منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

پاکستانی قوم اور اختلاف رائے کا احترام | فرحان شر

تحریر: فرحان شر

آپ نے میرے موضوع سے اندازہ تو لگا لیا ہوگا کہ ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے صرف (چند لوگوں کو چھوڑ کر)۔ لیکن باشعور قومیں نہ صرف اختلاف رائے کا احترام کرتی ہیں بلکہ مخالف سے اس پر ذاتی دشمنی بھی نہیں کرتے ہیں۔ باشعور قومیں ہمیشہ اپنے مخالفین کو نہ صرف اپنا نظریے کو پیش کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کا احترام بھی کرتی ہیں ۔ پھر چاہیے وہ مذہبی اختلاف رائے یا سیاسی یا کوئی اور ۔ آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ یہ ایک دوسرے پر الزامات بھی نہیں لگاتے ہیں یقیناً یہ حیران گن بات لیکن سچ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف دوسرے مذہب کا احترام بھی کرتے ہیں بلکہ ان کے خوشی و غم اور تہواروں میں بھی بلا کسی تفریق کے ساتھ ہوتے ہیں اور سیاسی مخالف سے بھی عزت و احترام کے ساتھ گفتگو کی جاتی ہے۔

لیکن یہ سب چیزیں پاکستان سے میلوں دور ہیں اور یہاں تک کہ انکے تو آثار بھی نظر نہیں آتے ہیں۔ کیونکہ چند لوگوں کے ذہن قابلِ تعزیت ہے وہ لوگ مر چکے ہیں ان کی روح پرواز کر چکی ہے بس انکے جسم زندہ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں پر اختلاف رائے پر کبھی کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں تو کبھی ملک دشمن کا لیبل لگایا جاتا ہے۔ جو مرضی الزام ایک مخالف دوسرے مخالف پر لگائے؛ چور کہے، کرپٹ کہے، ملک دشمن کہے، آنڈین یا امریکی ایجنٹ کہے، جاہل کہے یا پھر مخالف کے نظریے کو برا بلا کہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم حقیقت پنسد نہیں ہے بلکہ انا پرست ہیں۔ ہم خود کو خدا کی طرح درست سمجھتے ہیں اور مخالف کو فرعون کی طرح غلط ۔ اور پھر اسی سوچ میں مخالف سے نفرت شروع ہوجاتی ہے۔بات تو کبھی کبھار لڑائی جکڑے تک چلی جاتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ سخت گفتگو بھی ہوتی ہے کہ اپنے مخالفین کے لیے صحیح زبان کا استعمال نہ کرنا جو بلکل غلط ہے۔ جبکہ رائے تجربے سے بنتی ہے لیکن یہاں پر رائے کو ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے غلط ہونے کا خدشہ دل و گمان سے نکال دیا جاتا ہے۔

یہ بحث و مباحثہ کا اصول ہے کہ اپنے مخالف کی بات خاموشی سے سنی جائے اور اس کا احترام کیا جائے۔ اس غلط فہمی میں رہنا کہ آپ کی رائے بلکل درست ہے بے وقوفی سے کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ رائے وقت کے ساتھ مضبوط یا کمزور ہوتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ میرے پہلے پیرا میں لکھے جملے ( چند لوگوں کو چھوڑ کر) میں پوری قوم سما جائے گی لیکن کوئی خود کو غلط کہہ کر درست کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ کیونکہ ہم انا کے مریض ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے