ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

پاکستان بار کونسل کی آل پارٹیز کانفرنس | حیدر جاوید سید

تحریر: حیدر جاوید سید

گزشتہ روز جب اپوزیشن لیڈر اور نون لیگ کے سربراہ جناب شہباز شریف پاکستان بار کونسل کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ فرما رہے تھے کہ
”ماضی میں کچھ لوگوں نے بغیر مانگے آمروں کو آئینی ترامیم کا اختیار دے دیا تھا”
تو بے اختیار ظفر علی شاہ کیس یاد آگیا۔
اکتوبر1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے میاں نوازشریف کی حکومت کو رخصت کیا تو سید ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں اس اقدام کو چیلنج کر دیا۔
ظفر علی شاہ کیس میں جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کا حق عطا کیا گیا تھا۔
سیاسیات وصحافت کے طلباء ہوں یا تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے سبھی جانتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعدکیا ہوا۔

لیکن تحریر نویس آپ کی توجہ اس امر کی جانب دلانا ضروری سمجھتا ہے کہ کیا پھر نون لیگ نے کسی مرحلہ پر اس غیردستوری فیصلے کو سیاسی یا عدالتی سطح پر چیلنج کیا؟
لیکن تھوڑا سا غور کیجئے تو وہ فیصلہ دینے والے بعض صاحبان بعد ازاں نون لیگ کو اتنے محبوب ہوئے کہ اس نے ان محبوبین کی خاطر میثاق جمہوریت میں پی سی او ججز کے حوالے سے طے شدہ معاملے سے انحراف کرتے ہوئے تحریک چلائی تھی۔
اس تحریک کے دوران ہی امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے بات ہوئی اور پھر ججز بحالی کا فرمان جاری ہوگیا۔
نوازشریف گوجرانوالہ سے واپس جاتی امرا چلے گئے، نون لیگ کے حامی صحافیوں اور اہل دانش کیساتھ آزاد عدلیہ کے علمبرداران نے عوام الناس کو یہ تاثر دیا کہ پی سی او ججز کی فراغت اور افتخار چودھری سمیت معطل ججز کی بحالی سے انصاف کا بول بالا ہوگیا۔
ہم سے طالب علموں نے اس وقت بھی سوال اُٹھایا تھا کہ میثاق جمہوریت میں یہ طے ہوا تھا کہ اکتوبر1999ء کے بعد پی سی او کے تحت حلف لینے والوں کو نظام انصاف کا حصہ نہیں رہنے دیا جائے گا، اس شق کا اطلاق ہر دو مرحلوں پر پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والوں پر ہوتا تھا لیکن عوام کو گمراہ کر کے ایک گروپ کو رخصت کرادینے کو فتح کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ایک گروپ کو طاقت عطا کر دی گئی۔
انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ نون لیگ کی قلابازی کی وجہ جناب خلیل الرحمن رمدے کے توسط سے افتخار چودھری کیساتھ طے پانے والے امور تھے اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ جناب افتخار چودھری کے دور میں کیا ہوا۔
یہاں تک کہ میاں نواز شریف ایک دن کالاکوٹ پہن کر ان کی عدالت میں میموگیٹ والی درخوست لیکر پہنچ گئے۔
اس مقدمہ میں قوانین کے برعکس جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ نے اپنا بیان حلفی وزارت دفاع کی معرفت بھجوانے کی بجائے براہ راست افتخار چودھری کی عدالت میں جمع کروایا۔
تمہیدی سطور کی طوالت درحقیقت کچھ یاد دلانے کی خواہش سے ہوئی، ہمارے سیاسی جماعتوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے کہ وہ آج اگر ماضی کے کسی معاملے یا فیصلے کا حوالہ دیکر آزادعدلیہ اور انصاف کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں تو ایک نظر اپنے ماضی پر بھی ڈال لیں کہ وہ (سیاسی جماعتیں) کب کب مہرے کے طور پر استعمال ہوئیں۔

یہ بجا ہے کہ جناب نوازشریف میموگیٹ سکینڈل اور یوسف رضا گیلانی والے معاملے میں اپنی جماعت کے نادرست کردار کا اعتراف کر چکے، کاش کسی دن وہ خلیل الرحمن رمدے کے توسط سے طے پانے والے معاملات سے پردہ اُٹھاتے ہوئے قوم سے معذرت کریں اور کھلے دل سے تسلیم کریں کہ انہوں نے پی سی اوججز کے حوالے سے میثاق جمہوریت کی شق سے انحراف کیا، بلکہ اپنے انحراف کو جمہوریت اور آزاد عدلیہ کا حسن بنا کر پیش کرنے کیلئے درجنوں اداروں اور افراد میں عیدی تقسیم کی تاکہ وہ ان کی مہم میں پیپلزپارٹی کو ایک عدلیہ منحرف اور جمہوریت پر بوجھ پارٹی بنا کر پیش کریں۔

”عیدی” کی تقسیم کے طریقۂ واردات کو سمجھنا ہو تو2009ء سے2013ء کے درمیان پنجاب کی وزارت اطلاعات اور ڈی جی پی آر کے شعبہ اشتہارات وتشہیر (تشہیر کا مطلب ڈی جی پی آر کی جانب سے معاوضہ پر مضامین لکھوا کر اخبارات میں شائع کروانا ہے) کا آڈٹ کروا لیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
پاکستان بارکونسل کی گزشتہ روز منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ پر دو آراء ممکن نہیں لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر پاکستان بارکونسل اس اعلامیہ کیساتھ قوم کیلئے ایک معذرت نامہ بھی جاری کرتی کہ ماضی میں بارکونسل اور دیگرز نے جمہوری اقدار اور نظام کیخلاف ایک سیاسی جماعت اور افتخار چودھری کا ساتھ دیکر غلطی کی تھی
ایسا ہی نازک معاملہ عدلیہ میں ججز کی تقرری کیلئے پارلیمان کے کردار کے حوالے سے ہے۔
افسوس کہ جب پارلمان کو اس معاملہ میں ہردو اطراف سے دھمکایا جارہا تھا پاکستان بارکونسل اور دیگر بارکونسلز پارلیمان کیساتھ نہیں بلکہ ایک طالع آزما افتخار چودھری کیساتھ کھڑے دکھائی دئیے۔
لاریب ملک میں دستور، قانون، پارلیمان کی بالادستی ہونی چاہئے۔
لوگوں کو بلاامتیاز انصاف ملنا چاہئے، طبقاتی بنیادوں پر ہوئے بہت سارے معاملات نے جہاں لوگوں کو دیگر محکموں سے مایوس کیا، وہیں وہ نظام انصاف پر بھی سوال اُٹھائے جاتے ہیں۔
ان سوالوں کو محروم طبقات کی شکایات کے طور پر دیکھا جانا چاہئے،
صاف سیدھی بات یہ ہے کہ جب تک اس ملک میں پارلیمان کو حقیقی معنوں میں سپریم نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک گھٹالے ہوں گے۔
گھٹالوں اور ناانصافیوں کا راستہ روکنا ہے تو لوگوں اور قانون دانوں کو محکموں کیساتھ نہیں پارلیمان کیساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
تبدیلی اور نظام میں مسلسل بہتری اگر پارلیمان کے توسط سے ہو تو یہ دیرپا ہوگی،
یہی ایک طریقہ ہے جس پر عمل کر کے طبقاتی جمہوریت کے کوچے سے شاہراہ جمہوریت کی سمت بڑھا جا سکتا ہے۔

پاکستان بارکونسل کا اعلامیہ اور قراردادیں لائق تحسین ہیں، کاش ایک قرارداد استحصالی طبقاتی نظام کیخلاف بھی منظور کی جاتی اور یہ عزم بھی ظاہر کیا جاتا کہ بارکونسلز مستقبل میں طبقاتی انصاف اور پی سی او برانڈز کی کسی بھی طور حمایت نہیں کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ “مشرق” پشاور

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے