اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

 پاکستان کا یرقان زدہ نیوز میڈیا (آخری حصہ) | آئنہ سید

تحریر: آئنہ سید

اسی دوران  1999 میں  انڈین ائیر لائین کی ایک فلائیٹ  ہائی جیک کی گئی  اور اسکے  پاکستان میں لینڈنگ کے وا قعہ  کو بھا رتی نیوز چینلز نےبڑی شد و مد سے  اپنے مفاد میں کیش کیا ادھر ہمارے  ہاں پاکستانی سٹیٹ چنیل  کے ” ریاست نامے ” کو کوئی پاکستانی بھی سننے کو تیار نہ تھا لہذا” میرے عزیز ہم وطنوں ” کی صد ا  لگانے والے جتھے کو خیال آیا کہ اب ہمیں بھی پروپیگنڈا مشینوں کی سخت ضرورت ہے اس کے لیے 2002 سے ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت پرا ئیوٹ نیوز ، تفریحی اور موسیقی کے چینلز کو لائسنس دیئے گئے.

انکے لیے ایک  ریگو لیٹری  باڈی بھی بنائی گئی مگر وہ صرف “نام ” کی ریگولیٹری باڈی تھی, اسکے اصولوں ، قواعد  پر عمل پہلے پہل تونہ ہونے کے برابر تھا .مگرپچھلے تین چاربرس سے”پیمرا” نامی ادارہ چینلز کا”قبلہ درست” کرنےکےلیےاستعمال کیا جاتاہے. اسی ہلے میں FMریڈیو چینلز بھی شر و ع کیۓ گئےجن میں دس فیصد غیر ملکی content کا اصول لاگو ہونا تھا مگر حقیقت یہ رہی کہ 100 فیصد بھارتی گانے نشر کیۓ جاتے اور جب تک لوکل گلوکاروں کے البم آنا بند نہیں ہوگئے اور نیے گانے والے مایوس نہیں ہوگئے ان چینلز کو چلانے والوں نے اپنے  ایجنڈے  سے ہاتھ نہ اٹھا یا . یہی حال تفریحی چینلز کا رہا جہاں پیٹ بھر کر بھارتی ڈرامے ، فلمیں اور گانے دیکھاے جاتے جس سے پاکستان کی ڈرامہ ،فلم اور سانگ ویڈیوز کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی لیکن جن چینلز نے پاکستانیوں کو “ادھ مرا ” کر دیا ہے اور انہیں  مایوسی کی دھند میں بھٹکتا چھوڑ دیا ہے وہ ہیں ” پاکستانی نیوز چینلز ” !!

دنیا جہاں میں نیوز چینلز خبریں اور معلومات  فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں پر پاکستان کے نجی نیوز چینلز “خبریں سناتے نہیں خود بناتے ہیں “! اور پھر اپنی اس پیلی یرقان زدہ پیداوار کو بیچنے کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں  جو دنیا کے بازاروں میں ناپسندیدہ سمجھا جائے . ہر رات اینکرز اپنی دکان سجاتے ہیں اور جس طرح پیلے کالم کار اپنے کالموں میں جھوٹے الزام اور جمہوریت کا مذاق اڑانا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے اسی طرح ایک دو سچے اور کھرے صحافیوں کو چھوڑ کر یہ تمام  یرقان زدہ خواتین و حضرا ت تین یا چار مختلف سیاسی پارٹیوں  کے نمایندوں کو مدعو کرتے ہیں اور اپنی آگ لگاتی زبان سے کوئی ایسا نکتہ چھوڑ دیتے ہیں کہ ان مہمانوں میں گھمسان کا رن پڑ جائے  اس دوران  بڑی  بے شرمی سے ان مرغوں کو ایک دوسرے پر وار کرتے دیکھتے ہیں یعنی معاملہ سوال کا جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے شو کو کتے اور ریچھ کا اکھاڑہ بنا کر داد وصول کرنا ہے یا پھر کبھی کبھار کسی اکیلے مہمان کو دعوت دیتے ہیں اور اسکا پیمانہ یہ ہے کہ وہ خوب  جھوٹ بولنے  والا اور الزام لگانے  والا  ہو  تاکہ اسکے منہ سے

اپنی پسند کے جھوٹ نکال کر اپنا  کینہ اور اپنے چینل کے فرضی مالک اور ” اصلی ” مالک کو  خوش کیا جاسکے ہمیشہ کی طرح اس تمام دور میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ  تختہ مشق بنایا جاتا  رہا ہے.اس لئے بھی کہ چینلز کے اصلی مالکان کا وطیرہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور اس لیے بھی کہ اس پارٹی کی   قیادت اور ارکان کو پہلے سے خوب بدنام کر لیا گیا ہے ان پر الزام لگانا آسان ہے اور یہ واحد پارٹی ہے جس سے  کسی بڑے غنڈہ ریکشن کا کبھی بھی کوئی ڈر نہیں !  پاکستان کی دوسری سیاسی پارٹیاں اپنے خلاف خبروں پر ایڈیٹر کو “سجدے ” کروانے سے لے کر چینلز کے ہیڈ آفس پرحملہ کرنے اور صحافیوں کو زخمی ؤ قتل کرنے تک میں ملوث ہیں مگر ان سے اخبارات ، چینلز ، کالم نگاروں اور اینکرز کا رویہ نسبتا” بہتر ہے کیونکہ ” جان ؤ مال کس کو پیارا نہیں ہوتا

تو پھر سنسنی کیسے بیچی جاۓ ؟ اس سوال کا جواب ہے کہ “رضیہ ” ہے نا

پاکستان پیپلز پارٹی کی شکل میں ایک فل ٹائم رضیہ ہے جوفل ٹائم  پیلے غنڈوں میں پھنسی  رہتی ہے

ان غنڈوں کو اچانک سے ” موہنجو دڑو ” کی بربادی کا خیال آجاتا ہے جب وہاں سندھ کا ثقافتی میلہ لگے ، انکو تھر یاد آجاتا ہے جسکا محل وقوع اگر  20سال پہلے پوچھا جاتا تو یہ اینکرز / نیوز کاسٹر کندھے اچکا کر انکار کر دیتے لیکن تھر کی خوشقسمتی کہ یہ سندھ میں ہے اور اگر

سندھ کی “ سائیں سرکار” کی کھینچائی کرنی ہے توتھر زندہ باد لیکن اگر کراچی میں ناگہانی آفت سے لوگ مررہے ہوں تو نہ تھر کی بھوک پیاس کسی کو یاد ہے نہ وہاں کے معصوم بچے ، کیوں ؟؟

جناب ! اب کراچی جو بک رہا ہے   ……

کا قتل یا ماؤں کے جگر IDP’s ختونخواہ میں طوفانی بارشوں کی تباہی ہو یا زلزلے  جیسی قیامت  یا گوشے لاپتہ ہوں یا اجتماعی قبریں دریافت ہوں ، پاکستان میں خوآتین کے خلاف دس ہزار زیادتی کےکیسز میں آٹھ ہزار صرف صوبہ پنجاب میں ہوں تو کیا ؟  کرپشن  سے حکومتی وزیر مالا مال ہوں یا قصور کے سینکڑوں  بچے عمر بھر کے لیے برباد   ، مگر میڈیا کا ایجنڈا ہے صوبہ سندھ پر چڑھائی کیوں کہ یہ وہ “فتح ” ہے جو آپکو اشرافیہ کی  آنکھوں کا تارہ بنا سکتی ہے اور  میڈیا ہاؤس کو دن دگنی اوربہتانوں کے ٹوکرے اٹھا کر اسکرین پر بیٹھے “اینکر ” کو رات چوگنی شہرت اور دولت دے سکتی ہے

اس “سیمابی ” صفات کے حامل نجی نیوز میڈیا کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان جیسے رستے ناسور کے بارے میں یہ گونگا ، بہرا اور اندھا  بنا ہوا ہے . بلوچستان کے صحافی قتل بھی ہوجائیں مگر ان “نوکر پیشہ ” اینکرز نے انپر ایک لفظ تک نہیں کہنا ،  خضدار سے اجتماعی قبریں پاکستان کے چہرے پر لگنے والا وہ داغ ہے جو تاقیامت نہیں دھل سکتا مگر مجال ہے کہ کوئی کالم نگار ، کوئی نامور ” سینئیر تجزیہ کار ” اس معاملے پر لب کشائی کرے ! حامد میر پر حملے کے بعد یوں بھی نیلے  ، پیلے  صحافیوں کو خاموش رہنے کا ایک بہانہ مل گیا ہے مگر پھر عوام انکے بارے میں یہ راۓ رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ صحافی نہیں ” نوکری پیشہ”  افراد ہیں.

حق تو یہ تھا کہ ایسی تمام خبریں جوپاکستان کی بااختیاراشرا فیہ، عوام سے چھپاتی رہی پاکستانی  نیوز میڈیا کے توسط سے عوام تک  پہنچتیں  مگر ہمارے نیوز بلیٹین  تو  ایک دور میں  انڈین گانوں اور لطیفوں سے بھرے رہےاور   حال یہ رہا کہ  اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی ہو ، ریمنڈ ڈیوس کے قصاص و دیعت کا ڈرامہ  ، کراچی میں ایم کیو ایم کی  غیر سیاسی و سیاسی سر گرمیا ں ہوں  یا اگزیکٹ نامی جعلی  ڈگریاں بانٹنے والے ادارے کی صحافتی تفتیش کا معاملہ ……ہمیں ہر وہ خبر جو ہمارے وطن سے تعلق رکھتی ہے اور ایک دن میں نہیں بلکہ سال ہا سال سے کینسر کی صورت اداروں میں پنپ رہی ہوتی ہے، وہ خبر ہمیشہ “غیر ملکی خبر رساں ادارے ” سے ملتی ہے.

مزید افسوس یہ کہ جب بھی یہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دینے والی خبریں گھر پہنچتی ہیں تو “اماں کہتی ہیں ا رے ! میرا لال تو معصوم ہے کمبخت  محلے والے ہی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں”  یوں ملبہ سازشی عناصر ، غیر ملکی اداروں اور را ، موساد پر ڈال کر ہمارے اکثر اینکرز / تجزیہ کار اپنئی ڈیوٹی ادا کرتے اور لاکھوں جیب میں ڈال کر یہ جا وہ جا.

حقیقت یہ ہے کہ “ پیلا صحافی” محنت کرنا نہیں جانتا وہ نہ چھپی ہوئی خبر کھوجتا ہے اور نہ تفتیش اور فالو اپ کرتا ہے  اسکے لیے آسان کام ہے الزام  لگانا اور خاص طور پر کرپشن کا الزام لگانا تو فیشن بن گیا ہے کیونکہ گلی صاف کرنے والے خاکروب سے لے کر انصاف کرنے والے منصف تک سب پاکستانی کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کرپشن ضرور کر رہے  ہیں اور جو انسان دس روپیہ حرام کھاتا ہے اسی  کو یہ یقین ہوتا ہے کہ سامنے والا ہر صورت ہزار روپیہ حرام کھا رہا  ہوگا ……..یہ انسانی فطرت ہے.

یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم اپنے سامنے،  اپنی نئی نسل  کو اس ” یرقان زدہ نیوز میڈیا ” کے ہاتھوں  جھوٹ اور چسکے کے نشے میں مبتلا ہوتا دیکھ رہے ہیں اور کچھ نہیں کر پا رہے اس وقت یہ نسل  اسی نیوز میڈیا کی صحبت سے متاثر ہو کر معلومات کی طرف کم  مگر افواہ سازی اور فوٹو شاپ کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے  مگر ایک وقت آ ئے گا کہ اس جھوٹ ، بے یقینی ، مایوسی اور افواہ سازی کے مینارے پر قائم بت کو ہمیں اپنے ہاتھوں توڑنا پڑے گا مگر اس وقت تک شاید  بہت دیر ہوجائیگی اورواپسی کا راستہ  بھی بند ہوچکا ہوگا.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے