اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

پاکستانی ڈرامے حقیقی دنیا سے نکل کر خیالی دنیا میں | غانیہ نورین

تحریر: غانیہ نورین

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کھردری اسکرپٹ ، غیر دلچسپ موضوعات ، مکالموں کی آوارگی اور بد تہذیبی کے فروغ کیلئے ڈرامے تحریر کیے جارہے ہیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامے ملک کی گلی محلے کو ویران کردیتے تھے، 70 اور 80 کی دہائی میں نشر ہونے والے انک عرفی ، اے بی سی، روزی ، 50 50 ، دھوپ کنارے ، خدا کی بستی ، عینک والا جن ، تنہایاں ، الف نون جیسے شوز تخلیقی و تکنیکی کرداروں کو ایک مالا میں پرویا جاتا تھا جو اپنی ترتیب میں یکساں دکھائی دیتے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب خاندانی رشتوں کی اہمیت اور خواتین کا کردار مضبوط اور مستحکم دکھایا جاتا تھا،لوگوں کو معاشرے کے حقیقی رنگ اور معاشی و سماجی

مسائل کو روشناس کرایا جاتا تھا۔تاہم حالیہ دنوں میں شروع ہونے والے ڈرامے دیوانگی ، جلن ، نند ، دیوانگی ، مہرپوش ، محبت تجھے الوداع ، مہرپوش ، راز الفت کے ٹریلر دیکھ کر ہی شرم آنے لگتی ہے۔

پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں انٹرٹینمنٹ چینلوں بہتات سے توقع کی جارہی تھی کہ یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) کی روایت کو برقرار رکھے گے لیکن ماجرہ اس کے برعکس نکلا۔

اردو ڈراموں میں جہاں روایات ، رسم و رواج ، ثقافت ، سماجی و معاشی پہلو کے مسائل ، علم ، فکر ، تخلیق اور حقیقت کی جگہ صرف عشق و محبت کی افسانوی کہانیاں ہی زیر بحث رہ گئے ہیں وہیں متعدد ڈراموں میں موضوع اور مکالموں کی چربہ سازی عروج پر ہے تو دوسری طرف مقدس رشتوں کی پامالی بھی زوروشور سے جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ڈرامے اپنے دقیانوسی مواد کے باعث ساکھ کھونے کی راہ پر گامزن ہے ورنہ پاکستانی ڈرامہ نگاروں کے پاس تاریخی اور انسانی حقوق سے جڑی ان گنت کہانیاں موجود ہیں جو ہمارے ذہنوں کو جنجھوڑ سکتے ہے۔

کیونکہ ہمارے انہی ڈرامہ نگاروں نے پاکستانی انڈسٹری کو داستان ، زندگی گلزار ہے، چیخ ، اڈاری ، یقین کا سفر، الف، درہ شہوار ، ہمسفر، میری ذات ذرہ بے نشان ، مات ، دام ، صدقے تمہارے جیسے ڈرامے بھی دیے ہیں جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے