جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

پاکستان میں مارننگ شوز | صبحین عماد

تحریر: صبحین عماد

پاکستان میں بڑھتے ہوئے مارننگ شوز کا رجحان ایک دلدل کی طرح بن گیا ہے جو ہمارے معاشرے اور اس معاشرے کے لوگوں کی سوچ کو ایک الگ طرز پر تبدیل کررہا ہے لیکن پاکستانی عوام اس بات سے بے خبر ان مارننگ شوز میں دکھائے جانے والے نازیبہ،بے ہودہ اور حقیقت سے دور چیزوں کو دیکھ کر اپنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

پاکستان میں ڈراموں فلموں کے علاوہ ٹی وی پر نشر ہونے والے مارننگ شوز بھی پاکستان کی خواتین میں کافی مقبول ہیں یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ کچھ خواتین کے دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا مارننگ شو دیکھے بغیرلیکن شاید اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مارننگ شوز میں خواتین کے مسائل اور صحت پر اسقدربات کی جاتی ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی خواتین اس کو دیکھنے پر مجبور ہوجاتی ہیں تاہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

کچھ سالوں سے مارننگ شوز کا کانٹینٹ ریٹنگ کے لیے دوسری جانب ہی چلا گیا ہے اور محض ریٹنگ اور سب سے آگے نکلنے کی دوڑ میں کانٹینٹ بنانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اس عمل سے سامنے والے کے جذبات مجروع ہوئے ہیں یا کسی کی دل ازاری ہوریی ہے ان مارننگ شوز کو دکھتے ہوئے۔

صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں یا تو خواتین گھریلو ظلم و ستم کا شکار ہیں ،یا شادی کے لیے پریشان ہیں یا سب سے بڑھ کر اس ملک میں لڑکیوں کا گورا ہونا اوالین ترجیح ہے۔

مارننگ شوز کے ذریعے ناجانے کیون یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ لڑکیاں گوری ہونگی تو ہی شادی کے قابل تصور کی جائینگی۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے مارننگ شوز کا رجحان ایک دلدل کی طرح بن گیا ہے جو ہمارے معاشرے اور اس معاشرے کے لوگوں کی سوچ کو ایک الگ طرز پر تبدیل کررہا ہے لیکن پاکستانی عوام اس بات سے بے خبر ان مارننگ شوز میں دکھائے جانے والے نازیبہ،بے ہودہ اور حقیقت سے دور چیزوں کو دیکھ کر اپنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جبکہ ان شوز کا مقصد صرف اور صرف اپنے شو کی مقبولیت اور ریٹینگ سے ہے لیکن جب سے ان شوز میں شادیوں کی رجحان نے زور پکڑا اور شو کی ریٹنگ کے لیے ایسی چیزیں دکھائی جانے لگیں۔

جن کا ہمارے معاشرے سے اور عام زندگی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا تو اسی وجہ سے مارننگ شوز کے کئی صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بننے لگے شو میں تفریح کے نام پر ہلڑ بازی اور بے ہودگی کو فروغ ملنے لگا جس کی وجہ سے ان شوز کے شوقین سے زیادہ ناقدین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔

کہیں مارننگ شو کی بات ہو اور ندا یاسر کا نام نہ آئے ایسا ہو نہیں سکتا پاکستان کے مشہور نجی ٹی وی چینل اےآر وائے پر طویل عرصے سے نشر ہونے والے مارننگ شو کو ہوسٹ کرنے والی ندا یاسر اکثر ہی تنقید کا نشانہ بنتی رہتی ہیں اپنے مارننگ شو میں کبھی شادی سیزن کے نام پر برانڈ کو فروغ دینے کی۔

وجہ سے تو کبھی شو میں بلائے مہمانوں سے ان کی زندگی کے حوالے سے ذاتی سوالات کرنے پر اکثر ہی تنقید کی ذد میں آجاتی ہیں۔

ندا یاسر کے شو کا مقصد صرف دوسروں کے ذاتی مسئلوں کو عوام کے سامنے لانا اور اس پر بغیر سوچے سمجھے ذاتی سوالات کرنا وہ اپنا اہم فریضہ سمجھتی ہیں اور اب ایک بار پھر سوشل میڈیا کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جس کی وجہ چند روز پہلے شو میں بلائے جانے والے مہمان اور ان سے کیے جانے والے سوالات ہیں۔

محض شو کی ریٹنگ اور مشہور ہونے کے جنون میں ندا ناسر نے کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی5 سالہ ننھی مروہ کے والدین کو اپنے شو میں مدعو کیا اور ان سے صرف اپنے فائدے اور شو کی ریٹنگ کے لیے وہ ہی سوالات کیے جو ان کے لیے سننا تک تکلیف کا بائث تھے لیکن ندا یاسر اپنے سوالات سے یہ تاثر دیتی رہیں کہ یہ صرف تفصیلات اور ناظرین کی آگاہی کے لیے کیے جارہے ہین جبکہ ندا یاسر کے سوالات پر کئی بار وہ آبدیدہ ہوئے۔

جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اپنی بچی کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے کو بیان کرنا ان کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے ،ندا یاسر کے اس شو کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا اور ندا یاسر کے غم ذدہ والدین سے کرید کرید کر سوالات کرنے پر ندا یادر کو ٹویٹس کہ ذریعے کھری کھری سنائی اور ریٹنگ حاصل کرنے کا انتہائی بھونڈا طریقہ قرار دیا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وزیراعظم عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس …

ایک تبصرہ

  1. Baat to sach hai magar baat hai ruswai ki.. 👍

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے