ہفتہ , 23 جنوری 2021
ensdur

پاکستان پیپلزپارٹی جہد مسلسل (دوسری قسط) | نذیر ڈھوکی 

تحریر: نذیر ڈھوکی

فوجی آمر جنرل ضیا کی آمریت انتہائی اور بے شرم آمریت تھی اس نے سیاسی شعور اور جمہوری آزادی کو بے رحمی سے پامال کیا انہوں نے میڈیا ہاوسز کے مالکان کو تو خرید لیا مگر جمہوریت پسند صحافیوں کو عتاب کا نشانہ بنایا، جیالوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں پر بھی جبر کا ہر حربہ استعمال کیا، اس سفاک اور بے رحم آمریت میں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کیلیئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید حوصلے اور استقامت کی علامت رہیں ، یہ کہنا بھی بیجا نہ ہوگا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید دنیا بھر میں آمریتوں سے آزادی کیلئے لڑنے والوں کیلئے مشعل راہ تھیں ، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اقتدار کے لالچی اور خود غرض جنرلوں کی ننیدیں حرام کردی تھیں، اس زمانے میں انقلابی اور مزاحمتی ادب اور شاعری کا محور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید تھیں، یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو ذہنی اذیت دینے کیلئے پی پی پی کے جیالوں کو عتاب کا نشانہ بنانے والوں نے جناب آصف علی زرداری کو نشانہ بنانا شروع کردیا ، جس کیلیئے آصف علی زرداری پہلے ہی ذہنی طور تیار تھے کیونکہ انہیں شہید بھٹو کے داماد اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے شریک حیات ہونے کی قیمت ادا کرنی تھی ، جو آصف زرداری نے زندگی کے سنہری اور بہترین دن قید کی نظر کردیئے۔

آصف علی زرداری قید میں رہے ، جیالوں کو شرمندہ نہیں کیا ، ان کی رگوں میں ایک بھادر باپ کا خون تھا ، جب صدارت کے منصب پر بیٹھے تو شہید قائد عوام کے داماد ہونے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانشین کا حق بھی ادا کیا ، جناب آصف علی زرداری کا ماننا ہے کہ ان کی سیاسی استاد محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہیں انہوں نے جمہوری انداز میں جمہوریت سے لڑائی کرنے والوں سے حساب برابر کردیا، صدر زرداری نے اپنے وہ اختیارات جو آمروں نے پارلیمنٹ سے ہتھیائے تھے پارلیمنٹ کو واپس دیکر غیر جمہوری عناصر کو اعصابی شکست دی ، صدر آصف علی زرداری نے 1973 کے آئین کو اصل صورت میں بحال کرکے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی جدوجہد کو فتح سے ہمکنار کیا۔

پانچ سال کی قلیل مدت میں اپنی قائدانہ صلاحیت پر شہید ذوالفقارعلی کے وعدے کے مطابق صوبوں کو خود مختاری بھی دی اور پختون اور گلگت بلتستان کے عوام کو شناخت بھی دی ، یہ صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ان غریب خواتین تک رسائی حاصل کی جو ریاست کے ثمرات کی حقدار تھیں ، انہوں نے آغاز حقوق بلوچستان کے ذریعے ایک نئے عہد کی شروعات کی تھی، سی پیک کا بانی بھی بانی بھی وہ ہیں اور پاک ایران گیس پائپ لائن کے بانی بھی۔

آصف علی زرداری وطن پرست بھی ہیں پاکستانی قوم پرست بھی، وہ جمہوریت کے علمبردار بھی ہیں اور آئین کے نگہبان بھی ، آصف زرداری جمہوریت سے نفرت کرنے والوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھپ رہے ہیں،

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وفاقی حکومت نے گزشتہ 2سال میں 5 ارب ڈالر قرض لیا، سینیٹ میں آگاہی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے دو سال میں  5 ارب ڈالرز کے بیرونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے