوں میں۔ چلیں یہ بات پھر کبھی سہی، میری پہلی ملاقات شوکت علی سے انکے گھر کرشن پورہ لاہور میں ہوئی۔ میں اُن دنوں لاہور میں تھا تو ہمارے ایک صحافی بزرگ دوست مجھے اُن کے ہاں لے گئے اور وہاں بہت سارےمہمان مُوجود تھے وہیں پہ پنجابی کے کہاں شخصیت اور جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے پنجابی پروگرام پنجند شروع کیا اور اپنی وفات تک کرتے رہے, دالدار پرویز بھٹی ، اُن سے ملاقات ہوئی اور مشہور مزاح نگار سے بھی۔

دوسری بار بھی لاہور میں ہی ملاقات ہوئی ۔ شوکت علی کے بچپن کے دوست اور مری عزیز بلکہ میری چھوٹی پھوپھو کے داماد برادرم یوسف کے کلاس فیلو اور ساتھی کے عزیز اور میرے ایک عزیز کی وفات پہ پُرسہ دینے آئے تھے ۔ کافی دیر ملاقات رہی اور بات چیت ہوتی رہی ۔ بڑے مخلص اور مزیدار انسان ہیں ۔

آخر میں حکومت سندھ کا شکریہ کہ اُنہوں نے ایک ایسی فنکار کو جو قومی سرمایہ ہے کو گمبٹ لے جاکر علاج شروع کرو دیا ہے ہے ۔ اس کے لئے سندھ حکومت کی انسان دوستی کو سلام , یہ تب ممکن ہوا کہ پاکستان کے نامور صحافی امتیاز عالم نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو معاملے سے باخبر کیا اور اور اُنہں نے اس کو ممکن بنایا –

و ہیں پہ یہ بھی سامنے لانا چاہوں گا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب کے متحرک وزیر اطلاعات کی بے حسی پہ افسوس سے زیادہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ پنجاب اور پاکستان کے عوامی فنکاروں کی آخری نشانیوں کے ساتھ اتنی سنگدلی کا رویہ ۔ باعث شرم ہے۔

ان کی صحت کے کئے دُعا کی درخواست ہے ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے